=" Urdu Kahaniyan (AreeB)

Hakeem ki chalaki

 انتخاب: انصاری اریب نوشاد علی

حکیم کی چالاکی

 

ایک مچھیرا بہت غریب تھا۔ وہ روزانہ دریا پر جاتا اور مچھلیاں پکڑ کراپنے بچوں کا اور اپنا پیٹ پالتا ۔کسی دن بہت ساری مچھلیاں پکڑی جاتیں تو وارے نیارے ہو جاتے اور بعض دن تو کچھ بھی ہاتھ نہ آتا تو غریب مچھیرے اور اس کے بچوں کو بھوکا اور پیاسا ہی سونا پڑتا۔ مچھیرے کا ایک اصول تھا کہ وہ دریا میں صرف تین مرتبہ جال ڈالتا اگر اس میں کچھ ہاتھ لگ جاتا تو بہت خوب ور نہ واپس آجاتا ۔

 اسی طرح غریب مچھیرے کے دن گزر رہے تھے ۔ ایک دن مچھیرا دریا پر گیا اور اللہ کا نام لے کر دریا میں جال ڈال دیا جال ایک دم بہت بھاری اور وزنی معلوم ہوا پھر بہت خوش ہوا کہ ضرور کوئی بھاری اور موٹی سی مچھلی ہاتھ لگی ہے اور اس کو بیچ کر بہت سے روپے ہاتھ لگیں گے لیکن جب مچھیرے نے جال باہر نکالا تو اس کی مایوسی کی انتہا نہ رہی کیونکہ جال میں مچھلیوں کی بجائے بہت سا کیچڑ پھنسا ہوا تھا۔ اب تو مچھرا بہت مایوس ہوا اور پھر ایک مرتبہ اور دریا میں ذرا آگے کر کے جال پھینکا۔ جال دریا کے اندر چلا گیا۔ مچھیرے نے جال کو جھٹکا دے کر دیکھا، جال وزنی معلوم ہو رہا تھا۔ مچھیرے کی بانچھیں کھل گئیں کیونکہ اسے بہت امید ہو چلی تھی کہ اس دفعہ جال میں بہت سی مچھلیاں ہوں گی۔

جن سے وہ گھر کا خرچہ چلا سکے گا۔ خیر اس نے زور لگا کہ جال باہر نکالا لیکن اس مرتبہ بھی اس کی مایوسی اور غم کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ جال میں بہت سے پتھر بھرے ہوئے ہیں مچھیرا بہت دل برداشتہ ہوا لیکن پھر بھی تیسری اور آخری مرتبہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر بولا " اے اللہ ! اگر آج تو چاہتا ہے کہ میرے بچے بھوکے اور پیاسے سو جائیں تو پھر ایسا ہی سہی! یہ کہہ کر اس نے پوری قوت سے جال کو چکر دیا اور دریا میں پھینک دیا۔ جال دریا میں جا گرا اور زور دار آواز پیدا ہوئی اور جال دریا کے پانی میں غائب ہو گیا۔ مچھیرے نے تھوڑی دیر انتظار کیا اور پھر آہستہ آہستہ کر کے جال کو دریا سے باہر کھینچنا شروع کر دیا لیکن اس دفعہ جال میں وہ وزن نہیں محسوس ہو رہا تھا جو کہ پچھلی دو مرتبہ محسوس ہوا تھا پھر بھی یہ ضرور محسوس ہو رہا تھا کہ جال میں کوئی نہ کوئی چیز ضرور موجود ہے آخر مچھیرے نے ایک جھٹکے سے جال کو دریا سے باہر نکال لیا۔ اس نے دیکھا کہ جال میں ایک بڑی اور چپٹی سی بوتل پھنسی ہوئی ہے۔ مچھیرے نے کچھ حیرت اور کچھ تعجب سے دیکھا۔

اس نے سوچا کہ شاید اس بوتل میں کوئی قیمتی چیز ہو۔ یہ خیال کر کے مچھیرے نے بوتل کو جال سے نکال لیا اور اس کا ڈھکنا کھولنا چاہا لیکن ڈھکنا بہت مضبوطی سے بند کیا گیا تھا، آسانی سے کھل نہیں رہا تھا۔ آخر مچھیرے نے زور لگا کر جھٹکا جو دیا تو بوتل ایک دم کھل گئی اور اس میں سے دھواں نکلنے لگا مچھیرا حیران ہو کر بوتل کو دیکھنے لگا کہ اس میں سے یہ دھواں کیسا نکل رہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دھواں ایک خوفناک جن کی شکل اختیار کر گیا اور وہ جن کہنے لگا "اے بادشاہ سلیمان ! آپ مجھے معاف کر دیں آئندہ میں کبھی ایسی غلطی نہیں کروں گا۔

 ماہی گیر پہلے تو بہت خوفزدہ ہوا لیکن جن کے الفاظ سن کر وہ رک گیا۔ اس نے کہا " اے جن! مجھے معلوم ہے کہ حضرت سلیمان کا زمانہ تو بہت پرانا تھا لیکن اب تم ان سے کس بات کی معافی مانگ رہے ہو، کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم کون ہو ؟ " جن نے سُرخ سُرخ آنکھوں سے مچھیرے کو دیکھا اور بولا " اے بے ادب ! حضرت سلیمان کا نام ذرا تمیز سے لے اور اپنے آخری وقت جیسے یاد کرنا ہے کرلے،میں تجھے قتل کر نیوالا ہوں: ماہی گیر بولا " بھائی ! میں نے تمہیں کیا نقصان پہنچایا ہے کہ تم مجھے قتل کرنے پر تیار ہو گئے حالانکہ تم کئی سو سالوں سے اس جگہ بند پڑے تھے اور اب مجھے قتل کر نا چاہتے ہو " جن نے کہا "بے شک ! تم نے مجھے رہا کیا ہے لیکن میں نے قسم کھائی ہے جب حضرت سلیمان نے ناراض ہو کہ مجھے اس بوتل میں قید کیا۔ میں نے قسم کھائی کہ سو سال میں جو مجھے اس بوتل سے آزاد کرے گا میں اسے بادشاہ بنا دوں گا لیکن مجھے کسی نے اس قید سے آزاد نہیں کیا۔ پھر میں نے قسم کھائی کہ جواب دو سو سال میں مجھے آزاد کرے گا میں ساری دنیا کے خزانے اس کے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا لیکن پھر بھی کسی انسان نے مجھے آزاد نہ کیا. اب میں تنگ آچکا لہذا میں نے اب قسم کھائی کہ اب جو بھی مجھے اس بوتل سے باہر نکالے گا میں اسے قتل کر دوں گا۔ چنانچہ اب تم نے مجھے آزاد کرایا ہے اور میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ مچھیرا بہت پریشان ہوا کہ وہ بیٹھے بٹھائے کس مصیبت میں پھنس گیا۔

 آخر اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ وہ جن سے بولا ٹھیک ہے، میں تیرے ہاتھوں قتل ہونے کو تیار ہوں لیکن پہلے تجھے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ تم جو کہہ رہے ہو وہ سچ ہے یا جن حیران ہو کر بولا گیا مطلب ہے تمہاری بات کا ؟ مچھیرا بولا یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تم مجھے قتل کرنے کے بہانے یہ کہانی سنارہے ہوا جن غصے میں آکر بولا " تمہارا مطلب ہے میں یہ جھوٹ بول رہا ہوں اور تم مکاری کر رہا ہوں ۔ مچھیرا مکاری سے بولا " سچ پوچھو تو مجھے یہی معلوم ہوتا ہے ور نہ سوچنے کی بات ہے کہ تمہارے جیسا بڑا جن اس چھوٹی سی بوتل میں کس طرح آگیا، جتنی بڑی یہ بوتل ہے اس میں تو میرا ایک بھی پاؤں نہیں آسکتا پھر تم کیسے سما گئے ، جن مزید غصے میں آکر بولا " لو یہ کون سی بڑی بات ہے میں تمہیں اس بوتل میں پھر داخل ہو کہ دکھا سکتا ہوں، پھر تو تمہیں میری بات کا یقین آجائے گا ۔ ہاں ! پھر مجھے تمہاری بات کا یقین آجائے گا ۔ مچھیرا سر ہلا تا ہوا بولا لیکن اس کے بعد میں تمہیں قتل کر دوں گا کیونکہ میں قسم کھا چکا ہوں ۔ جن نے یاد دلایا۔ مچھیرا جن کی حماقت پر دل ہی دل میں ہنستا ہوا بولا" بالکل ٹھیک ہے، مجھے یہ بھی منظور ہے ۔ اب جن ایک مرتبہ پھر دھویں میں تبدیل ہوا اور بوتل میں چلا گیا ۔

 جن کا بوتل میں داخل ہونا تھا کہ مچھیرے نے جلدی سے لپک کر بوتل کے اوپر حضرت سلیمان والی مہر لگادی ۔ جن اب ایک مرتبہ پھر بوتل میں قید ہو چکا تھا۔ جب جن کو مچھرے کی چالاکی کا علم ہوا تو وہ گڑ گڑانے لگا اے مچھیرے مجھے معاف کر دے میں تو صرف تجھے ڈرا رہا تھا ورنہ میرا مقصد تجھے قتل کرنا نہیں تھا۔ اب مجھے باہر نکال دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی انسان کو تنگ نہیں کر وں گا۔ مچھیرا کہنے لگا " تجھے معاف نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ تو نے بالکل وہی کام کیا ہے جو ایک یونانی بادشاہ نے حکیم لقمان کے ساتھ کیا تھا۔

 کون سا کام ہے جن نے کہا ۔ مجھے حکیم اور بادشاہ والی کہانی ضرور سُناؤ مچھیرے نے کہا میں تمہیں یہ کہانی ضرور سناؤں گا کیونکہ وہ بادشاہ بھی تمہاری طرح احسان فراموش تھا یہ مچھیرا تھوڑی دیر رکا اور پھر بولنے لگا۔ ایک دفعہ یونان کا بادشاہ ایک بہت خطرناک بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے بہت سے حکیموں اور طبیبوں سے علاج کرایا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ تمام حکیموں نے جواب دے دیا کہ اگر کچھ عرصہ تک بادشاہ اسی طرح بیماری میں مبتلا رہا تو اس کی موت یقینی ہے۔

ایک دن بادشاہ کو معلوم ہوا کہ ایک حکیم لقمان ہے اس کے پاس تقریباً ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔ اگر بادشاہ اپنا علاج اس سے کرائے تو ضرور صحت یاب ہو سکتا ہے ۔بادشاہ نے اپنی فوج کے آدمی روانہ کر دیتے کہ حکیم لقمان کو اس کے دربار میں حاضر کیا جائے حکیم لقمان کو بادشاہ کے علاج کیلئے دربار میں پیش کیا گیا۔ لقمان حکیم نے بڑی توجہ سے بادشاہ کا معائنہ کیا اور بولا آپ بالکل فکر نہ کریں آپ کی بیماری کا علاج میرے پاس موجود ہے۔ بادشاہ خوش ہو کر بولا اگر تم میرا علاج کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میں تمہیں انعام سے مالا مال کر دوں گا۔ حکیم لقمان نے جواب دیا حضور مجھے انعام کا لالچ نہیں ہے۔ میں تو بس آپ کی صحت چاہتا ہوں۔ آپ کی بیماری کے لئے جس دوا کی ضرورت ہے اسے تیار کرنے میں چند دن لگیں گےاور پھر اس کے استعمال سے آپ کی بیماری جاتی رہے گی۔ بادشاہ نے حکیم لقمان کو انعام دے کر رخصت کر دیا۔

AreeBTLM


 چند روز بعد حکیم لقمان بادشاہ کے پاس ایک گیند لیکر آیا اور بولا حضور ! آپ میدان میں جا کر خوب دوڑ لگائیں اور جب خوب تھک جائیں اور سارے جسم سے پسینہ بہنے لگے تو اس گیند کو جسم پرمل کر نہا لیں۔ انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ اس کے بعد آپ بالکل تندرست اورر صحت یاب ہو جائیں گے ۔ بادشاہ نے گیند لے لی اور اس دن میدان میں خوب دورا اتنا دوڑا کہ جسم پسینے سے شرابور ہو گیا۔ اب بادشاہ نے حکیم لقمان کی ہدایت کے مطابق اس گیند کو جسم پر ملااور تھوڑی دیر بعد گرم پانی سے اچھی طرح نہا لیا ۔ در اصل اس گیند میں ایک دوائی بھری ہوئی تھی جومساموں کے ذریعے جسم میں داخل ہو گئی تھی۔

غسل کرنے کے بعد بادشاہ نے اپنے جسم میں ایک نئی قوت اور توانائی محسوس کی اور ایک آدھ روز میں اس کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ اب تو بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس نے حکیم لقمان کو بلا کر انعام سے مالا مال کر دیا ۔

بادشاہ کا وزیر بہت کمینہ پرور تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ بادشاہ حکیم پر بہت مہربان ہے تو اس نے بادشاہ کے کان بھرے کہ یہ حکیم مجھے دشمن کا جاسوس معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کے راز معلوم کرنے کے لئے اس نے آپ کی جان ہے۔

مکار وزیر نے بادشاہ کے ایسے کان بھرے کہ اس نے حکیم کو بلایااور سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس حکیم کا سر قلم کردو ۔ جب حکیم سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا " میرے گھر کی الماری میں ایک کتاب رکھی ہے، اسے لایا جاتے ہیں وہ بادشاہ کو پڑھوانا چاہتا ہوں ۔ کتاب لائی گئی لیکن جب بادشاہ نے کتاب کو پڑھنا چاہا تو اس کے صفحے جڑےہوئے تھے۔ بادشاہ نےانگلی گیلی کر کے صفحے علیحدہ کئے۔ ہر صفحے پر زہرلگا ہوا تھا۔ یہ زہر تھوک کے ساتھ بادشاہ کے اندر چلا گیا اور وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا ۔ حکیم نے کہا " اگر بادشاہ مجھے مروانے کی کوشش نہ کرتا تووہ خود نہ مرتا یہ کہانی سنا  کر مچھیرا بولا" اگر تو مجھے قتل کرنے کی خواہش نہ کرتا تو اس مصیبت میں نہ پھنستا۔

 جن اس کہانی سے بہت متاثر ہوا اور پھر حضرت سلیمان کی قسم کھا کہ بولا کہ اگر مچھیرے نے اسے یہ رہا کردیا تو وہ اسے مالا مال کر دیگا۔ مچھیرے نے جن کو رہا کر دیا۔ اس پر جن نے خوش ہو کر مچھیرے کو اس قدر دولت دی کہ اس کی کئی نسلوں کے لئے کافی تھی ۔

ختم شُد

#Hakeem ki chalaki #Urdustory #AreeBTLM #Naushadali19881

Shahzada Jan-e-Aalam

 شہزادہ جانِ عالم (کہانی)

شہزادہ جانِ عالم

پُرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک یمن میں ایک بہت انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ رعایا بہت خوش تھی، ہر طرف خوشحالی تھی اور لوگ اپنے بادشاہ کو دعائیں دیتے تھے ۔ یوں تو بادشاہ کو دنیا کی ہر دولت میسر تھی لیکن اس کی کوئی اولاد نہ تھی جس کی وجہ سے بادشاہ بہت اُداس رہتا تھا کہ اگر وہ مرگیا تو اس کے بعد گھر بار اور تخت تاج کا کیا بنے گا ۔

آخر بہت سی دُعاؤں اور منتوں کے بعد بادشاہ کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ بادشاہ نے اس کا نام شہزادہ جان عالم رکھا۔ شہزادہ جان عالم اس قدر خوبصورت تھا کہ جو بھی دیکھتا سبحان اللہ کہہ اٹھتا۔ شہزادہ جان عالم ذرا بڑا ہوا تو اسے مختلف علوم و فنون سکھانے کے لئے بہت سے استاد مقرر کئے گئے۔ تھوڑے عرصے میں شہزادہ جان عالم اس قدر عمدہ تلوار اور نیزہ چلانا سیکھ لیا کہ جو بھی دیکھتا عش عش کر اٹھتا اور دنگ رہ جاتا کہ اتنا سالڑکا بجلی کی تیزی سے تلوار چلاتا ہے

شہزادہ جانِ عالم جب جوان ہوا تو اس کی خوبصورتی اور علم کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ در حقیقت شہزادہ جان عالم اس قدرخوبصورت تھا کہ جو بھی اسے دیکھتا دانتوں میں انگلی دبا لیتا اور کہتا کہ اس نے اس سے زیادہ خوبصورت نوجوان آج تک نہیں دیکھا۔

ایک دن شہزادہ جان عالم شہر کی سواری کو نکلا۔ اس نے دیکھا کہ ایک چوک پر لوگوں کا ہجوم لگا ہوا ہے ۔ شہزادے کو اشتیاق ہوا کہ دیکھیں کیا قصہ ہے جو اتنے لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں۔ شہزادے نے قریب جا کر دیکھا تو ایک بہت عمر رسیدہ آدمی نظر آیا۔ اس نے ہاتھ میں ایک پنجرہ اٹھا رکھا تھا جس میں ایک طوطا تھا۔ یہ طوطا لوگوں کو بڑی شائستگی سے عمدہ عمدہ قصے اور لطیفے سنا رہا تھا، اور لوگ اس کے قصے سن کر واہ واہ کر رہے تھے ۔

شہزادہ جانِ عالم اس طوطے کو دیکھ کر رک گیا اور گھوڑے سے اُترا اور مجمع کے قریب آیا۔ شہزادے کو دیکھ طوطا چہکا" اے بھئی! مد اری آج تیری قسمت جاگ اُٹھی کہ ایک شہزادہ خود تیرے پاس چل کر آیا ہے۔ شہزادہ طوطے کے انداز بیان پر بہت خوش ہوا اور بوڑھے مداری سے پوچھنے لگا کیوں اے بزرگ ! اس طوطے کی کیا قیمت ہے ؟ مداری نے تو جواب نہیں دیا البتہ طوطا بولا " قدردان کے نز دیک شئے کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ۔" یہ بات سن کر شہزادہ اور زیادہ متاثر ہوا اور بوڑھے مداری کو اشرفیوں سے مالا مال کر کے طوطے کو خرید لیا۔

شہزادہ طوطے کو اپنے محل میں لے آیا۔ طوطا خوب مزے مزے کی باتیں کرتا تھا، دیس دیس کے قصے سناتا رہتا تھا جنہیں شہزادہ بہت شوق سے سنتا تھا۔ شہزادہ جانِ عالم کو اپنی خوبصورتی پر بہت ناز تھا۔ ایک دن وہ نہا دھو کر نئی پوشاک پہن کر طوطے کے پاس آکھڑا ہوا جس نے بھی اسے دیکھا اس کی خوبصورتی کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا مگر طوطا چپ رہا اس نے کچھ نہ کہا۔ آخر شہزادے سے نہ رہا گیا وہ بولا : کیا بات ہے ؟ اےطوطے ! تم نے میری تعریف میں کچھ نہیں کہا ؟ طوطے نے جواب دیا " حضور ! آپ بے شک بہت حسین ہیں لیکن میں پھر بھی اس بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا کیوں کہ آپ برا مان جائیں گے۔"  شہزادے نے جلدی سے کہا " تم کہو، یقین مانو ہم قطعاً ناراض نہیں ہوں گے؛ طوطا بولا " حقیقت معلوم کرنا چاہتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ اگر میں نے دنیا میں کسی کو حسین دیکھا ہے تو وہ شہزادی حسن آرا ہے۔ اس کا حسن دیکھ کر تو چاند سورج شرما جاتے ہیں، پریوں کا رنگ رُوپ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ شہزادی حسن آرا کی کنیزیں بھی اس قدر خوبصورت ہیں کہ کوئی عام عورت انہیں دیکھ لے تو حسد کے مارے جل جائے۔"



طوطے نے شہزادی حسن آرا کے بارے میں اس قدر تعریفیں کیں کہ شہزادہ بے چین ہو گیا اور فیصلہ کر لیا کہ وہ شہزادی حسن آرا کو ضرور دیکھے گا۔ شہزادہ جانِ عالم نے طوطے سے پوچھا کیا تم شہزادی حسن آرا کے ملک کا راستہ جانتے ہو ؟" طوطے نے جواب دیا " میں تمام راستہ جانتا ہوں اور آپ کو وہاں لے جا سکتا ہوں لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ وہاں جانے کا فیصلہ نہ ہی کریں تو بہتر ہے کیونکہ شہزادی حسن آرا کے ملک کا راستہ بہت دشوار گزار ہے اور راستہ میں اس قدر مشکلات ہیں کہ جان کا بھی خطرہ ہے ۔ لیکن شہزادہ جان عالم کے سر پر شہزادی حسن آرا کو دیکھنے کا اس قدر شوق سوار تھا کہ اس نے فیصلہ کر لیا کہ چاہے اس سفر میں اسے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ پیش آئیں وہ اس سفر پر روانہ ضرور ہو گا۔ آخر ایک دن شہزادہ اپنے چند جانثاروں اور اس طوطے کو لیکراس سفر پر روانہ ہو گیا۔ ان کا قافلہ طوطے کی بتائی ہوئی سمت کی طرف تیزی سے اُڑا جا رہا تھا۔ اچانک شہزادے کو سامنے سے دو تین نہایت خوبصورت ہرن دوڑتے نظر آئے۔ شکار کا شوق تو شہزادے کو شروع سے تھا۔ اس نے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا اور انہوں نے اپنے گھوڑے ہرن کے پیچھے ڈال دیئے۔ طوطے نے لاکھ منع کیا شور مچایالیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی ۔

 اسی بھاگ دوڑ میں وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور راستہ بھٹک کر کہیں سے کہیں نکل آتے۔ اب جو شہزادہ جانِ عالم نے دیکھا تو نہ اس کے ساتھی ساتھ تھے اور نہ ہی بولنے والا طوطا ۔ وہ ایک ویران جنگل میں کھڑا تھا۔ تھوڑی دیر تک تو وہ کھڑا سوچتا رہا کہ کیا کرے پھر اللہ کا نام لے کر ایک طرف چل پڑا۔ ابھی وہ تھوڑی دور گیا تھا کہ اسے ایک باغ نظر آیا۔ شہزادہ اس باغ میں داخل ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ سامنے بارہ دری میں ایک عورت بیٹھتی ہے اور بہت سی کنیزیں اس کے گھر دکھڑی ہیں۔ اس باغ میں بہت خوبصورت پرندے چہچہاتے پھر رہے تھے۔ درخت پھلوں سے لدے ہوئے تھے شہزادے نے عجیب ماجرا دیکھا کہ وہاں موجود جو بھی شخص پھل کھانے  کی خواہش کرتا ہے پھل خود بخود اس کے منہ کے قریب چلا جاتا اور اسے ہاتھ بڑھانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ شہزادہ بارہ دری کے قریب چلا گیا۔ بارہ دری میں بیٹھی عورت شہزادے کو دیکھ کر بولی: "آؤ شہزادہ جان رُک کیوں گئے۔ مجھے مدتوں سے تمہارا انتظار تھا اور آج میرا جادو تمہیں کھینچ لایا۔"

شہزادہ جانِ عالم نے سوال کیا " تم کون ہو ؟" میں جادو گروں کے بادشاہ شہر یال کی بیٹی ہوں اور تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں، میری بہت بڑی سلطنت ہے تم ساری عمر عیش و آرام سے رہو گے ۔ شہزادے نے کہا " میں شہزادی حسن آرا کی تلاش میں نکلا ہوں اور میں کسی بھی صورت تم سے شادی نہیں کر سکتا ، جادو گر شہریال کی بیٹی نے کہا " تم حسن آرا کا خیال چھوڑ دو اور میرے ساتھ رہو میں دُنیا کی ہر نعمت تمہارے لئے حاضر کروں گی ! جان عالم نے مضبوط لہجے میں کہا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا یہ جادوگر شہریال  کی بیٹی غصے سے زمین پر پاؤں پٹخ کر بولی تو پھر ٹھیک ہے، تمام عمر اسی باغ میں سڑتے رہو ۔ جب تک تم میری بات نہیں مانو گے اسی باغ میں قیدر ہو گئے اتنا کہہ کہ جادوگر شہریال کی بیٹی اپنی کنیزوں کے ساتھ باغ سے چلی گئی۔ اس کے بعد شہزادہ جانِ عالم نے باغ سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن کوئی دروازہ نہیں ملا، دیوار پھلانگنے کی کوشش کی تو دیواریں اونچی ہوگئیں ۔ شہزادہ اندر باغ میں پھر تار ہا پھر تھک کے ایک درخت کے نیچے سو گیا ۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ کہ رہے ہیں۔ بیٹا اُٹھ کر اس درخت کے نیچے زمین کھودو، تمہاری تمام مشکلات حل ہو جائیں گی۔

اتنی دیر میں شہزادے کی آنکھ کھل گئی اور اس نے اللہ کا نام لے کر درخت کے نیچے زمین کھودنی شروع کر دی۔ ابھی تھوڑی زمین کھودی تھی کہ ایک تختی نکل آئی جس پر لکھا تھا، اگر کوئی کسی جادو گر کے چنگل میں پھنس جائے تو ایسے یہ اسم پڑھنا چاہئے۔ شہزادہ جان عالم نے سختی کے نیچے لکھا ہوا اسم یاد کر لیا تختی کو جیب میں ڈالا اور اسم پڑھتا ہوا باغ کی دیوار کی جانب چل پڑا۔ جیسے ہی دیوار کے قریب پہنچا دیوار میں خود بخود راستہ پیدا ہو گیا۔ شہزادہ آرام سے باہر نکل آیا اور چل پڑا۔ کئی مہینے سفر کر تا رہا ۔ آخر اسے دور سے ایک محل چمکتا ہوا نظر آیا۔ شہزادہ جانِ عالم ادھر ہی چل پڑا۔ جلد ہی وہ اس شہر میں داخل ہو گیا لیکن شہزادے نے ایک عجیب بات یہ دیکھی کہ شہر کے ہر آدمی نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا ہے اور ہر شخص اُداس اور افسردہ ہے ۔ آخر شہزادہ جانِ عالم نے ایک آدمی کو روک کر پوچھا " بھائی یہ کون سا مقام ہے ؟" اس آدمی نے سر سے پاؤں تک شہزادے کا جائزہ لیا اور پھر بولا اس ملک کو " زرنگار "کہتے ہیں ۔ شہزادہ جان عالم نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا۔ کیوں کہ شہزادی حسن آرا زرنگار ملک کی شہزادی تھی ۔ اور آخر کار وہ شہزادی حسن آرا کے ملک میں پہنچ گیا تھا۔ اس نے پوچھا آخر آپ لوگوں نے یہ سیاہ رنگ کے ماتمی لباس کیوں پہن رکھے ہیں ؟   اُس آدمی نے جواب دیا " بات دراصل یہ ہے کہ ایک جادو گر ہمارے ملک کی شہزادی کو اُٹھا کر لے گیا ہے جب سے تمام ملک نے سیاہ ماتمی لباس پہن رکھا ہے اور بادشاہ ملکہ سمیت تمام رعایا اُداس ہے۔

 شہزادی حسن آرا کے بارے میں سُن کر شہزادے کا رنگ اُڑ گیا۔ پھر وہ حوصلے سے کام لیتا ہو ا بولا: کیا تم بتا سکتے ہو یہ جادو گر شہزادی کو لے کر کہاں گیا ہے اس کا ٹھکانہ کون سا ہے ؟ " اس آدمی نے جواب دیا: یہاں سے چار پانچ کوس سفر کر و تو چاروں طرف آگ نظر آئے گی۔ اس آگ کے درمیان ایک قلعہ ہے اس قلعے میں ہی وہ منحوس جادوگر رہتا ہے ۔ جو بھی اس جادوگر کی تلاش میں گیا پھر زندہ واپس نہیں آیا ۔ اتنا کہہ کر وہ تو آگے چل پڑا اور شہزادہ جان عالم نے جادوگر کے قلعہ کی جانب اپنا گھوڑا ڈال دیا۔ چار پانچ کوس سفر کرنے کے بعد اسے ایک قلعہ نظر آیا جو چاروں طرف سے آگ میں گھرا ہوا تھا اور اس سے آگے جانے کا راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ شہزادہ جان عالم نے دیکھا کہ ایک ہرن اس آگ میں سے اچھلتا ہے اور پھر دوبارہ آگ میں غائب ہو جاتا ہے شہزادہ جانِ عالم نے جیب میں سے طلسمی تختی نکال کر دیکھی لکھا تھا اس ہرن پر تیر سے نشانہ لگا ؤ  اگر درست بیٹھا تو جادوگر کا یہ سارا طلسم خانہ تباہ ہو جائے گا ورنہ تم خود مارے جاؤ گے۔ شہزادے نے کمان میں تیر چڑھایا اور  جیسے ہی ہرن اچھلا شہزادے نے نشانہ لے کر تیر چھوڑ دیا۔ تیر ہرن کو جاکر لگا ایک دم ہر طرف شور مچا اور اندھیرا چھا گیا۔ جب اندھیرا ختم ہوا تو شہزادے نے دیکھا کہ تمام قلعہ اور آگ غائب ہے۔ تھوڑے فاصلے پر ایک بھیانک صورت جادو گر کی لاش پڑی ہے اور قریب ہی گھٹنوں میں سر دئیے ایک لڑکی بیٹھی ہے یہ شہزادی حسن آرا تھی، شہزادہ اس کے قریب چلا گیا شہزادی سمجھ گی کہ یہی شخص ہے جس نے مجھے اس مصیبت سے نجات دلاتی ہے۔

شہزادہ جانِ عالم نے شہزادی حسین آرا کو گھوڑے پر بٹھایا اورواپس اس کے شہر لے آیا۔ جب شہزادی حسن آرا کے باپ کو شہزادہ جان عالم کے کارنامے کے بارے میں پتہ چلا تو اس قدر خوش ہوا کہ اس نے شہزادی حسن آرا کی شادی شہزادہ جانِ عالم کے ساتھ کر دی اور اپنا ملک بھی اس کے سپرد کر دیا ۔

ختم شد

انتخاب: نوشاد علی ریاض احمد۔

#Shahzada Jan-e-Aalam #Selection # AreeBTLM #naushadali19881

Bewaqoof Gadha

 انتخاب:

بے وقوف گدھا

 

ایک گدھا کسی جنگل میں رہتا تھا ۔ اس کا کوئی کام نہیں تھا۔ بس گھومتار ہتا۔ جہاں ہری ہری گھاس نظر آ جاتی پیٹ بھر کر کھا تا ،کسی تالاب پر پانی پی لیتا اور زمین پر لوٹتے رہتا۔ یوں اس کی زندگی بہت اچھی گذر رہی تھی مگر اسے ہمیشہ ایک ڈر رہتا تھا۔

ایک دن اسے ایک لومڑی مل گئی ۔ گدھا اس دن بہت خوش ہورہا تھا۔ اچھی اچھی گھاس نے اس میں نئی طاقت بھر دی تھی ۔ اس نے لومڑی کو دیکھا تو ذرا آواز بھاری بنا کر بولا ۔ ”اے بی لومڑی! اگر آج شیر مل جائےتو بس میں ایک دولتی میں اس کا کام تمام کر دوں ۔“

لومڑی اس دن نیکی کے موڈ میں تھی اس نے اسے سمجھایا کہ وہ ایسی غلطی نہ کرے ورنہ مارا جائے گا۔ لومڑی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا:

تم ہو تو گد ھے مگر گدھے پن کی بات مت کرنا ،تم دیکھتے ہو بڑےبڑے جانور بھی شیر سے ڈرتے ہیں ۔“ لومڑی کی بات گدھے کی سمجھ میں آ گئی اس نے سوچا کہ لومڑی جیسا چالاک جانور بھی شیر سے ڈرتا ہے اس لیے اسے بھی اپنی دل کی تمنا دل میں رکھنا چا ہیے ۔ وہ چپ ہوگیا مگر اس کا دل چاہا کہ وہ بھی شیر بن جائے تا کہ سب جانو راس سے ڈریں ۔ وہ اکثر دیکھتا تھا کہ جب شیر تالاب پر پانی پینے آتا تھا تو سب جانور وہاں سے بھاگ جاتے تھے اور شیر اکیلا مزے مزے سے پانی پیتا تھا۔ حالانکہ جب گدھا بے چارا جا تا تو جانو را سے دھکا دیتے اور اسے بڑی مشکل سے پانی پینے کو ملتا۔ ایک بار تو ایک بھالو نے اسے اس زور سے دھکا دیا تھا کہ وہ تالاب میں گر گیا تھا اور بڑی مشکل سے باہر نکلا تھا۔

AreeBTLM


گدھابے چارا ہمیشہ کی طرح گھومنے پھرنے میں لگ گیا ۔ ایک روز وہ گھنے جنگل سے گزررہا تھا تو اس نے دیکھا شیر کی کھال زمین پر پڑی ہے ۔ پہلی نظر میں تو گدھا خوف زدہ ہو گیا تھا مگر جب اس نے غور کیا تو پتاچلا کہ وہ اصلی شیر نہیں ہے بلکہ شیر کی صرف کھال ہی  ہے ۔ گدھے کی مراد بر آئی ۔آس پاس کوئی تھا بھی نہیں ۔اس نے جھٹ پٹ کھال پہن لی ۔ کھال پہن کر اس نے تالاب کا رخ کیا۔ اس کا مقصد تھاکہ پانی میں اپنا عکس دیکھے۔ ابھی وہ تالاب سے تھوڑی دور تھا کہ جانور بھاگنے لگے ۔ گدھا خود بھی چوکنا ہو گیا اور ایک طرف کو دوڑا۔ وہ سمجھا تھا کہ شاید شیر آ گیا مگر اسے حیرت ہوئی کہ جس طرف بھی وہ جا تا جانور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے ۔ اب اس کی سمجھ میں آیا کہ سارے جانورتو اسے ہی شیر سمجھ رہے ہیں ۔

اس بات سے گدھے کی ہمت بہت بڑھ گئی ۔ اب تو گدھے کے مزے ہو گئے ۔ وہ جہاں جا تا اکیلا ہوتا۔ تالاب پر اطمینان سے پانی پیتا۔ جب تالاب پر  ہوتا تو اسے کوئی تنگ نہ کرتا۔ سارے جانور اس کے آرام کا خیال رکھتے ،گدھے نے شیر کی کھال کیا پہنی تھی اس کے تو دن ہی بدل گئے تھے۔ گدھا بہت خوش تھا اور ہر طرح یہ کوشش کرتا کہ جنگل کے

جانوروں کو پتا نہ چلے۔ وہ خاص طور سے لومڑی سے بچتا تھا کیونکہ اسے خبر تھی کہ لومڑی بہت چالاک ہے۔

لومڑی تھی تو چالاک ،وہ اس ٹوہ میں لگی رہتی تھی کہ یہ نیا شیر جنگل میں کہاں سے آ گیا ہے ۔ مگر گدھے کو اس بات کی بالکل خبر نہیں تھی۔ ایک دن گدھے نے خوب کھانا کھایا۔ سیر ہو کر پانی پیا۔ گہری نیند سویا۔ جب جاگا تو بھول گیا کہ اس نے شیر کی کھال پہن رکھی ہے۔ لگا اپنی آواز یں نکالنے۔ لومڑی کہیں قریب تھی ۔ وہ بھاگی بھاگی آئی دیکھا تو شیر ڈھینچو ڈھینچو کی آوازیں نکال رہا ہے۔ اب اسے معلوم ہوا کہ شیر کی کھال میں ایک گدھا چھپا ہوا ہے ۔

وہ کہنے لگی:

ارے گدھے جب شیر بنا تھا تو آواز بھی شیر والی لے کر آتا ۔ توبولنے سے پکڑا گیا ۔

سچ ہے کہ نقل کرنے والا اصل نہیں ہوتا اور جھوٹ کھل ہی جا تا ہے ۔

#Bewaqoof Gadha #AreeBTLM #Urdustory #Makhooz

Chuha aur Maindak

ماخوذ:

جھگڑا کرنا بری بات ہے

 

ایک تالاب میں ایک چوہا رہتا تھا اور ایک مینڈک بھی ٹرّاتا رہتا تھا ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو بالکل پسند نہیں کر تے تھے ۔ چوہے کو شکایت تھی کہ مینڈک ہر وقت ٹرٹر کرتا رہتا ہے، نہ وقت دیکھتا ہے نہ موسم ، خود بھی جاگتا ہے اور سب کو جگا تا ہے ۔اس کی ہر وقت کی ٹرٹر سے سر میں درد ہو جا تا ہے ۔ مینڈک کہتا تھا کہ یہ چوہا چین سے نہیں بیٹھتا۔ اس کا تو کام بس گھومتے رہنا ہے ۔ جب دیکھو سر ہلا تا گھومتا ہے اور پانی میں ہر وقت چپ چپ کر کے شور مچاتا ہے۔ پہلے تو یہ دونوں ادھر ادھر یہ باتیں کہتے رہتے تھے پھر دونوں جب آمنے سامنے ہوتے تو ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے اور ا تتالڑ تے اتنالڑتے کہ سارے جانور جمع ہو جاتے مگر ان کی لڑائی جاری رہتی ۔

 ایک دن جب دونوں میں لڑائی شروع ہوئی تو چوہے نے مینڈک سے کہا کہ وہ تالاب چھوڑ کر چلا جائےکیونکہ تالاب کا مالک وہ نہیں ہے بلکہ چوہا ہے اور اس سے پہلے یہ جگہ چوہے کے باپ دادا کی تھی ۔ مینڈک نے کہا کہ یہ بات درست نہیں اس جگہ کے مالک اس کے باپ دادا تھے اور چوہے کو چاہیے کہ وہ کسی اور جگہ جا کر رہے۔اس بات پر تو لڑائی اور بڑھ گئی۔ پہلے تو دونوں دور دور سے ایک دوسرے کو آنکھیں دکھاتے تھے اب یہ ہوا کہ گھتم گتھا ہو گئے ۔یہ سب ایک چیل بھی دیکھ رہی تھی۔ وہ بہت دنوں سے ان دونوں کی تاک میں تھی مگر یہ دونوں چُھپ جایا کرتے تھے اور چیل کے ہاتھ نہ آتے تھے۔ اب جھگڑے میں چیل کو بھول گئے تھے ۔ایک دوسرے کی دشمنی میں اپنی دشمن چیل کو بھُلا بیٹھے تھے۔

چیل نے موقع مناسب دیکھا اور تیزی سے جھپٹ کر ان دونوں کو جنگل میں لے کر اُڑ گئی ۔ سچ ہے کہ آپس کے جھگڑے میں دشمن کا میاب ہو جا تا ہے ۔

#Chuha aur Maindak #AreeBTLM #Urdustory 

Shaikh Chilli ka Kouwab

Shaikh Chilli ka Kouwab

 شیخ چلی کا خواب:

کہتے ہیں بہت پُرانی بات ہے کسی گاؤں میں  ایک نو جوان چروا رہا تھا۔اس کا نام بھولوٗ تھا۔ وہ بہت کاہل تھا۔ لیکن اسے بڑے بڑے خواب دیکھنے کی عادت تھی ۔ جب اس کے گھر والوں نے اسے بکریاں چرانے کے لیے کہا تو وہ بڑ بڑانے لگا۔ ” مجھے یہ کام قطعی طور پر نہیں کرنا ہے! دیگر چرواہوں کے ہمراہ جب وہ چراگاہ پہنچا تب ہی اس نے اپنے مویشیوں کی طرف توجہ نہ کی ۔ اس کے بجائے وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اونگھنے لگا او راپنے خوابوں کی دنیا میں پہنچ گیا! کبھی وہ خواب میں دیکھتا کہ وہ ایک بہت بڑا بیو پاری بن گیا ہے۔ اس کے پاس ایک بڑا سا مکان ہے جس کے سامنے خوبصورت سا باغ بھی ہے۔

کبھی تو وہ خواب میں دیکھتا کہ وہ خود ایک راجا بن گیا ہے!

جب بھولوٗ اپنے دوستوں کو ان خوابوں کے بارے میں بتا تا تو وہ کہتے کہ ،’’بے وقوف تمہیں کوئی کام دھندانہیں ہے ۔ تمھیں کچھ کام ڈھنگ سےآنے والا نہیں ہے۔“

اس چرواہے نے اپنے دوستوں سے کہا ”تم سب دیکھو۔ میں ایک دن بڑا مشہور آدمی بن جاؤں گا ۔“

دوستوں نے اس کی بات کو ہنسی میں اڑایا۔ لیکن وہ چرواہا اپنے طور پر بدل چکا تھا۔ اس نے ایک منصوبہ بنایا تھا اور اسے پورا کرنے کے لیے وہ       تیار تھا۔


ایک رات اس نے اپنے کپڑوں کی گٹھری بنائی اور کسی کو کچھ نہ بتاتے ہوئے علی الصبح اپنے گھر کو خیر باد کہا۔ وہ قریب کے شہر کو روانہ ہوا۔ کےراستے میں اسے ایک بیو پاری ملا جو گھوڑے پر سامان لا دے شہر کی طرف جا رہا تھا۔ اس نے پوچھا ”بیٹا! کہاں جا رہے ہو؟“

چرواہے نے کہا میں ایک بڑے استاد کے پاس پڑھنے کے لیے جا رہا ہوں۔ ان سے بڑا علم اور چالا کی حاصل کروں گا۔ اور ان سے سیکھنےبعد علم کا استعمال کر کے میں خود ایک مشہور استاد بن جاؤں گا ۔“

یہ تو بہت اچھی بات ہے“ بیو پاری نے کہا۔ لیکن تم میرے ساتھ کیوں نہیں آتے؟ میں تمھیں اپنی دکان میں نوکری دوں گا اور اچھی تنخواہ بھی دوں گا ۔ جب تم خود امیر بن جاؤ گے تب اس بڑے استاد کے پاس پڑھائی کے لیے چلے جانا۔

چرواہے نے اس تجویز پر غور کیا۔ اسے محسوس ہوا کہ یہ خیال تو بہت اچھا ہے ۔ ٹھیک ہے، اس نے بیوپاری کو جواب دیا۔ میں تمھاری دکان میں کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔“

اس طرح چرواہا بیو پاری کے پاس کام کرنے لگا۔ چند دنوں میں وہ اس کام میں اس قدر مصروف ہو گیا کہ بڑے استاد کے پاس جانے کی بات   بھول گیا۔ باقی تمام زندگی اس نے صرف نوکر بن کر ہی گزاری۔

 ہمیں اپنے مقصد کو پانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

اب ہمیں نیچے کمنٹس کر کے بتائیں۔۔۔۔۔

شکریہ

#ماخوذ

#AreeBTLM #naushadali19881 #Urdu Kahani


DO BANDAR

 دوبندر: DO BANDAR

نمو اور ٹمو نام کے دو بندر ایک دوسرے کے اچھے دوست تھے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی خوشی رہتے ، ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگاتے ، ایک ساتھ کھیلتے اور اپنے لیے کھانے کی چیزیں تلاش کرتے ۔ وہ ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے۔ اپنی دوستی اسی طرح برسہا برس قائم رہے یہ دعا کرتے ۔

AreeBTLM


 اس کے باوجود انھیں ایک دوسرے کی بعض بری عادتیں ناگوارگزرتیں۔ یہ بات وہ ایک دوسرے کو بتانا چاہتے تھے لیکن کسی کی ہمت نہیں ہوتی۔

ایک دن بہت سخت دھوپ تھی اور وہ پیٹ بھر کر پھل کھا کر ایک گھنے سایہ دار درخت کی شاخ پر بیٹھے ہو ئے تھے کہ نمو نے ٹمو سے کہا،

کیا ہم دونوں ایک دوسرے کے اچھے دوست نہیں ہیں؟ اپنی دوستی اس طرح قائم رہے میں تمھیں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں؟ تمھاری ایک بری عادت مجھے ہرگز پسند نہیں ہے؟ یہ سن کر ٹمو  کو بڑا تعجب ہوا۔ اس نے جسم کھجاتے ہو ئے پوچھا، کون سی عادت ہے؟ اس پر نمو نے کہا،ارے تم! روزانہ صحیح ڈھنگ سے غسل نہیں کرتے اور ہر وقت جسم کھجاتے رہتے ہو؟ ٹمو نے کہا ”جی ہاں! لیکن اس سے تمھیں کیا واسطہ۔۔۔۔۔

 مجھے معلوم ہے کہ تم یہی کہوگے کہ مجھے روزانہ غسل کرنا پسند نہیں ۔ غسل کرنا میرے لیے مشکل کام ہے۔ یہ کوئی معقول وجہ نہیں ہے ہمیں ہر وقت صاف ستھرے رہنا چاہیے؟ میری طرف دیکھو میں روزانہ غسل کرتا ہوں ۔

نہیں نہیں۔ مجھے بھی تم سے کچھ شکایت ہے ۔ ٹمو نے غصے کے لیجے میں کہا۔

نمو نے جب اس کا غصہ دیکھا تو بولا’ تم اس قدر غصے میں کیوں آ رہے ہو؟

ٹمو نے کہا '' تم میری بات کبھی بھی غور سے نہیں سنتے اور اپنی ہی ہانکتے جاتے ہو؟ مجھے کیا کہنا ہے اس کا جواب تم خود دے دیتے ہو؟ اپنی ہی بات کو منوانے کی کوشش کرتے ہو۔‘ مجھے تمھاری یہ عادت قطعی پسند نہیں ہے اور اس کی وجہ سے مجھے ایک قسم کی نفرت سے ہوتی ہے ۔

ٹمو کو اس قدر غصے میں دیکھ کر نمو کو بھی احساس ہوا کہ وہ دوسروں کو بات کرنے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیتا ہے اور یہ اس کی بری عادت ہے۔

اس کے بعد دو دنوں تک ان میں بات نہیں ہوئی۔لیکن انھیں ایک دوسرے کی یا دستانے لگی ۔

دو دن بعد نمو نے خود سے ٹمو سے کہا ارے یار! ہم دونوں میں ایک ایک بری عادت ہے اور ہمیں اسے ختم کرنا ہے ۔

نمو نے کہا تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔اس پر نمو نے کہا ” مجھے یقین نہیں ہوتا کہ میں اپنی بری عادت کو چھوڑ پاؤں گا۔ کیونکہ دوسرے بات کرتے وقت مجھے درمیان میں بولنے کی عادت پڑ گئی ہے۔

اس پرٹمو نے کہا، مجھے بھی بار بار جسم کھانے کی عادت سی پڑ گئی ہے۔

 نمو نے کہا،ہم ایک کام کرتے ہیں ۔ ہم اپنی بری عادتوں کو ایک طرف رکھتے ہیں۔ اور کوئی علاج تلاش کرتے ہیں۔ میں بیچ بیچ میں نہ بولنے کی کوشش کرتا ہوں اور تم بھی درمیان میں جسم کھجانے کی طرف توجہ دو۔

ٹمو نے کہا کہ یہ تو بہت اچھا علاج ہے وہ فوری تیار ہو گیا۔ اس نے نمو نے دریافت کیا، میں تم سے کس موضوع پر بات کروں؟

 نمو نے کہا ” کچھ بھی بولو۔ اچھا تم یہ بتاؤ کہ تم نے کل رات کیاکھایا؟

ٹھیک ہے ٹھیک ہے ۔ یہ کہتے ہوئے ٹمو نے بات شروع کی لیکن اسی دوران اسے جسم کھجانے کی بھی بڑی خواہش ہوئی۔ اسے یہ احساس ہوا کہ بات روک کر پہلے خوب کجھا لیا جائے ۔ لیکن اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بات کرتے وقت کھجائے  گا نہیں ۔ اور یہ بات بھی یہ کہ اس سے اس کی بری عادت ٹوٹ جائے ۔ تو کیوں نہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے؟

      جس طرح ٹمو کو بغیر کھجائےبات کرنا دشوار نظر آ رہا تھا۔ اسی طرح نمو کو بھی خاموشی کے ساتھ دوسرے کی بات سننا بھی دشوار ہوتا جا رہا تھا۔

 آخر کارٹمو نے یہ بات بتائی کہ انھوں نے گزشتہ شب کیا کیا کھایا۔ بات مکمل ہونے کے بعد اس نے اطمینان کا سانس لیتے ہوۓ کہا کہ یہ بات میرے لیے بڑی مشکل نظر آ رہی تھی لیکن میں نے جسم کو کھجائے  بغیر اپنی بات ختم کی۔ مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ میں نے بغیر کھجائے اپنی بات مکمل کی ہے۔ اب اس کے بعد میں روزانہ غسل کرنے کی کوشش کروں گا۔ جس کی وجہ سے مجھے بار بار کھجانے کی نوبت نہ آئے۔

ٹمو نے اس پر کہا ”ارے مجھے بھی اپنے آپ پر بہت قابو رکھنا پڑ اکہ مجھے درمیان میں بات نہیں کرنی ہے۔ یہ کام میرے لیے بھی بڑا مشکل تھا۔ مجھے بھی یقین نہیں تھا کہ میں درمیان میں بات نہیں کروں گا۔ آج میں نے کوشش کی اور آئندہ بھی اس پر پابندی کروں گا۔‘ ٹمو نے کہا ”چلو آج سے ہم اپنی سابقہ بری عادتوں سے پر ہیز کریں گے اور وعدہ کر میں کہ آئندہ بھی اس پر قائم رہیں گے ۔“ ٹمو نے کہا کوشش کرتے ہیں ۔“

AreeBTLM
#AreeBTLM #naushadali19881 #Urdu Kahani

Sabz MagarMach (Story)

 سبز مگر مچھ (کہانی) :

 ملک فاران میں ایک بادشاہ کنگ فو تھا ۔ اس کی کوئی اولاد نہ تھی ۔ بادشاہ نیک سیرت ، انصاف پسند اوررحم دل تھا ۔بادشاہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے غمزدہ رہتا تھا ۔ ایک روز دربار میں چار سپاہی داخل ہوئے انہوں نے ایک بز رگ آدمی کو پکڑ رکھا تھا ۔ بزرگ آدمی کے چہرے سے جلال ، وقار اور رعب ٹپک رہاتھا۔

یہ شخص کون ہے ؟

’’ہمیں جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے ۔‘‘  اُس نے ادب سے کہا ۔ ’’درویش جھوٹے نہیں ہوا کرتے ۔ ہم جیسے درویشیوں کی کوئی منزل نہیں ہوتی ۔ جدھر دل نے کہا اُدھر ہی چل پڑے ۔‘‘ بادشاہ نرم پڑ گیا اوراس کی آواز میں لجاجت ہو گئی ۔ اللہ کے نیک بزرگ ہو تو تم ہمارے متعلق سب کچھ جانتے ہوگے ۔

بزرگ نے اسے غور سے دیکھا اور کہا،

"بادشاہ سلامت ! ہم تمہارے متعلق سب کچھ جانتے ہیں ۔"

"کیا جانتے ہیں آپ"؟

"یہی کہ آپ بے اولاد ہیں" ؟

 بادشاہ سلامت! آپ کی قسمت میں اولاد ہے صرف ایک شہزادہ ۔ بز رگ نے کہا ۔

آپ کے ہاں ایک شہزادہ ہو گا ، مگر وہ بڑی اُلجھنوں میں گرفتار رہے گا ۔

"الجھنوں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے"؟

 دریائے نربدا میں ایک سبز رنگ کا مگر مچھ ہے شہزادہ جوان ہو کر وہاں جائے ۔ وہ اس مگر مچھ کو ہلاک کرے ۔ مگر مچھ کے پیٹ سے ایک ہیرا نکلے گا ۔ وہ اس ہیرے کو گلے میں ڈال لے ۔ تب اس کی الجھنیں دور ہونگی۔

بادشاہ سوچ میں پڑ گیا پھر بولا ،

"اے نیک دل بز رگ ! مگر ہمارے ہاں شہزادہ کب ہوگا ؟

ایک سال کے بعد ۔ بزرگ نے کہا ۔

" ہم کیسے یقین کرلیں کہ شہزادہ ضرور ہوگا۔"

 


یہاں سے  سومیل کے فاصلے پر ایک سفید رنگ کی پہاڑی ہے ۔ اس پہاڑی پر سیب کا ایک درخت ہے آپ ملکہ کو ساتھ لے جائیں اور اس درخت کے سیب توڑ کر کھائیں ۔

ہمیں کب جانا ہوگا ؟ بادشاہ نے پوچھا

کل چلے جائیں۔

انہوں نے سب سے پہلے خدا کے حضور سجدہ کیا اور اولاد کے لئے گڑ گڑا کر دعا مانگی پھر سیب توڑ کرکھائے اور ٹھنڈا میٹھا پانی پیا۔ کچھ دیر وہاں قیام کر کے پہاڑی سے نیچے اتر آئے ۔

محل میں آ کر وہ ہاتھی سے اترے ۔ وزیر اور مشیر ان سے رخصت لے کر چلے گئے ۔ بادشاہ اور ملکہ اپنےکمرے میں آگئے ۔ایک سال گذرنے کے بعد الله تعالے نے انہیں ایک چاند سا شہزادہ بخشا ۔ محل میں چراغاں کیا گیا ۔ غریبوں کو کھانا کھلایا گیا ۔ انعامات تقسیم کئے گئے ۔ غریبوں کی جھولیاں بھر دی گئیں ۔ پورے ملک میں جوش و خروش سے جشن منایا گیا اور اس جشن کا سلسلہ پورے ایک ماہ تک جاری رہا ۔ لوگوں نے شہزادے کے لئے درازی عمر کی دعائیں مانگیں ۔

شہزادہ کیا تھا ۔ چاند کا ٹکڑا تھا ۔ ملکہ اور بادشاہ اسے دیکھ دیکھ کے جیتے ۔ ویسے تو شہزادے کو سبنھالنے اور دیکھ بھال کرنے کے لئے لونڈیاں اور نوکرانیاں کیا کم تھیں لیکن ملکہ کو جیسے سارے جہاں کی دولت مل گئی تھی شہزادے کے سارے کام خود کرتی ، نہلاتی کپڑے بدلاتی ، وقت پر دودھ، خوراک غرض کہ ہر ضرورت کاخیال رکھتی ۔

شہزادے کی تعلیم و تربیت کے لئے بہترین اتالیق مقرر کئے گئے ۔ شہزادے کو فنون لطیفہ کے ساتھ ساتھ جنگی تربیت بھی دی جانے لگی ۔ شہزادہ پورے انہماک کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرنے لگا ۔بزرگ کے کہنے کے مطابق شہزادہ کسی نہ کسی الجھن میں گرفتاررہتا تھا ۔ کئی مرتبہ شدید بیمار ہوا ۔ ایک دن کشتی رانی کرتے کرتے دریا میں گر پڑا تھا ۔ اور ایک دفعہ شکار کو گیا تو راستہ بھول گیا تھا ۔

ایک دفعہ اسے کئی جنگلی اُٹھا کر لے گئے تھے ۔ بادشاہ کی فوج جنگلیوں کو تباہ کر کے واپس لائی تھی اس لئے اب شہزادے کو باہر نہ نکلنے دیا جاتا تھا ۔ محل میں بھی اسے چوٹیں لگتی رہتی تھیں ۔ شہزادہ کسی نہ کسی الجھن میں گرفتار رہتا تھا۔

الجھنوں میں پھنسا پھنسا ہی شہزادہ جوان ہو گیا ۔ جب شہزادہ جوان ہوگیا تو بادشاہ کو خیال آیا کہ شہزادے کو اب اس کی منزل کی طرف بھیجا جائے ۔ بادشاہ نے شہزادے کو بلایا ۔ جب شہزادہ آگیا تو اسے اپنے قریب سونے کے تخت پر بٹھایا اور کہا ۔ شہزادے ! اب تم جوان ہو گئے ہو اس لئے اب تمہارافرض ہے کہ تم اس مگر مچھ کو تلاش کرو ۔

 کس مگر مچھ کو حضور ؟

بادشاہ نے اسے غور سے دیکھا

 اسی مگر مچھ کو جو تمہاری الجھنوں کا حل ہے ۔

 بادشاہ نے کہا ۔ تم ہمیشہ الجھنوں میں گرفتار رہتے ہو۔ اگر الجھنوں سے نکلنا چاہتے ہو تو دریائے نربدا کی طرف جاؤ ۔ اس دریا میں ایک سبز رنگ کا مگر مچھ ہے ۔ اس کو ہلاک کر کے اس کے پیٹ سے ہیرا نکال لاؤ۔ اور اسے گلے میں ڈال لو ؟

بہت اچھا ابا حضور!

" کیا مجھے اکیلے ہی جانا ہوگا؟ شہزادے نے پوچھا۔

اکیلے ہی جانا ہو گا ۔

شہزادے نے کوئی جواب نہ دیا ۔ اور وہ اُٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا ۔ اس نے اگلے دن جانے کے لئے اپنی تیاری مکمل کرلی ۔

اگلے دن وہ بادشاہ اور ملکہ سے اجازت لے کراپنے سیاہ گھوڑے پر بیٹھا اور آگے چل پڑا ۔ اُسے کچھ معلوم نہ تھا کہ دریائے نربدا کہاں ہے ۔ وہ شمال کی طرف گھوڑا بڑھانے لگا ۔ اس کے پاس کھانے پینے کا سامان کئی دنوں کے لئے کافی تھا - اس کے پاس تلوار کے علاوہ تیر کمان بھی تھی ۔ اس کا نشانہ بہترین تھا۔ وہ ایک بہترین تلوار بازی بھی تھا۔

وہ کافی طاقت و راور جوشیلا تھا ۔ وہ اکیلا دس آدمیوں کے ساتھ مقابلہ کر سکتا تھا ۔ کمان اس نے کند ھے پر لٹکا رکھی تھی ترکش بھی کندھے پر لٹکا ہوا تھا ۔ اس کے پاس کافی تعداد میں تیرتھے دہ بڑے وقاراور شان سے گھوڑے پر بیٹھا تھا ۔ گھوڑا شمال کی طرف بڑھا جارہا تھا

جب رات ہو گئی تو اس نے درخت کے قریب اپنا گھو ڑاکھڑا کیا اور وہیں بیٹھ گیا ۔ کافی دیر بیٹھا رہا۔ نیند بھی آرہی تھی لیکن محلوں میں رہنے والا شہزادہ تھا بھلابیٹھ کر یا زمین پر لیٹ کر کیسے سو سکتا تھا۔ بس ایسے ہی گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھا تھا اُس نے کچھ دیر پہلے کھانا کھا لیا تھا اور قریب ہی بہتے ہوئے چشمے سے پانی بھی پی لیا تھا ۔

اب اس نے تلوار تیر کمان اور کھانے پینے کا سامان اپنے قریب کیا اور گھوڑے کو اسی درخت کے ساتھ باندھ دیااس نے دیکھا دُور دُور تک آبادی کا کوئی نام ونشان تک نہ تھا ۔ چاروں طرف جنگل بیابان اور سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ وہ درخت کے نیچے بیٹھ کر رات گزارنے لگا۔ اُسے بیٹھے ہوئے ابھی زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ اُسے درخت پر سے پرندوں کے شور مچانے کی آواز سنائی دی ۔ وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھ گیا اور پریشان ہوکر چاروں طرف دیکھنے لگا کہ پرندے رات کے وقت اتنا شورکیوں مچارہے ہیں ۔ شہزادے نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا سانپ پرندوں کے گھونسلوں کی طرف بڑھ رہا ہے اور چھوٹے چھوٹے پرندے اسے دیکھ کر شور مچا رہے ہیں ۔ شہزادے نے فو راً تلوار نکالی اور سانپ کی طرف لپکا۔ سانپ نے دیکھا کہ اس پر حملہ ہو رہا ہے اس نے پھن پھیلا کر شہزادے پر حملہ کرنا چاہا ۔ جو نہی سانپ اُچھل کر آگے بڑھا۔ شہزادے نے تلوار سے اس کے دوٹکڑے کر دیئے ۔

جب اُس نے دیکھا کہ سانپ ٹھنڈا ہو گیا ہے تودوبارہ اپنی جگہ پرآ کر بیٹھ گیا ۔

پرندے اب خاموش ہو گئے تھے ۔ شہزادہ بے چین سا تھا ۔ اسی لئے اسے نیند نہیں آرہی تھی بہت دیر بعد اس کی آنکھ لگی اور وہ سو گیا۔

صبح جب وہ اُٹھا تو چاروں طرف صبح کا اجالا پھیلا ہوا تھا ۔ پرندے خدا کی حمد و ثنا میں مصروف تھے  پاس ہی سانپ مرا ہوا پڑا تھا۔ پرندے درخت پر سے اُڑ کر شہزادے کے سامنے ہیں اڑنے لگے جیسے اس کا شکریہ ادا کر رہے ہوں۔ اسی طرح انہوں نے بڑے پرندوں کو شہزادے کے کارنامے سے آگاہ کر دیا تھا ۔ وہ شہزادے کے کانامے پر بہت خوش ہوئے ، اُنہوں نے بھی شہزادے کے سامنے اُڑکر شکر یہ ادا کیا۔ پھر وہ اڑ کر دور چلے گئے جب واپس آئے تو ان کی چونچوں میں سیب تھے ۔ پرندے وہ سیب شہزادے کے آگے پھینک دیئے ۔ شہزادے نے خوش ہو کر وہ سیب کھائے ، سیب نہایت لذیزتھے۔



تھوڑی دیر بعد جب سورج نکل آیا تو اس نے اپنے سفر کی تیاری شروع کر دی ۔ کھانا کھایا ۔ چشمے کا ٹھنڈا پانی پیا۔ پرندوں نے اسے پھر سیب لا کر دیئے شہزادے نے سیب کھائے پھر وہ گھوڑے پر بیٹھ کر اپنے سفر کے لئے روانہ ہو گیا اس نے دیکھا کہ دو پرندے اس کے گھوڑے کے آگے پیچھے اُڑ رہے ہیں ۔ پرندے ایک طرف کو مڑ گئے ۔ مگر شہزادہ سیدھا جانے لگا ۔ پرندے پھر واپس پلٹ کر اس کی طرف آگئے ۔ ایک پرندے نے اسے پر مارا اور آگے آگے اڑنے لگا ۔ شہزادہ سمجھ گیا کہ پرندہ اسے دوسری طرف لے جانا چاہتا ہے ۔ اُس نے گھوڑا موڑ لیا۔

 وہ سوچنے لگا کہ پہ پرندے اُسے کہاں لے جانا چاہتے ہیں ؟ مگر پرندوں کو اس سے کیا دشمنی ہوسکتی تھی ؟ پھر اس نے سوچا کہ پرندے اس کے دل کا حال جان گئے ہیں وہ اسے ضرور دریائے نربدا کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ پرندوں کے بتائے ہوئے راستہ پر ہی چلے گا۔

پرندے آگے آگے اُڑ رہے تھے اور وہ ان کے ساتھ ساتھ گھوڑا چلانے لگا ۔ پرندے اُسے شام تک دریائے نربدا کے کنارے لے گئے وہ دریائے نربدا دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ اُس کے کنارے کھڑا ہو گیا۔ سامنے سورج غروب ہورہا تھا۔ بہت ہی شاندار نظارہ تھا۔

وہ اب سوچ رہا تھا کہ اتنے بڑے دریا میں سبز مگر مچھ کو کیسے تلاش کرے ۔ وہ اسی سوچ میں کھڑا تھا کہ ایک پرندہ تیزی سے اڑا اور لہروں کی طرف چلا گیا ۔ وہ لہروں پر پَر مارنے لگا۔ دوسرے پرندے نے بھی ایسا ہی کیا وہ لہروں پر پَر مارتے کنارے کی طرف آرہے تھے ۔

شہزادے نے دیکھا کہ سبزمگر مچھ  گھبرا یا ہوا کنارے کی طرف آرہا تھا ۔ پرندوں نے پَر مار مار کر اسے بدحواس کر دیا تھا ۔ جب مگر مجھے کنارے پر آ گیا تو شہزادے نے اس کے پیٹ میں تلوار گھونپ دی اور اس کا پیٹ چیر دیا۔ پیٹ کے پھٹتے ہی ایک ہیرا نکل کر زمین پر گر پڑا مگر مچھ تڑپنے لگا ۔ اور تڑپ تڑپ کر مر گیا ۔ شہزادے نے ہیرا اپنے قبضے میں کر لیا اور اسے ساتھ لے کر اپنے ملک آگیا۔

ختم شد

#sabz Magar Mach #Areebtlm #naushadali19881

Chacha-56

چچا چھپن(56)  ڈاکٹر مبین نذیر ) مالیگاؤں مہاراشٹر (   آپ نے نہیں تو آپ کے ممی پاپا نے چچا چھکن کے کارنامے ضرور پڑھے اور سنے ہوں گے ۔  کبھی ...