چچا چھپن(56)
ڈاکٹر مبین نذیر)مالیگاؤں مہاراشٹر(
آپ نے نہیں تو آپ کے ممی پاپا نے چچا چھکن کے کارنامے ضرور پڑھے اور سنے ہوں
گے ۔ کبھی موبائل سے فرصت ملے تو ان کے
کارنامے ضرور سننا ۔ چچا چھکن اب رہے نہیں لیکن ان کی وراثت ان کے قابل بھتیجے چچا
چھپن سنبھالے ہوئے ہیں ۔چچا چھکن کے بعد اگر کسی نے خاندان کی عزت بچائی ہے تو وہ
ہمارے چچا چھپن ہیں ۔چچا چھکن کی طرح چچا چھپن کا اصل نام بھی ان کے کارناموں کے نیچے
اتنا دب دیا گیا کہ خود انھیں بھی اپنا نام یاد نہیں رہتا ۔ وہ پانچ بہنوں اور چھ
بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔ ایک مرتبہ اسکول میں خاندانی معلومات کا فارم
بھر کر لانے کے لیے دیا گیا تو چچا پانچ کے آگے چھ لکھ کر لے آئے ۔ ٹیچر نے
چھپن کا عدد دیکھا تو حیرت سے پوچھا کہ،’’چھپن بھائی بہن ؟‘‘
’’نہیں، پانچ بہن اور چھ بھائی۔۔۔۔۔‘‘
اتنا کہنا
تھا کہ پوری کلاس قہقہوں سے گونج اٹھی ۔ اسی دن سے ان کا نام چھپن پڑ گیا ۔ کلاس تو کلاس، محلے میں بھی وہ
اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ چونکہ چچا چھکن کے بھتیجے تھے، اس لیے اپنے چچا کے ہم
وزن نام کو خوش دلی سے قبول کر لیا ۔ کچھ اور بڑے ہوئے تو چچا چھپن کہلانے لگے اور
ہر معاملے میں چھپن کو مقدم کرکے دکھا دیا ۔
چچا نے بہت کوشش کی کہ نکاح بھی چھپن تاریخ کو ہی کریں اور کسی چھپن سالہ دوشیزہ
سے کریں مگر قسمت نے ساتھ نہیں دیا تو پانچ جون کو چچی کو ہی قبول کر لیا ۔بائک خریدی
تو اس لکی نمبر کے لیے زائد پیسے ادا کیے ۔ موبائل نمبر بھی ایسا پسند کیا جو
موبائل نمبر کم اور چھپن کی سیریز زیادہ معلوم ہوتا تھا ۔ ورزش شروع کی تاکہ سینہ
چھپن انچ کا ہوسکے ۔ سینہ تو چھپن انچ کا نہیں ہوسکا البتہ وزن کم ہوکر چھپن کلو
رہ گیا ۔وزن میں کمی بیشی نہ ہو اس لیے چچا ترازو لے آئے اور صبح شام وزن چیک کرنے
لگے۔
جس دن وزن کم یا زیادہ ہوتا اس دن چچا کا پارہ چڑھ جاتا اور چچی سمیت بچوں کی
شامت آجاتی ۔ کبھی وزن بڑھانے کے لئے ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں تو کبھی وزن کم کرنے
کے لیے حکیم صاحب کے یہاں چکر لگارہے ہیں ۔ وزن کے چکر میں کمزوری بڑھنے لگی تو
مزاج میں چڑ چڑا پن آگیا ۔ معمولی باتوں پر ان کا پارہ چھپن ڈگری اوپر چلا جاتا تو
دوسرے ہی پل اتنا ہی نیچے جانے کے لیے بے تاب ہوجاتا ۔ مزاج اور یادداشت کے معاملے
میں وہ چچا چھکن سے دو قدم آگے تھے ۔
اپنے جڑواں بچوں جمن اور اچھن کی بائک لینے کے لیے گھر سے نکلے اور دونوں کو
لے کر سائیکل کی دکان پر پہنچ گئے ۔ بچوں کے یاد دلانے پر شوروم پہنچے تو بچوں کو
نئی بائک دلادی لیکن گاڑی کے رجسٹریشن کے لیے خود تشریف لے گئے اور چھپن چھپن نمبر
کے لیے زائد رقم ادا کی ۔
جب بچوں نے
وہی گھسا پٹا نمبر دیکھا تو ناک بھوں سکوڑے ۔کیوں کہ کالج میں دوست انھیں اس خاص
نمبر کے اہتمام کی وجہ سے تنگ کرتے تھے ۔ چچا چھپن نے اعلان کر دیا کہ گاڑی کا
نمبرپسند نہیں ہے تو پیدل ہی کالج جائیں ۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق جمن اور اچھن
نے بائک تو لے لی لیکن نمبر پلیٹ اس طرح بنوائی کہ چھپن بڑے غور سے دیکھنے پر
دکھائی دیتا تھا ۔
چچا کو ترکہ ملا تو چچا چھپن نے پلاٹ خریدنے کی ٹھانی ۔ سارا کنبہ پلاٹ دیکھنے
گیا مگر چچا کی نگاہ میں پلاٹ کے محل وقوع سے زیادہ اہمیت اس کے نمبر کی تھی۔ چچی
اور بچوں کو لب ِ سڑک کا پلاٹ پسند آیا تو چچا نے نشیب میں واقع اپنے پسندیدہ نمبر
کا پلاٹ پسند کیا ۔ چچی کا پسند فرمودہ پلاٹ کارنر کا پلاٹ تھا ۔لیکن چھپن کے
کرشماتی نمبر کی وجہ سے چچا نے آخری پلاٹ کا سودا کرلیا ۔ جہاں ہر وقت بارش کا پانی
اور گندگی جمع رہتی تھی ۔ چچا نے اس کی یہ فضیلت بیان کی کہ گندگی اور کیچڑ کی وجہ
سے کوئی اس پلاٹ پر ناجائز قبضہ نہیں کرسکے گا اور نہ ہی کوئی ایسا پلاٹ خریدے گا
اور ہم اسٹیٹ بروکرس کی دھوکہ دہی سے محفوظ رہیں گے ۔ چچا کی اس منطق پر اسٹیٹ
بروکر جو اس پلاٹ کو دکھا رہا تھا ، صدمے کی وجہ سے گرتے گرتے بچا اور گھر والے
مسکرا کر رہ گئے ۔ چچی کے دماغ پر بھی چھپن کا عدد کچھ اس طرح سے سوار تھا کہ وہ
کبھی کبھی بے خیالی میں اچھن کے ابا کی بجائے چھپن کے ابا پکار اٹھتی تھیں اور چچا
بجائے ناراض ہونے کے کھل اٹھتے تھے ۔ البتہ چچی چچا کے اس محبوب نمبر کو اپنی سوتن
سمجھتی تھیں ۔ چچا کی چھپن دوستی پر کڑھ کر کہہ اٹھتیں، "آپ کو مجھ سے زیادہ
تو یہ چھپن عزیز ہے۔
چچا مسکرا کر کہتے ، نہیں بیگم، ایسا نہیں ہے ۔ تم میری محبت ہو اور چھپن میری
عقیدت اور چچی شرما کر رہ جاتیں ۔
جمن اور اچھن
میں سے جس کو امتحان میں چھپن مارکس ملتے تھے چچا اسے زیادہ انعام دیتے تھے ۔
دونوں بھائیوں نے چچا سے پیسے اینٹھنے کا یہ طریقہ دھونڈ نکالا کہ جو چیز پسند
آجاتی، اس کی قیمت چھپن روپے بتاتے اور چچا موم ہوجاتے ۔ البتہ چچا کا ساری زندگی یہ
معمول رہا کہ مغرب کی اذان کے بعد کسی کو ایک روپیہ بھی نہیں دیتے تھے ۔ بچے بھی
مغرب سے پہلے ہی وصولی کر لیتے تھے ۔
چچا چھپن کے
کارناموں کی تعداد بھی چھپن ہے ۔ چھپن کارناموں کے بعد چچا نے کارناموں سے توبہ
کرلی تاکہ یہ نمبر کہیں کھو نہ جائے ۔اگر ہم چچا چھپن کے چھپن کارناموں کو گنوانے بیٹھیں تو چھپن دفتر درکار
ہوں گے ۔ اگر چچا چھکن زندہ ہوتے تو یقیناً اپنے بھتیجے کے کارناموں کو دیکھ کر یہی
کہتے کہ تم نے نہ صرف ہمارے نام بلکہ کام کی بھی لاج رکھ لی ہے ۔
#Chacha-56





