=" Urdu Kahaniyan (AreeB)

Shahzadi aur Dragon

 شہزادی اور ڈریگون

 Shahzadi aur Dragon

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سٹون والز کے قریب ہی ایک شہزادی ایک بہت خوبصورت مگر چھوٹے سے قلعے میں رہتی تھی۔ شہزادی کا نام مارتھا تھا۔ شہزادی کے والدین وفات پا چکے تھے۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا جو اس چھوٹی سی ریاست کا حکمران تھا۔ ایک عرصہ سے اس کا بھائی مذہبی جنگوں میں شرکت کرنے کے لئے محاذ پر گیا ہوا تھا۔ مگر شہزادی کے آرام و سکون کا مکمل انتظام کر کے گیا تھا۔ جب اس کا بھائی جنگوں میں شرکت کے لئے گیا تو اس وقت شہزادی بہت کم عمر تھی۔ قلعہ کا انتظام ایک بہت ہی جہاندیدہ کے ذمے تھا یہ شخص شہزادی کا ہر طرح سے خیال رکھتا تھا۔ جبکہ قلعہ میں دیگر ملازمین بھی بہت چاق و چوبند تھے۔ اور قلعہ کا پورا انتظام ہی بہت منظم طریقہ سے چلا رہے تھے۔ جبکہ غذائی اجناس کی پیداوار بھی بڑی اچھی ہورہی تھی۔ غرضیکہ شہزادی اور تمام رعایا اپنے شب و روز شخص بڑے آرام و سکون سے گزار رہے تھے۔ انہی دنوں ایک رات یوں ہوا کہ شہزادی نے کچھ شور کی آواز سنی اور اس کوایسے محسوس ہوا کہ کوئی بہت بڑا پرندہ باغ میں  ُاترا ہے۔ کیونکہ شہزادی کو اس پرندے کے پروں کی آواز بہت تیز سنائی دے رہی تھی۔ اس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا مگر اسے اندھیرے میں کچھ بھی دکھائی نہیں دیا۔ مگر! اگلی صبح اس نے دیکھا کہ ایک غیر معمولی حجم کا انڈہ باغ میں پڑا ہوا ہے۔ یہ انڈہ صاف ظاہر کر رہا تھا کہ یہ کسی عام پرندے کا نہیں ہے۔ میں اس انڈے کو یہاں بالکل نہیں چھوڑوں گی شہزادی نے دل ہی دل میں ہے سوچا۔"  کوئی نہ کوئی جانور اس کو ضرور توڑ ڈالے گا مجھے اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔"

چنانچہ شہزادی مارتھا نے انڈے کو بڑی احتیاط سے اٹھایا اور اس کو کمرے کے اندر لے گئی۔ شہزادی نے اس انڈے کو ایک بہت ہی گرم جگہ پر رکھ دیا۔ چند ہفتوں کے اندر انڈا خود بخود پھوٹ گیا اور اس میں سے ایک ننھا منا سا ڈریگون برآمد ہوا ۔ نوجوان شہزادی نے اس عجیب الخلقت مخلوق کو پالتو جانور کی طرح پالنے کا ارادہ کرلیا۔ چند دنوں میں ہی یہ ڈریگون کافی بڑا مضبوط اور کار آمد دکھائی دینے لگا۔ صرف چند ہفتوں کی پرورش کے بعد اس ننھے ڈریگون نے شہزادی سے کہا،  پیاری شہزادی میرے لئے اب آپ کو میری خوراک کے لئے روٹی اور دودھ یا کسی بھی اور چیز کا انتظام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں اب اپنے لئے خود ہی خوراک کا بندوبست کر لیا کروں گا ۔ آپ براہ مہربانی میری خوراک کے لئےفکرمند نہ ہوا کریں ۔" چنانچہ اب قلعہ سے ملحقہ کھیتوں اور باغ میں ڈریگون نے جانا شروع کر دیا۔ اپنی پہلی صبح جو ڈریگون نے خوراک کی تلاش میں قلعہ سے باہر گزاری اس میں ڈریگون نے وہاں پر موجود تمام چوہوں چوہیوں اور سنڈیوں کا صفایا کر کے اپنے ناشتے کا اہتمام کیا۔ اسی طرح اپنے دو پہر اور پھر رات کے کھانے کا بھی اہتمام کرلیا۔

AreeB Kahani


قلعہ کا بڑا محافظ اور تمام مالی ڈریگون کی اس کارروائی سے بے حد خوش تھے کیونکہ خاص طور پر مالی حضرات اور کاشتکار تو چوہوں اور سنڈیوں سے بہت زیادہ عاجز آچکے تھے۔ مگر اب کوئی بھی اس قسم کی آفت موجود نہیں رہی تھی جو ان کے کھیتوں یا خوراک کے گوداموں میں تباہی لاسکتی اور یہ صرف اور صرف ڈریگون ہی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔

پیارے بچو! اس کے بعد کئی سال بڑے سکون سے گزر گئے ۔ ڈریگون کی وجہ سے باغات اور کھیتوں سے ان جانوروں کا خاتمہ ہو گیا مگر اسی دوران ڈریگون بہت ہی بڑا ہو گیا۔ شہزادی نے اس کے ساتھ باتیں کرنے کے لئے خاص طور پر ایک چبوترا بنوایا تھا۔جہاں پر کھڑی ہوکرڈریگون باتیں کیا کرتی تھی۔ وہ ڈریگون کا یہ رویہ سب  کے ساتھ بہت ہی دوستانہ تھا۔ اس کے رویے کے متعلق یہ بات صرف قلعے میں رہنے والے ہی جانتے ہیں۔ ارد گرد کے دیہات کے رہنے ولے اس سے ابھی تک بہت خوفزدہ رہتے اور اس کے قریب جانے سے گھبراتے بلکہ اس کو دیکھتے ہی سرپٹ دوڑنا شروع کر دیتے۔

اس صورتحال کے پیش نظر لوگوں نے قلعے میں آنا جانا کم کر دیا کسی کو بہت ہی ضروری کام ہوتا تو وہ قلعہ کا رخ کرتا وگرنہ کوئی بھی ادھر آنا پسند نہیں کرتا تھا۔ شہزادی نے سوچا اب یہ تو ممکن نہیں کہ ہم سب لوگوں سے کنارہ کش ہو کر رہ جائیں ہمیں چاہئے کہ کسی اور جگہ ڈریگون کو رکھیں تا کہ ہمارے پاس لوگ آنے سے کترا ئیں نہیں۔"

تب اچانک ایک روز نواب قلعہ میں داخل ہوا کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ یہی نواب اصل میں قلعہ اور علاقے کا مالک ہے۔ اس کا حلیہ جنگوں میں شرکت کی وجہ سے کافی بدل چکا تھا۔ قلعہ کا محافظ بھی موجود نہ تھا۔ چنانچہ اس نے مطالبہ کیا کہ اس کی ملاقات شہزادی مارتھا سے کروائی جائے ۔ شہزادی مارتھا اب بچی نہ تھی بلکہ بھر پور جوان ہو چکی تھی۔ جب شہزادی آئی تو نواب نے اٹھتے ہوئے اس سے کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں اور مذہبی جنگوں سے واپس آیا ہوں ارے واہ تم تو کس قدر بدل چکی ہو میں جب یہاں سے گیا تھا تو تم اتنی سی گڑیا کی طرح تھیں۔" دونوں بہن بھائی کئی برسوں کے بعد ملے تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ اور دیر تک باتیں کرتے رہے۔ نواب نے کچھ دیر کے بعد شہزادی سے کہا۔ میں تمہارے ڈریگون کو ہلاک کرنا چاہتا ہوں۔ جس نے تمہارا اور تمام لوگوں کا حقیقت میں جینا حرام کر رکھا ہے۔ مجھے قلعہ سے باہر لوگوں نے بتایا ہے وہ بہت ہی ہے کہ آپ صحیح خوفناک اور خطرناک جانور ہے میں اس سے تم لوگوں کی جان چھڑاؤں گا۔ تم بالکل فکر نہیں کرتا۔ میں اب آ گیا ہوں۔ پھر بھلا تمہیں فکر مند ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ "میرے پیارے بھائی! میں آپ کو دیکھ کر کس قدر خوش ہوں۔ خدا کا شکر سلامت واپس ہمارے درمیان آئے ہیں۔  شہزادی نے مسکراتے ہوئے نواب سے کہا۔"

تھوڑی دیر کے بعد شہزادی نے نواب سے کہا "مگر یقینا آپ کو پالتو جانور کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ وگرنہ آپ ایسی باتیں نہ کرتے۔ وہ تو ایک چھوٹا سا ڈریگون ہے۔ جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے دودھ پلا کر بڑا کیا ہے مگر ابھی تو وہ ایک چھوٹا سا جانور ہے اس کا قد ہی بڑا ہے وگرنہ آپ کو اس کے سر پر کوئی ایک بال بھی تو نظر نہیں آئے گا۔ اس طرح شہزادی نے نواب کے دل سے تمام شکوک و شبہات دور کر دئیے جو لوگوں نے ڈریگون کے بارے میں نواب کو بتلائے تھے۔ جب نواب کو یقین ہو گیا کہ ڈریگون کس قدر کارآمد اور اچھا جانور ہے تو شہزادی اور نواب دونوں نے ڈریگون کو اپنے ساتھ لیا اور آبادی میں چلے گئے۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ ڈریگون کس قدر معصوم اور بے ضرر جانور ہے لوگ یونہی اس سے خوفزدہ رہتے ہیں۔

اس کے بعد آبادی کے لوگوں کا ڈر خوف اس ڈریگون سے دور ہو گیا اوروہ ڈریگون سے پیار کرنے لگے۔  ڈریگون بڑی آسانی سے جہاں چاہتا چلا جاتا اب ڈریگون کسی کو بھی تنگ نہیں کرتا تھا لوگ اس سے مذاق کرتے اور وہ بڑا خوش ہوتا۔ پیارے بچو! اس طرح مزید کئی برس گئے اس عرصہ میں ڈریگون پوری طرح جوان ہو گیا۔ اس کے مکمل طور پر دونوں پر نکل آئے۔ اب اس نے اڑنا بھی شروع کر دیا تھا۔ پھر ایک روز شہزادی نے دیکھا کہ ڈریگون ہوا میں بڑی بلند پرواز کرتا ہوا اپنے ماں باپ کے پاس جارہا تھا۔ قلعے کے لوگ اور آبادی کے لوگ بھی دیکھ رہے تھے مگر اب تو ڈریگون ان کی پہنچ سے بہت دور ہو چکا تھا۔ اس کے بعد ڈریگون کبھی وہاں دکھائی نہ دیا۔ لوگ اس کو کچھ عرصہ کے بعد فراموش کر گئے مگر شہزادی اس کو یاد کو کو کرتی رہی۔

۔۔۔۔۔ختم شُد۔۔۔۔

#naushadali19881 #AreeBTLM #areebstory

JABBIR AUR SHER

 جابر اور شیر:

JABBIR AUR SHER

جابر اور شیر

پیارے بچو! ہزاروں برس پرانی بات ہے کہ روم کی سلطنت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تسلیم کی جاتی تھی۔ ان دنوں رومیوں کی حکومت یورپ کے ایک بہت بڑے حصے کے علاوہ ایک وسیع و عریض افریقی علاقے اور ایشیا پر بھی تھی۔ انہی دنوں ایک جوان آدمی بد قسمتی سے رومی سپاہیوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ اس کا نام جابر تھا یہ اس وقت اپنے گھر بار اور وطن سے سینکڑوں میل دور تھا۔

جابر کو رومی سپاہیوں نے قید کر کے غلام بنا لیا اور اس کو غلاموں کے بازار میں لے جا کر فروخت کر دیا۔ جابر آزادی کا متوالا تھا اور آزادی کو دل و جان سےپسند کرتا تھا۔ اس نے اپنی غلامی کو دل سے قبول نہیں کیا۔ آزادی کی ترکیبیں سوچتا رہتا۔ آخر کار اس کو قید سے فرار ہونے کا موقع کئی برس کے بعد مل ہی گیا۔ جابر قید غلامی سے فرار ہو کر پہاڑوں میں پہنچ گیا جہاں چند لوگ ہی پہنچ سکتے تھے جابر کی پہلی خواہش یہی تھی کہ وہ کسی طرح اپنے وطن میں پہنچ جائے مگر اس کو یہ بھی خطرہ لاحق تھا کہ کہیں وہ راستے میں ہی دوبارہ گرفتار نہ کر لیا جائے ، یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ اس کو سفر کے دوران رومی سپاہی دیکھ لیتے ۔ کیونکہ ہر جگہ اس کے فرار کی اطلاع پہنچ چکی تھی اگر وہ سڑکوں پر سفر کرتا تو اس کو یقین تھا کہ اس کو مفرور غلام قرار دے کر دوبارہ گرفتار کر لیا جاتا۔ اگر وہ اپنا سفر جنگلوں یا پہاڑوں پر جاری رکھتا تو اس کو یہ خدشہ تھا کہ وہ یقینی طور پر شدید سردی اور بھوک سے مر جاتا۔

بے انتہا سوچ و بچار کے بعد جابر نے یہی منصوبہ بنایا کہ روم کے نزدیک ہی پہاڑوں میں روپوش ہونا زیادہ بہتر ہے۔

یہ موسم خزاں کے دن تھے۔ جابر دن کےوقت سٹرابری درختوں سے توڑ کر کھا لیتا اوررات کو ایک غار میں

سو رہتا۔



 پیارے بچو!دن کے وقت اس کوکھانے کیلئے سٹرابری مل جاتی اور پینے کے  لیے پانی ، اسی طرح کئی دن گذر گئے ۔ ایک دن جنگل میں اسے شیر کے رونے کی اور درد سے کراہناکی آواز سنائی دی۔ جابر ڈرتے ڈرتے شیر تک پہنچا۔ پہلے پہل تو جابر کو بڑا خوف آیا،اور ایک لمحہ کے سوچا کہ یہاں سے بھاگ جائے ۔ مگر جابر انسانیت نواز آدمی تھا۔ اس نے شیر کو بغور مشاہدہ کیا تو پتہ چلا کہ شیر کے پیر میں ایک بڑا سا کانٹا چبھ گیا اور وہ چل نہیں پا رہا ہے۔

 

        شیر کی ملتجانہ نظر جابر پہچان گیا اور اب اُس کا ڈر کافور ہوگیا۔ وہ ہمت سے آگے بڑھا شیر کا پیر اپنے ہاتھ میں لیا اور ایک ہی جھٹکے میں کانٹے کو پیر سے الگ کر دیا۔ شیر زور سے دہاڑا، آواز سن کر جابر کے پسینے چھوٹ گئے ۔ جابر نے ایک کپڑے سے زخم پر پٹی باندھ دی ،شیر وہاں سے چلا گیا۔

        کچھ دنوں بعد سپاہیوں کو جابر کا پتہ چل گیا اور وہ اسے گرفتار کر کے بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزا سنائی کہ اسے جمعہ کے دن سب کے سامنے بھوکے شیر کے سامنے ڈال دیا جائے گا اس سے سب کو سبق ملے گا کہ ہماری حکم عدولیٰ کا انجام موت ہے۔وہ بھی بد ترین موت۔۔۔۔۔

جمعہ کے دن بڑے بڑے سلاخوں والے پنجرے میں جابر کو ڈال دیا گیا۔ سارے درباری اور رعایا اس منظر کو دیکھ رہے تھے، پھر ایک چھوٹے پنجرے میں کئی دن بھوکے  شیر کو لایا گیا اور بڑے پنجرے میں داخل کر دیا گیا۔ سب منتظر تھے کہ شیر اتنا بھوکا ہے کہ ایک دو جھپٹے میں ہی جابر کا کام تمام کردیا اور کھا جائے ، مگر جیسا درباری اور رعایا سوچ رہی تھی ویسا نہیں ہوا، بلکہ وہ سب شیر کی حرکت دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔

        شیر نہایت اطمینان سے جابر کے قریب پہنچا اور جابر کے قدموں پر اپنا سر رکھ دیا ، جابر نے جب شیر کی پیر کی طرف دیکھا تو اسے پتہ چلا کہ یہ تو وہی شیر ہے جس کی اس نے مدد کی ۔ بادشاہ اور درباریوں کو یہ منظر دیکھ کر بڑی حیرت اور تعجب ہوا کہ معاملہ کیا ہے ؟؟؟؟ بادشاہ نے جابر کو اپنے پاس بلوایا اور حقیقت دریافت کی ، جابر نے سارا ماجرا سنا دیا۔

بادشاہ کو اس کی رحمدلی پر بہت پیار آیا اور اس نے جابر کو معاف کردیا اور اپنے سپاہیوں میں شامل کر لیا۔

۔۔۔۔۔ختم شُد۔۔۔۔۔

Rahem Dil Boney

 انتخاب:نوشادعلی 

رحم دل بونے : Rahem Dil Boney 

پیارے بچو! صدیوں پرانی بات ہے ایک ملک میں ایک غریب موچی رہتا تھا۔ اس کو اپنی بیوی اور اپنی گزر اوقات کے لئے بڑی سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔ ان دونوں کے بچوں نے کچھ عرصہ پہلے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ اب جوان ہو چکے تھے۔ غریب موچی نے اپنی دونوں بیٹیوں کی تو شادی کر دی تھی اور دونوں بیٹے بھی اس نے بیاہ دیئے تھے۔ مگر اس کے دونوں بیٹے اب اس کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہ تھے۔ چنانچہ اب بڑھاپے میں غریب موچی کو بڑی ہی سخت محنت کرنا پڑی تھی۔ کیونکہ اب تو اس کی نظر بھی کمزور ہو گئی تھی۔ پیارے بچو! اس زمانے میں بھلا عینک کا رواج تو تھا نہیں۔ آپ سمجھ گئے ناں۔

     ایک شام کو یوں ہوا کہ اس موچی کی بیوی نے رات کا کھانا تیار کر کے جب اپنے میاں کو آواز دی تو موچی بدستور کام کرتا رہا۔ اس نے سنی ان سنی کر دی اور اپنے کام میں مشغول رہا۔ موچی کے سامنے والے میز پر چمڑے کے کٹے ہوئے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے۔ جن کو اس موچی نے بس اب سینا ہی تھا۔ یعنی چمڑے کی کٹائی ہو چکی تھی اور اب کام تھوڑا ہی باقی تھا۔ جب موچی کی بیوی کا اصرار زیادہ بڑھا تو موچی نے چلاتے ہوئے کہا کہ ” میں ان جوتوں کو ضرور تیار کروں گا۔ جوتوں کو سینے کے بعد بھی میں رات کا کھانا کھاؤں گا۔ نیک بخت! مجھے تنگ نہ کر اور کام کرنے دے" بڑھیا نے اس کے سامنے آتے ہوئے کہا " نہیں، نہیں۔ اب بس کرو تم نے سارا دن بھی بہت سخت کام کیا ہے۔ اب تمہیں ہر صورت آرام کرنا چاہیے۔ آؤ میرے ساتھ اور کچھ کھاکر سو جاؤ تاکہ کل بھی کام کر سکو۔ اس چمڑے کو میز پر ہی پڑا رہنے دو۔ اور صبح تازہ دم ہو کر جوتے تیار کر لینا۔ کھانا ابھی گرم ہے کھا لو ور نہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور ہاں جب کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا تو پھر تم مجھ سے خوامخواہ ناراض ہو جاؤ گئے۔"

چنانچہ موچی نے کام نہ کرنے میں ہی عافیت جانی۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی بیوی نے اب خاموشی اختیار نہیں کرنی۔ یہ تو اب بولتی ہی چلی جائے گی۔ اس نے سارا کام اسی طرح چھوڑ کر کھانا کھانے کے لئے کمرے کا رخ کیا۔ کھانا کھا کر تھکا ہارا موچی بے سدھ ہو کر سو گیا۔ پیارے بچو! اگلی صبح جب موچی اپنی دکان میں داخل ہوا جو کہ اس کے گھر میں ہی بنی ہوئی تھی تو اس نے دیکھا کہ جوتے تو بالکل تیار تھے۔ جتنے چمڑے کے ٹکڑے اس نے کاٹ کر رکھے تھے ان سب کے جوتے بالکل بہترین حالت میں تیار تھے۔ اس نے بہت زیادہ حیرانی کے ساتھ جب ان جوتوں کا مشاہدہ کیا تو اس نے دیکھا کہ نہایت ہی عمدہ ترین جوتے تیار تھے۔ اس نے اس قدر عمدہ جوتے بہت ہی کم دیکھے تھے۔ یہ تو لگتا تھا کہ جیسے کسی بہت ہی ماہر کاریگر نے تیار کئے تھے۔ بیگم ادھر تو آؤ، دیکھو تو سہی یہ کیا ہے“ موچی نے خوشی سے لرزتی آواز میں     اپنی بیوی کو آواز دی۔ موچی کی بیوی اس وقت گھر کے کام کاج میں مصروف تھی کیونکہ صبح سویرے کا وقت تھا۔ اس کی بیوی نے جو موچی کو بار بار چلاتے سنا تو وہ دکان میں چلی آئی۔ اس نے دیکھا کہ موچی کے ہاتھوں میں بہت ہی خوبصورت اور عمدہ ترین جوتے موجود ہیں۔ موچی نے اس کو بتلایا کہ جب اس نے دکان کا دروازہ کھولا تواس کو یہ جوتے اپنی میز پر بالکل تیار حالت میں ملے تھے۔ " کیا تمہیں یقین ہے کہ تم نے ان کو تیار نہیں کیا موچی کی بیوی نے جوتوں کا جوڑا پکڑتے ہوئے کہا۔ "تم رات کو بہت زیادہ تھکے ہوئے تھے۔ شاید تمہیں یاد نہ ہو کہ تم کیا کام کر چکے تھے۔ تم اچھی طرح یاد کرو۔ میرا تو خیال ہے کہ تم نے ہی یہ جوتے بنائے ہیں۔ بھلا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جوتے خود بخود ہی سل جائیں۔ ارے دیکھو تو سہی کس قدر عمدہ جوتے ہیں“

نہیں، نہیں۔ مجھے بالکل یقین ہے کہ ان جوتوں کو میں نے نہیں بنایا اور یاد کرو کہ جب میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں یہ جوتے تیار کر کے ہی کھانا کھاؤں گا تو تم نے ہی تو کہا تھا کہ ان چمڑے کے ٹکڑوں کو یہیں پڑا رہنے دو اور صبح تازہ دم ہو کر کام کرنا ۔ “

موچی نے پُریقین انداز میں کہا اس کے لب و لہجے میں کسی قسم کا شک وشبہ شامل نہیں تھا۔ اس کی بیوی نے بھی اس کی بات کو تسلیم کیا کیونکہ واقعی اس نے ہی تو کہا تھا۔ اور اس نے چمڑے کے کٹے ہوئے ٹکڑے میز پر رکھے تھے۔

پیارے بچو! آج موچی نے بہت کام کیا۔ بلکہ ان جوتوں کو اس نے بڑے ہی قیمتی جوتوں کی طرح فروخت کیا۔ شام کو موچی نے ایک جوڑا جوتوں کا اور کاٹا۔ اب نے اسی طرح چمڑے کے کٹے ہوئے ٹکڑوں کو پڑا رہنے دیا اور رات کا کھانا کھا کر سو گیا۔ اس نے سوچا کہ دیکھتے ہیں کہ آج رات کیا ہوتا ہے۔ اگلی صبح موچی بڑے جوش و خروش سے دکان کی طرف بڑھا۔ آج اس نے سویرے سویرے جاگنا پسند کیا اور ناشتہ کئے بغیر ہی اپنی دکان میں چلا آیا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ رات کو اس نے جو چمڑے کے ٹکڑے میز پر رکھے تھے ان کا کیا بنا۔ اس نے وہاں دیکھا کہ اس نے جو چمڑے کے ٹکڑے کاٹ کر رکھے تھے۔ ان کی جگہ نہایت ہی اعلیٰ قسم اور فیشن کے جوتے تیار پڑے تھے۔ یہ جوتے بھی بہت عمدگی سے تیار کئے گئے تھے اور یوں لگتا تھا کہ انہیں کسی بہت ہی ماہر کاریگر نے بڑی محنت سے تیار کیا ہے۔

اس نے خوشی سے چلاتے ہوئے اپنی بیوی کو آواز دی۔ اس مرتبہ اس کی بیوی اس کی پہلی آواز پر ہی دوڑی چلی آئی۔ موچی نے اپنی بیوی سے کہا۔ اس مرتبہ تو کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ میں نے اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے اور جانتے بوجھتے ہوئے ان ٹکڑوں کو اپنے کام کرنے والی میز پر رکھا تھا۔ مگر ان ٹکڑوں کی جگہ پر اس قدر خوبصورت جوتے تیار ہیں۔ تم دیکھ رہی ہو ناں۔ کس قدر خوبصورت جوتے ہیں۔ اب تو تمہیں بھی کوئی شک نہیں ہو گا۔“

ہاں، ہاں۔ لگتا ہے کہ ہماری قسمت بدلنے والی ہے۔“ اس کی بیوی نے مسکراتے ہوئے کہا "لگتا ہے کہ کسی مہربان ان دیکھی مخلوق نے ہمارے برے دنوں کو دور کرنے کے لئے ہماری مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔“



چند دنوں کے بعد اس موچی کی دکان میں ایک رئیس خاتون آئی۔ اس نے جوتوں کی اس دکان کو بہت سراہا۔ وہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ جب اس نے بہت ہی عمدہ جوتے تیار دیکھے۔ اس امیر خاتون نے یہ جوڑا مہنگے داموں خرید لیا اور ان کو اپنے رشتے داروں اور ملنے جلنے والوں کو دکھلایا۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے اس موچی کی دکان پر جوتوں کے خریداروں کا رش لگ گیا۔ ہر بندے کی خواہش تھی کہ اس کا جوتا پہلے تیار ہو۔

ارے بھائی! میں دیکھوں گا کہ میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں۔ مجھے کچھ وقت تو دو بوڑھا موچی سب سے یہی کہتا۔ سارا دن موچی گاہکوں سے آرڈر لیتا رہا۔ اور سب سے یہی کہتا رہا اس روز موچی نے ایک بھی جوتے کی سلائی نہیں کی۔ بھلا وہ گاہکوں سے باتیں کرتا یا کوئی کام کرتا۔ مگر اس نے جوتوں کی کٹائی کا کام جاری رکھا۔

اس شام موچی نے تمام جوتوں کی کٹائی کر کے اپنے کام کرنے والی میز پر رکھے اور کھانا کھا کر بڑے مزے سے سو رہا۔ آج کی رات اس کو یقین تھا کہ پہلے کی طرح آج بھی تمام جوتے تیار ہو جائیں گے۔ صبح اس کے لئے خوشیوں کا پیغام لائی تھی۔ وہ بڑا ہی خوش ہوا جب اس نے دیکھا کہ پہلے کی مانند آج بھی جوتے تیار تھے۔ تمام جوڑے بہت شاندار حالت میں تھے اور دور سے ہی بڑے خوبصورت دکھائی دے رہے تھے۔ موچی نے تمام جوتوں کو باری باری باریک بینی سے دیکھا۔ مگر ان جوتوں میں اس کو کسی قسم کا کوئی بھی نقص دکھائی نہ دیا۔

پیارے بچو! اگلے چند مہینوں میں موچی شہر کا مشہور و معروف موچی بن گیا۔ موچی اور اس کی بیوی بڑی آرام دہ زندگی گزارنے لگے۔ اب ان کے پاس چند مشہور کاریگر بھی تھے اور ان کو کام تلاش کرنے کی بھی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ لوگ دور دور سے ان کے پاس جوتوں کے لئے آتے۔ اب موچی غریب موچی نہ تھا۔ بلکہ موچی کے حالات کافی بدل چکے تھے۔ آخر ایک روز موچی کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا۔ میرے سرتاج! ہمیں آج کی رات جاگنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ آخر کون مہربان ہمارے اوپر احسان کر رہا ہے۔ ہمیں آخر پتہ بھی تو چلے"

چنانچہ اس رات موچی نے تمام کٹے  ہوئے چمڑے کے ٹکڑوں کو حسب معمول میز پر رکھا مگر سونے کےلئے اپنے کمرے میں نہیں گیا۔موچی اور بیوی دونوں جاگتے رہے۔دونوں نے گھر میں کھلنے والےدروازے کی اوٹ سےدیکھنے کا فیصلہ کیا۔

دکان میں انہوں نے دیکھا کہ آدھی رات کے وقت نہایت دبے قدموں کی آواز سے دو بونے دکان میں آرہےتھے۔ انہوں نے آکر پہلے تو میز کےپاس موم بتی کو روشن کیا اور پھردونوں بو نے میز کے اطراف میں بیٹھ گئے۔ انہوں نے سنا کہ دونوں بو نے آپس میں خوب مذاق رہے تھے اور ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے مگر وہ بہت تیزی کے ساتھ کام بھی کر رہے تھے اور اس قدر تیزی کے ساتھ کہ کوئی انسان نہیں کر سکتا تھا۔

موچی اور اس کی بیوی نے دیکھا کہ دونوں بونے بڑی تیزی کے ساتھ جوتے تیار کر رہے تھے سلائی اور جڑائی اس قدر تیزی سے کر رہے تھے کہ ان کو دیکھنا بھی محال ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں انہوں نے دیکھا کہ دونوں بو نے اپنا کام ختم کر چکے تھے۔ اچھا تو یہ وہ انجان مہربان تھے جنہوں نے ہماری غربت کو ہم سے دور کیا اور ہماری اس وقت مدد کی جب کوئی بھی مدد کرنے کے واسطے تیار نہ تھا۔ یہاں تک کہ ہمارے بچے بھی ہمیں چھوڑ کر جا چکے تھے۔ دونوں میاں بیوی چپکے سے یہ بہت کچھ دیکھ کر اپنے گھر میں لوٹ آئے۔ انہوں نے سوچا کہ ان لوگوں سے بات کرنے کا فائدہ نہیں ہے اور معلوم نہیں کہ یہ بات کرنے سے ناراض ہی ہو جائیں۔ " تم نے دیکھا کہ کس قدربو سیدہ لباس ان بونوں نے پہن رکھا تھا۔ “ موچی کی بیوی نے موچی سے بطور یاد دہانی کہا انہوں نے چونکہ ہماری بہت زیادہ مدد کی ہے۔ چنانچہ ہمیں بھی چاہئے کہ ان کا شکریہ ادا کریں۔ میں نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ ان دونوں کو ایک ایک کپڑوں کا جوڑا خود تیار کر کے دوں گی۔ آخر وہ ہمارے محسن ہیں۔ ان کا احسان تو ہم ساری زندگی بھی نہیں اتار سکتے۔ موچی نے اپنی بیوی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اس کی بیوی نے چند دن مسلسل سلائی کر کے ان دونوں کے لئے بہت ہی عمدہ گرم کپڑوں کے جوڑے تیار کئے۔ اس کے خیال میں یہ کپڑے دونوں بو نے بہت پسند کریں گے۔ موچی کی بیوی نے ان کے قد کاٹھ کا خوب اندازہ کر لیا تھا۔ جب کپڑے تیار ہو گئے تو موچی کی بیوی نے ان کو اچھی طرح چیک کرنا مناسب سمجھا اور اپنے شوہر کو بھی دکھلایا۔ اس کے شوہر نے بھی ان کپڑوں کو بہت پسند کیا۔ چنانچہ موچی نے چمڑنے کے کٹے ہوئے ٹکڑوں کے ساتھ ہی یہ کپڑے بھی رکھ دئیے ۔ اس رات موچی اور اس کی بیوی نے یہ دیکھنے کا ارادہ کیا کہ ان کپڑوں کو دیکھ کر ان بونوں کا رد عمل کیا ہو گا۔ چنانچہ دروازے کی اوٹ میں دونوں کھڑے ہو گئے کہ دیکھیں تو بھلا ان کے محسنوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔ اس مرتبہ بھی آدھی رات کو دونوں بو نے آئے اور موم بتی کو روشن کیا۔ دونوں نے کپڑوں کے جوڑوں کو بڑی دلچسپی کے ساتھ دیکھا۔ موچی اور اس کی بیوی نے دیکھا کہ دونوں بو نے کپڑوں کو بڑے شوق سے پکڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ دونوں نے کپڑوں کو پہن کر دیکھا اور خوش ہوئے کہ یہ تو بہت ہیں آرام دہ اور گرم ہیں۔ ان میں ایک نے دکان کے دروازے کی طرف جاتے ہوئے اپنے ساتھی سے مسکراتے ہوئے کہا۔

ارے بھائی! مجھے تو میری اجرت مل گئی ہے۔ میں تو چلا۔ “ اس کے دوسرے ساتھی نے بھی خوش دلی سے کہا کہ ”ہاں! میرے خیال میں تم ٹھیک ہی کہتے ہو۔ اب ہمیں یہاں مزید کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب یہ لوگ خاصے خوشحال ہو چکے ہیں۔ ہمیں اب دوسرے ضرورت مند لوگوں کی فکر کرنی چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کو اب ہماری ضرورت نہیں ہے۔" اس رات کے بعد دونوں بو نے موچی کے گھر دوبارہ کبھی نہیں آئے۔ مگر موچی اور اس کی بیوی کو ان کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ ان دونوں بونوں کی بدولت اب موچی اور اس کی بیوی خاصے خوشحال ہو چکے تھے۔ اکثر وہ باتوں باتوں میں اپنے مہربان بونوں کو ضرور یاد کرتے اور دعائیں دیتے۔ جنہوں نے ان کی تکلیف دہ زندگی کو آرام دہ زندگی میں بدل ڈالا تھا۔

#Rahem Dil Boney #naushadali19881 #AreeBTLM #https://teachingadds.blogspot.com 

Hakeem ki chalaki

 انتخاب: انصاری اریب نوشاد علی

حکیم کی چالاکی

 

ایک مچھیرا بہت غریب تھا۔ وہ روزانہ دریا پر جاتا اور مچھلیاں پکڑ کراپنے بچوں کا اور اپنا پیٹ پالتا ۔کسی دن بہت ساری مچھلیاں پکڑی جاتیں تو وارے نیارے ہو جاتے اور بعض دن تو کچھ بھی ہاتھ نہ آتا تو غریب مچھیرے اور اس کے بچوں کو بھوکا اور پیاسا ہی سونا پڑتا۔ مچھیرے کا ایک اصول تھا کہ وہ دریا میں صرف تین مرتبہ جال ڈالتا اگر اس میں کچھ ہاتھ لگ جاتا تو بہت خوب ور نہ واپس آجاتا ۔

 اسی طرح غریب مچھیرے کے دن گزر رہے تھے ۔ ایک دن مچھیرا دریا پر گیا اور اللہ کا نام لے کر دریا میں جال ڈال دیا جال ایک دم بہت بھاری اور وزنی معلوم ہوا پھر بہت خوش ہوا کہ ضرور کوئی بھاری اور موٹی سی مچھلی ہاتھ لگی ہے اور اس کو بیچ کر بہت سے روپے ہاتھ لگیں گے لیکن جب مچھیرے نے جال باہر نکالا تو اس کی مایوسی کی انتہا نہ رہی کیونکہ جال میں مچھلیوں کی بجائے بہت سا کیچڑ پھنسا ہوا تھا۔ اب تو مچھرا بہت مایوس ہوا اور پھر ایک مرتبہ اور دریا میں ذرا آگے کر کے جال پھینکا۔ جال دریا کے اندر چلا گیا۔ مچھیرے نے جال کو جھٹکا دے کر دیکھا، جال وزنی معلوم ہو رہا تھا۔ مچھیرے کی بانچھیں کھل گئیں کیونکہ اسے بہت امید ہو چلی تھی کہ اس دفعہ جال میں بہت سی مچھلیاں ہوں گی۔

جن سے وہ گھر کا خرچہ چلا سکے گا۔ خیر اس نے زور لگا کہ جال باہر نکالا لیکن اس مرتبہ بھی اس کی مایوسی اور غم کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ جال میں بہت سے پتھر بھرے ہوئے ہیں مچھیرا بہت دل برداشتہ ہوا لیکن پھر بھی تیسری اور آخری مرتبہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر بولا " اے اللہ ! اگر آج تو چاہتا ہے کہ میرے بچے بھوکے اور پیاسے سو جائیں تو پھر ایسا ہی سہی! یہ کہہ کر اس نے پوری قوت سے جال کو چکر دیا اور دریا میں پھینک دیا۔ جال دریا میں جا گرا اور زور دار آواز پیدا ہوئی اور جال دریا کے پانی میں غائب ہو گیا۔ مچھیرے نے تھوڑی دیر انتظار کیا اور پھر آہستہ آہستہ کر کے جال کو دریا سے باہر کھینچنا شروع کر دیا لیکن اس دفعہ جال میں وہ وزن نہیں محسوس ہو رہا تھا جو کہ پچھلی دو مرتبہ محسوس ہوا تھا پھر بھی یہ ضرور محسوس ہو رہا تھا کہ جال میں کوئی نہ کوئی چیز ضرور موجود ہے آخر مچھیرے نے ایک جھٹکے سے جال کو دریا سے باہر نکال لیا۔ اس نے دیکھا کہ جال میں ایک بڑی اور چپٹی سی بوتل پھنسی ہوئی ہے۔ مچھیرے نے کچھ حیرت اور کچھ تعجب سے دیکھا۔

اس نے سوچا کہ شاید اس بوتل میں کوئی قیمتی چیز ہو۔ یہ خیال کر کے مچھیرے نے بوتل کو جال سے نکال لیا اور اس کا ڈھکنا کھولنا چاہا لیکن ڈھکنا بہت مضبوطی سے بند کیا گیا تھا، آسانی سے کھل نہیں رہا تھا۔ آخر مچھیرے نے زور لگا کر جھٹکا جو دیا تو بوتل ایک دم کھل گئی اور اس میں سے دھواں نکلنے لگا مچھیرا حیران ہو کر بوتل کو دیکھنے لگا کہ اس میں سے یہ دھواں کیسا نکل رہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دھواں ایک خوفناک جن کی شکل اختیار کر گیا اور وہ جن کہنے لگا "اے بادشاہ سلیمان ! آپ مجھے معاف کر دیں آئندہ میں کبھی ایسی غلطی نہیں کروں گا۔

 ماہی گیر پہلے تو بہت خوفزدہ ہوا لیکن جن کے الفاظ سن کر وہ رک گیا۔ اس نے کہا " اے جن! مجھے معلوم ہے کہ حضرت سلیمان کا زمانہ تو بہت پرانا تھا لیکن اب تم ان سے کس بات کی معافی مانگ رہے ہو، کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم کون ہو ؟ " جن نے سُرخ سُرخ آنکھوں سے مچھیرے کو دیکھا اور بولا " اے بے ادب ! حضرت سلیمان کا نام ذرا تمیز سے لے اور اپنے آخری وقت جیسے یاد کرنا ہے کرلے،میں تجھے قتل کر نیوالا ہوں: ماہی گیر بولا " بھائی ! میں نے تمہیں کیا نقصان پہنچایا ہے کہ تم مجھے قتل کرنے پر تیار ہو گئے حالانکہ تم کئی سو سالوں سے اس جگہ بند پڑے تھے اور اب مجھے قتل کر نا چاہتے ہو " جن نے کہا "بے شک ! تم نے مجھے رہا کیا ہے لیکن میں نے قسم کھائی ہے جب حضرت سلیمان نے ناراض ہو کہ مجھے اس بوتل میں قید کیا۔ میں نے قسم کھائی کہ سو سال میں جو مجھے اس بوتل سے آزاد کرے گا میں اسے بادشاہ بنا دوں گا لیکن مجھے کسی نے اس قید سے آزاد نہیں کیا۔ پھر میں نے قسم کھائی کہ جواب دو سو سال میں مجھے آزاد کرے گا میں ساری دنیا کے خزانے اس کے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا لیکن پھر بھی کسی انسان نے مجھے آزاد نہ کیا. اب میں تنگ آچکا لہذا میں نے اب قسم کھائی کہ اب جو بھی مجھے اس بوتل سے باہر نکالے گا میں اسے قتل کر دوں گا۔ چنانچہ اب تم نے مجھے آزاد کرایا ہے اور میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ مچھیرا بہت پریشان ہوا کہ وہ بیٹھے بٹھائے کس مصیبت میں پھنس گیا۔

 آخر اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ وہ جن سے بولا ٹھیک ہے، میں تیرے ہاتھوں قتل ہونے کو تیار ہوں لیکن پہلے تجھے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ تم جو کہہ رہے ہو وہ سچ ہے یا جن حیران ہو کر بولا گیا مطلب ہے تمہاری بات کا ؟ مچھیرا بولا یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تم مجھے قتل کرنے کے بہانے یہ کہانی سنارہے ہوا جن غصے میں آکر بولا " تمہارا مطلب ہے میں یہ جھوٹ بول رہا ہوں اور تم مکاری کر رہا ہوں ۔ مچھیرا مکاری سے بولا " سچ پوچھو تو مجھے یہی معلوم ہوتا ہے ور نہ سوچنے کی بات ہے کہ تمہارے جیسا بڑا جن اس چھوٹی سی بوتل میں کس طرح آگیا، جتنی بڑی یہ بوتل ہے اس میں تو میرا ایک بھی پاؤں نہیں آسکتا پھر تم کیسے سما گئے ، جن مزید غصے میں آکر بولا " لو یہ کون سی بڑی بات ہے میں تمہیں اس بوتل میں پھر داخل ہو کہ دکھا سکتا ہوں، پھر تو تمہیں میری بات کا یقین آجائے گا ۔ ہاں ! پھر مجھے تمہاری بات کا یقین آجائے گا ۔ مچھیرا سر ہلا تا ہوا بولا لیکن اس کے بعد میں تمہیں قتل کر دوں گا کیونکہ میں قسم کھا چکا ہوں ۔ جن نے یاد دلایا۔ مچھیرا جن کی حماقت پر دل ہی دل میں ہنستا ہوا بولا" بالکل ٹھیک ہے، مجھے یہ بھی منظور ہے ۔ اب جن ایک مرتبہ پھر دھویں میں تبدیل ہوا اور بوتل میں چلا گیا ۔

 جن کا بوتل میں داخل ہونا تھا کہ مچھیرے نے جلدی سے لپک کر بوتل کے اوپر حضرت سلیمان والی مہر لگادی ۔ جن اب ایک مرتبہ پھر بوتل میں قید ہو چکا تھا۔ جب جن کو مچھرے کی چالاکی کا علم ہوا تو وہ گڑ گڑانے لگا اے مچھیرے مجھے معاف کر دے میں تو صرف تجھے ڈرا رہا تھا ورنہ میرا مقصد تجھے قتل کرنا نہیں تھا۔ اب مجھے باہر نکال دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی انسان کو تنگ نہیں کر وں گا۔ مچھیرا کہنے لگا " تجھے معاف نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ تو نے بالکل وہی کام کیا ہے جو ایک یونانی بادشاہ نے حکیم لقمان کے ساتھ کیا تھا۔

 کون سا کام ہے جن نے کہا ۔ مجھے حکیم اور بادشاہ والی کہانی ضرور سُناؤ مچھیرے نے کہا میں تمہیں یہ کہانی ضرور سناؤں گا کیونکہ وہ بادشاہ بھی تمہاری طرح احسان فراموش تھا یہ مچھیرا تھوڑی دیر رکا اور پھر بولنے لگا۔ ایک دفعہ یونان کا بادشاہ ایک بہت خطرناک بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے بہت سے حکیموں اور طبیبوں سے علاج کرایا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ تمام حکیموں نے جواب دے دیا کہ اگر کچھ عرصہ تک بادشاہ اسی طرح بیماری میں مبتلا رہا تو اس کی موت یقینی ہے۔

ایک دن بادشاہ کو معلوم ہوا کہ ایک حکیم لقمان ہے اس کے پاس تقریباً ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔ اگر بادشاہ اپنا علاج اس سے کرائے تو ضرور صحت یاب ہو سکتا ہے ۔بادشاہ نے اپنی فوج کے آدمی روانہ کر دیتے کہ حکیم لقمان کو اس کے دربار میں حاضر کیا جائے حکیم لقمان کو بادشاہ کے علاج کیلئے دربار میں پیش کیا گیا۔ لقمان حکیم نے بڑی توجہ سے بادشاہ کا معائنہ کیا اور بولا آپ بالکل فکر نہ کریں آپ کی بیماری کا علاج میرے پاس موجود ہے۔ بادشاہ خوش ہو کر بولا اگر تم میرا علاج کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میں تمہیں انعام سے مالا مال کر دوں گا۔ حکیم لقمان نے جواب دیا حضور مجھے انعام کا لالچ نہیں ہے۔ میں تو بس آپ کی صحت چاہتا ہوں۔ آپ کی بیماری کے لئے جس دوا کی ضرورت ہے اسے تیار کرنے میں چند دن لگیں گےاور پھر اس کے استعمال سے آپ کی بیماری جاتی رہے گی۔ بادشاہ نے حکیم لقمان کو انعام دے کر رخصت کر دیا۔

AreeBTLM


 چند روز بعد حکیم لقمان بادشاہ کے پاس ایک گیند لیکر آیا اور بولا حضور ! آپ میدان میں جا کر خوب دوڑ لگائیں اور جب خوب تھک جائیں اور سارے جسم سے پسینہ بہنے لگے تو اس گیند کو جسم پرمل کر نہا لیں۔ انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ اس کے بعد آپ بالکل تندرست اورر صحت یاب ہو جائیں گے ۔ بادشاہ نے گیند لے لی اور اس دن میدان میں خوب دورا اتنا دوڑا کہ جسم پسینے سے شرابور ہو گیا۔ اب بادشاہ نے حکیم لقمان کی ہدایت کے مطابق اس گیند کو جسم پر ملااور تھوڑی دیر بعد گرم پانی سے اچھی طرح نہا لیا ۔ در اصل اس گیند میں ایک دوائی بھری ہوئی تھی جومساموں کے ذریعے جسم میں داخل ہو گئی تھی۔

غسل کرنے کے بعد بادشاہ نے اپنے جسم میں ایک نئی قوت اور توانائی محسوس کی اور ایک آدھ روز میں اس کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ اب تو بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس نے حکیم لقمان کو بلا کر انعام سے مالا مال کر دیا ۔

بادشاہ کا وزیر بہت کمینہ پرور تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ بادشاہ حکیم پر بہت مہربان ہے تو اس نے بادشاہ کے کان بھرے کہ یہ حکیم مجھے دشمن کا جاسوس معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کے راز معلوم کرنے کے لئے اس نے آپ کی جان ہے۔

مکار وزیر نے بادشاہ کے ایسے کان بھرے کہ اس نے حکیم کو بلایااور سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس حکیم کا سر قلم کردو ۔ جب حکیم سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا " میرے گھر کی الماری میں ایک کتاب رکھی ہے، اسے لایا جاتے ہیں وہ بادشاہ کو پڑھوانا چاہتا ہوں ۔ کتاب لائی گئی لیکن جب بادشاہ نے کتاب کو پڑھنا چاہا تو اس کے صفحے جڑےہوئے تھے۔ بادشاہ نےانگلی گیلی کر کے صفحے علیحدہ کئے۔ ہر صفحے پر زہرلگا ہوا تھا۔ یہ زہر تھوک کے ساتھ بادشاہ کے اندر چلا گیا اور وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا ۔ حکیم نے کہا " اگر بادشاہ مجھے مروانے کی کوشش نہ کرتا تووہ خود نہ مرتا یہ کہانی سنا  کر مچھیرا بولا" اگر تو مجھے قتل کرنے کی خواہش نہ کرتا تو اس مصیبت میں نہ پھنستا۔

 جن اس کہانی سے بہت متاثر ہوا اور پھر حضرت سلیمان کی قسم کھا کہ بولا کہ اگر مچھیرے نے اسے یہ رہا کردیا تو وہ اسے مالا مال کر دیگا۔ مچھیرے نے جن کو رہا کر دیا۔ اس پر جن نے خوش ہو کر مچھیرے کو اس قدر دولت دی کہ اس کی کئی نسلوں کے لئے کافی تھی ۔

ختم شُد

#Hakeem ki chalaki #Urdustory #AreeBTLM #Naushadali19881

Shahzada Jan-e-Aalam

 شہزادہ جانِ عالم (کہانی)

شہزادہ جانِ عالم

پُرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک یمن میں ایک بہت انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ رعایا بہت خوش تھی، ہر طرف خوشحالی تھی اور لوگ اپنے بادشاہ کو دعائیں دیتے تھے ۔ یوں تو بادشاہ کو دنیا کی ہر دولت میسر تھی لیکن اس کی کوئی اولاد نہ تھی جس کی وجہ سے بادشاہ بہت اُداس رہتا تھا کہ اگر وہ مرگیا تو اس کے بعد گھر بار اور تخت تاج کا کیا بنے گا ۔

آخر بہت سی دُعاؤں اور منتوں کے بعد بادشاہ کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ بادشاہ نے اس کا نام شہزادہ جان عالم رکھا۔ شہزادہ جان عالم اس قدر خوبصورت تھا کہ جو بھی دیکھتا سبحان اللہ کہہ اٹھتا۔ شہزادہ جان عالم ذرا بڑا ہوا تو اسے مختلف علوم و فنون سکھانے کے لئے بہت سے استاد مقرر کئے گئے۔ تھوڑے عرصے میں شہزادہ جان عالم اس قدر عمدہ تلوار اور نیزہ چلانا سیکھ لیا کہ جو بھی دیکھتا عش عش کر اٹھتا اور دنگ رہ جاتا کہ اتنا سالڑکا بجلی کی تیزی سے تلوار چلاتا ہے

شہزادہ جانِ عالم جب جوان ہوا تو اس کی خوبصورتی اور علم کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ در حقیقت شہزادہ جان عالم اس قدرخوبصورت تھا کہ جو بھی اسے دیکھتا دانتوں میں انگلی دبا لیتا اور کہتا کہ اس نے اس سے زیادہ خوبصورت نوجوان آج تک نہیں دیکھا۔

ایک دن شہزادہ جان عالم شہر کی سواری کو نکلا۔ اس نے دیکھا کہ ایک چوک پر لوگوں کا ہجوم لگا ہوا ہے ۔ شہزادے کو اشتیاق ہوا کہ دیکھیں کیا قصہ ہے جو اتنے لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں۔ شہزادے نے قریب جا کر دیکھا تو ایک بہت عمر رسیدہ آدمی نظر آیا۔ اس نے ہاتھ میں ایک پنجرہ اٹھا رکھا تھا جس میں ایک طوطا تھا۔ یہ طوطا لوگوں کو بڑی شائستگی سے عمدہ عمدہ قصے اور لطیفے سنا رہا تھا، اور لوگ اس کے قصے سن کر واہ واہ کر رہے تھے ۔

شہزادہ جانِ عالم اس طوطے کو دیکھ کر رک گیا اور گھوڑے سے اُترا اور مجمع کے قریب آیا۔ شہزادے کو دیکھ طوطا چہکا" اے بھئی! مد اری آج تیری قسمت جاگ اُٹھی کہ ایک شہزادہ خود تیرے پاس چل کر آیا ہے۔ شہزادہ طوطے کے انداز بیان پر بہت خوش ہوا اور بوڑھے مداری سے پوچھنے لگا کیوں اے بزرگ ! اس طوطے کی کیا قیمت ہے ؟ مداری نے تو جواب نہیں دیا البتہ طوطا بولا " قدردان کے نز دیک شئے کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ۔" یہ بات سن کر شہزادہ اور زیادہ متاثر ہوا اور بوڑھے مداری کو اشرفیوں سے مالا مال کر کے طوطے کو خرید لیا۔

شہزادہ طوطے کو اپنے محل میں لے آیا۔ طوطا خوب مزے مزے کی باتیں کرتا تھا، دیس دیس کے قصے سناتا رہتا تھا جنہیں شہزادہ بہت شوق سے سنتا تھا۔ شہزادہ جانِ عالم کو اپنی خوبصورتی پر بہت ناز تھا۔ ایک دن وہ نہا دھو کر نئی پوشاک پہن کر طوطے کے پاس آکھڑا ہوا جس نے بھی اسے دیکھا اس کی خوبصورتی کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا مگر طوطا چپ رہا اس نے کچھ نہ کہا۔ آخر شہزادے سے نہ رہا گیا وہ بولا : کیا بات ہے ؟ اےطوطے ! تم نے میری تعریف میں کچھ نہیں کہا ؟ طوطے نے جواب دیا " حضور ! آپ بے شک بہت حسین ہیں لیکن میں پھر بھی اس بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا کیوں کہ آپ برا مان جائیں گے۔"  شہزادے نے جلدی سے کہا " تم کہو، یقین مانو ہم قطعاً ناراض نہیں ہوں گے؛ طوطا بولا " حقیقت معلوم کرنا چاہتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ اگر میں نے دنیا میں کسی کو حسین دیکھا ہے تو وہ شہزادی حسن آرا ہے۔ اس کا حسن دیکھ کر تو چاند سورج شرما جاتے ہیں، پریوں کا رنگ رُوپ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ شہزادی حسن آرا کی کنیزیں بھی اس قدر خوبصورت ہیں کہ کوئی عام عورت انہیں دیکھ لے تو حسد کے مارے جل جائے۔"



طوطے نے شہزادی حسن آرا کے بارے میں اس قدر تعریفیں کیں کہ شہزادہ بے چین ہو گیا اور فیصلہ کر لیا کہ وہ شہزادی حسن آرا کو ضرور دیکھے گا۔ شہزادہ جانِ عالم نے طوطے سے پوچھا کیا تم شہزادی حسن آرا کے ملک کا راستہ جانتے ہو ؟" طوطے نے جواب دیا " میں تمام راستہ جانتا ہوں اور آپ کو وہاں لے جا سکتا ہوں لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ وہاں جانے کا فیصلہ نہ ہی کریں تو بہتر ہے کیونکہ شہزادی حسن آرا کے ملک کا راستہ بہت دشوار گزار ہے اور راستہ میں اس قدر مشکلات ہیں کہ جان کا بھی خطرہ ہے ۔ لیکن شہزادہ جان عالم کے سر پر شہزادی حسن آرا کو دیکھنے کا اس قدر شوق سوار تھا کہ اس نے فیصلہ کر لیا کہ چاہے اس سفر میں اسے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ پیش آئیں وہ اس سفر پر روانہ ضرور ہو گا۔ آخر ایک دن شہزادہ اپنے چند جانثاروں اور اس طوطے کو لیکراس سفر پر روانہ ہو گیا۔ ان کا قافلہ طوطے کی بتائی ہوئی سمت کی طرف تیزی سے اُڑا جا رہا تھا۔ اچانک شہزادے کو سامنے سے دو تین نہایت خوبصورت ہرن دوڑتے نظر آئے۔ شکار کا شوق تو شہزادے کو شروع سے تھا۔ اس نے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا اور انہوں نے اپنے گھوڑے ہرن کے پیچھے ڈال دیئے۔ طوطے نے لاکھ منع کیا شور مچایالیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی ۔

 اسی بھاگ دوڑ میں وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور راستہ بھٹک کر کہیں سے کہیں نکل آتے۔ اب جو شہزادہ جانِ عالم نے دیکھا تو نہ اس کے ساتھی ساتھ تھے اور نہ ہی بولنے والا طوطا ۔ وہ ایک ویران جنگل میں کھڑا تھا۔ تھوڑی دیر تک تو وہ کھڑا سوچتا رہا کہ کیا کرے پھر اللہ کا نام لے کر ایک طرف چل پڑا۔ ابھی وہ تھوڑی دور گیا تھا کہ اسے ایک باغ نظر آیا۔ شہزادہ اس باغ میں داخل ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ سامنے بارہ دری میں ایک عورت بیٹھتی ہے اور بہت سی کنیزیں اس کے گھر دکھڑی ہیں۔ اس باغ میں بہت خوبصورت پرندے چہچہاتے پھر رہے تھے۔ درخت پھلوں سے لدے ہوئے تھے شہزادے نے عجیب ماجرا دیکھا کہ وہاں موجود جو بھی شخص پھل کھانے  کی خواہش کرتا ہے پھل خود بخود اس کے منہ کے قریب چلا جاتا اور اسے ہاتھ بڑھانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ شہزادہ بارہ دری کے قریب چلا گیا۔ بارہ دری میں بیٹھی عورت شہزادے کو دیکھ کر بولی: "آؤ شہزادہ جان رُک کیوں گئے۔ مجھے مدتوں سے تمہارا انتظار تھا اور آج میرا جادو تمہیں کھینچ لایا۔"

شہزادہ جانِ عالم نے سوال کیا " تم کون ہو ؟" میں جادو گروں کے بادشاہ شہر یال کی بیٹی ہوں اور تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں، میری بہت بڑی سلطنت ہے تم ساری عمر عیش و آرام سے رہو گے ۔ شہزادے نے کہا " میں شہزادی حسن آرا کی تلاش میں نکلا ہوں اور میں کسی بھی صورت تم سے شادی نہیں کر سکتا ، جادو گر شہریال کی بیٹی نے کہا " تم حسن آرا کا خیال چھوڑ دو اور میرے ساتھ رہو میں دُنیا کی ہر نعمت تمہارے لئے حاضر کروں گی ! جان عالم نے مضبوط لہجے میں کہا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا یہ جادوگر شہریال  کی بیٹی غصے سے زمین پر پاؤں پٹخ کر بولی تو پھر ٹھیک ہے، تمام عمر اسی باغ میں سڑتے رہو ۔ جب تک تم میری بات نہیں مانو گے اسی باغ میں قیدر ہو گئے اتنا کہہ کہ جادوگر شہریال کی بیٹی اپنی کنیزوں کے ساتھ باغ سے چلی گئی۔ اس کے بعد شہزادہ جانِ عالم نے باغ سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن کوئی دروازہ نہیں ملا، دیوار پھلانگنے کی کوشش کی تو دیواریں اونچی ہوگئیں ۔ شہزادہ اندر باغ میں پھر تار ہا پھر تھک کے ایک درخت کے نیچے سو گیا ۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ کہ رہے ہیں۔ بیٹا اُٹھ کر اس درخت کے نیچے زمین کھودو، تمہاری تمام مشکلات حل ہو جائیں گی۔

اتنی دیر میں شہزادے کی آنکھ کھل گئی اور اس نے اللہ کا نام لے کر درخت کے نیچے زمین کھودنی شروع کر دی۔ ابھی تھوڑی زمین کھودی تھی کہ ایک تختی نکل آئی جس پر لکھا تھا، اگر کوئی کسی جادو گر کے چنگل میں پھنس جائے تو ایسے یہ اسم پڑھنا چاہئے۔ شہزادہ جان عالم نے سختی کے نیچے لکھا ہوا اسم یاد کر لیا تختی کو جیب میں ڈالا اور اسم پڑھتا ہوا باغ کی دیوار کی جانب چل پڑا۔ جیسے ہی دیوار کے قریب پہنچا دیوار میں خود بخود راستہ پیدا ہو گیا۔ شہزادہ آرام سے باہر نکل آیا اور چل پڑا۔ کئی مہینے سفر کر تا رہا ۔ آخر اسے دور سے ایک محل چمکتا ہوا نظر آیا۔ شہزادہ جانِ عالم ادھر ہی چل پڑا۔ جلد ہی وہ اس شہر میں داخل ہو گیا لیکن شہزادے نے ایک عجیب بات یہ دیکھی کہ شہر کے ہر آدمی نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا ہے اور ہر شخص اُداس اور افسردہ ہے ۔ آخر شہزادہ جانِ عالم نے ایک آدمی کو روک کر پوچھا " بھائی یہ کون سا مقام ہے ؟" اس آدمی نے سر سے پاؤں تک شہزادے کا جائزہ لیا اور پھر بولا اس ملک کو " زرنگار "کہتے ہیں ۔ شہزادہ جان عالم نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا۔ کیوں کہ شہزادی حسن آرا زرنگار ملک کی شہزادی تھی ۔ اور آخر کار وہ شہزادی حسن آرا کے ملک میں پہنچ گیا تھا۔ اس نے پوچھا آخر آپ لوگوں نے یہ سیاہ رنگ کے ماتمی لباس کیوں پہن رکھے ہیں ؟   اُس آدمی نے جواب دیا " بات دراصل یہ ہے کہ ایک جادو گر ہمارے ملک کی شہزادی کو اُٹھا کر لے گیا ہے جب سے تمام ملک نے سیاہ ماتمی لباس پہن رکھا ہے اور بادشاہ ملکہ سمیت تمام رعایا اُداس ہے۔

 شہزادی حسن آرا کے بارے میں سُن کر شہزادے کا رنگ اُڑ گیا۔ پھر وہ حوصلے سے کام لیتا ہو ا بولا: کیا تم بتا سکتے ہو یہ جادو گر شہزادی کو لے کر کہاں گیا ہے اس کا ٹھکانہ کون سا ہے ؟ " اس آدمی نے جواب دیا: یہاں سے چار پانچ کوس سفر کر و تو چاروں طرف آگ نظر آئے گی۔ اس آگ کے درمیان ایک قلعہ ہے اس قلعے میں ہی وہ منحوس جادوگر رہتا ہے ۔ جو بھی اس جادوگر کی تلاش میں گیا پھر زندہ واپس نہیں آیا ۔ اتنا کہہ کر وہ تو آگے چل پڑا اور شہزادہ جان عالم نے جادوگر کے قلعہ کی جانب اپنا گھوڑا ڈال دیا۔ چار پانچ کوس سفر کرنے کے بعد اسے ایک قلعہ نظر آیا جو چاروں طرف سے آگ میں گھرا ہوا تھا اور اس سے آگے جانے کا راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ شہزادہ جان عالم نے دیکھا کہ ایک ہرن اس آگ میں سے اچھلتا ہے اور پھر دوبارہ آگ میں غائب ہو جاتا ہے شہزادہ جانِ عالم نے جیب میں سے طلسمی تختی نکال کر دیکھی لکھا تھا اس ہرن پر تیر سے نشانہ لگا ؤ  اگر درست بیٹھا تو جادوگر کا یہ سارا طلسم خانہ تباہ ہو جائے گا ورنہ تم خود مارے جاؤ گے۔ شہزادے نے کمان میں تیر چڑھایا اور  جیسے ہی ہرن اچھلا شہزادے نے نشانہ لے کر تیر چھوڑ دیا۔ تیر ہرن کو جاکر لگا ایک دم ہر طرف شور مچا اور اندھیرا چھا گیا۔ جب اندھیرا ختم ہوا تو شہزادے نے دیکھا کہ تمام قلعہ اور آگ غائب ہے۔ تھوڑے فاصلے پر ایک بھیانک صورت جادو گر کی لاش پڑی ہے اور قریب ہی گھٹنوں میں سر دئیے ایک لڑکی بیٹھی ہے یہ شہزادی حسن آرا تھی، شہزادہ اس کے قریب چلا گیا شہزادی سمجھ گی کہ یہی شخص ہے جس نے مجھے اس مصیبت سے نجات دلاتی ہے۔

شہزادہ جانِ عالم نے شہزادی حسین آرا کو گھوڑے پر بٹھایا اورواپس اس کے شہر لے آیا۔ جب شہزادی حسن آرا کے باپ کو شہزادہ جان عالم کے کارنامے کے بارے میں پتہ چلا تو اس قدر خوش ہوا کہ اس نے شہزادی حسن آرا کی شادی شہزادہ جانِ عالم کے ساتھ کر دی اور اپنا ملک بھی اس کے سپرد کر دیا ۔

ختم شد

انتخاب: نوشاد علی ریاض احمد۔

#Shahzada Jan-e-Aalam #Selection # AreeBTLM #naushadali19881

Bewaqoof Gadha

 انتخاب:

بے وقوف گدھا

 

ایک گدھا کسی جنگل میں رہتا تھا ۔ اس کا کوئی کام نہیں تھا۔ بس گھومتار ہتا۔ جہاں ہری ہری گھاس نظر آ جاتی پیٹ بھر کر کھا تا ،کسی تالاب پر پانی پی لیتا اور زمین پر لوٹتے رہتا۔ یوں اس کی زندگی بہت اچھی گذر رہی تھی مگر اسے ہمیشہ ایک ڈر رہتا تھا۔

ایک دن اسے ایک لومڑی مل گئی ۔ گدھا اس دن بہت خوش ہورہا تھا۔ اچھی اچھی گھاس نے اس میں نئی طاقت بھر دی تھی ۔ اس نے لومڑی کو دیکھا تو ذرا آواز بھاری بنا کر بولا ۔ ”اے بی لومڑی! اگر آج شیر مل جائےتو بس میں ایک دولتی میں اس کا کام تمام کر دوں ۔“

لومڑی اس دن نیکی کے موڈ میں تھی اس نے اسے سمجھایا کہ وہ ایسی غلطی نہ کرے ورنہ مارا جائے گا۔ لومڑی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا:

تم ہو تو گد ھے مگر گدھے پن کی بات مت کرنا ،تم دیکھتے ہو بڑےبڑے جانور بھی شیر سے ڈرتے ہیں ۔“ لومڑی کی بات گدھے کی سمجھ میں آ گئی اس نے سوچا کہ لومڑی جیسا چالاک جانور بھی شیر سے ڈرتا ہے اس لیے اسے بھی اپنی دل کی تمنا دل میں رکھنا چا ہیے ۔ وہ چپ ہوگیا مگر اس کا دل چاہا کہ وہ بھی شیر بن جائے تا کہ سب جانو راس سے ڈریں ۔ وہ اکثر دیکھتا تھا کہ جب شیر تالاب پر پانی پینے آتا تھا تو سب جانور وہاں سے بھاگ جاتے تھے اور شیر اکیلا مزے مزے سے پانی پیتا تھا۔ حالانکہ جب گدھا بے چارا جا تا تو جانو را سے دھکا دیتے اور اسے بڑی مشکل سے پانی پینے کو ملتا۔ ایک بار تو ایک بھالو نے اسے اس زور سے دھکا دیا تھا کہ وہ تالاب میں گر گیا تھا اور بڑی مشکل سے باہر نکلا تھا۔

AreeBTLM


گدھابے چارا ہمیشہ کی طرح گھومنے پھرنے میں لگ گیا ۔ ایک روز وہ گھنے جنگل سے گزررہا تھا تو اس نے دیکھا شیر کی کھال زمین پر پڑی ہے ۔ پہلی نظر میں تو گدھا خوف زدہ ہو گیا تھا مگر جب اس نے غور کیا تو پتاچلا کہ وہ اصلی شیر نہیں ہے بلکہ شیر کی صرف کھال ہی  ہے ۔ گدھے کی مراد بر آئی ۔آس پاس کوئی تھا بھی نہیں ۔اس نے جھٹ پٹ کھال پہن لی ۔ کھال پہن کر اس نے تالاب کا رخ کیا۔ اس کا مقصد تھاکہ پانی میں اپنا عکس دیکھے۔ ابھی وہ تالاب سے تھوڑی دور تھا کہ جانور بھاگنے لگے ۔ گدھا خود بھی چوکنا ہو گیا اور ایک طرف کو دوڑا۔ وہ سمجھا تھا کہ شاید شیر آ گیا مگر اسے حیرت ہوئی کہ جس طرف بھی وہ جا تا جانور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے ۔ اب اس کی سمجھ میں آیا کہ سارے جانورتو اسے ہی شیر سمجھ رہے ہیں ۔

اس بات سے گدھے کی ہمت بہت بڑھ گئی ۔ اب تو گدھے کے مزے ہو گئے ۔ وہ جہاں جا تا اکیلا ہوتا۔ تالاب پر اطمینان سے پانی پیتا۔ جب تالاب پر  ہوتا تو اسے کوئی تنگ نہ کرتا۔ سارے جانور اس کے آرام کا خیال رکھتے ،گدھے نے شیر کی کھال کیا پہنی تھی اس کے تو دن ہی بدل گئے تھے۔ گدھا بہت خوش تھا اور ہر طرح یہ کوشش کرتا کہ جنگل کے

جانوروں کو پتا نہ چلے۔ وہ خاص طور سے لومڑی سے بچتا تھا کیونکہ اسے خبر تھی کہ لومڑی بہت چالاک ہے۔

لومڑی تھی تو چالاک ،وہ اس ٹوہ میں لگی رہتی تھی کہ یہ نیا شیر جنگل میں کہاں سے آ گیا ہے ۔ مگر گدھے کو اس بات کی بالکل خبر نہیں تھی۔ ایک دن گدھے نے خوب کھانا کھایا۔ سیر ہو کر پانی پیا۔ گہری نیند سویا۔ جب جاگا تو بھول گیا کہ اس نے شیر کی کھال پہن رکھی ہے۔ لگا اپنی آواز یں نکالنے۔ لومڑی کہیں قریب تھی ۔ وہ بھاگی بھاگی آئی دیکھا تو شیر ڈھینچو ڈھینچو کی آوازیں نکال رہا ہے۔ اب اسے معلوم ہوا کہ شیر کی کھال میں ایک گدھا چھپا ہوا ہے ۔

وہ کہنے لگی:

ارے گدھے جب شیر بنا تھا تو آواز بھی شیر والی لے کر آتا ۔ توبولنے سے پکڑا گیا ۔

سچ ہے کہ نقل کرنے والا اصل نہیں ہوتا اور جھوٹ کھل ہی جا تا ہے ۔

#Bewaqoof Gadha #AreeBTLM #Urdustory #Makhooz

Chuha aur Maindak

ماخوذ:

جھگڑا کرنا بری بات ہے

 

ایک تالاب میں ایک چوہا رہتا تھا اور ایک مینڈک بھی ٹرّاتا رہتا تھا ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو بالکل پسند نہیں کر تے تھے ۔ چوہے کو شکایت تھی کہ مینڈک ہر وقت ٹرٹر کرتا رہتا ہے، نہ وقت دیکھتا ہے نہ موسم ، خود بھی جاگتا ہے اور سب کو جگا تا ہے ۔اس کی ہر وقت کی ٹرٹر سے سر میں درد ہو جا تا ہے ۔ مینڈک کہتا تھا کہ یہ چوہا چین سے نہیں بیٹھتا۔ اس کا تو کام بس گھومتے رہنا ہے ۔ جب دیکھو سر ہلا تا گھومتا ہے اور پانی میں ہر وقت چپ چپ کر کے شور مچاتا ہے۔ پہلے تو یہ دونوں ادھر ادھر یہ باتیں کہتے رہتے تھے پھر دونوں جب آمنے سامنے ہوتے تو ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے اور ا تتالڑ تے اتنالڑتے کہ سارے جانور جمع ہو جاتے مگر ان کی لڑائی جاری رہتی ۔

 ایک دن جب دونوں میں لڑائی شروع ہوئی تو چوہے نے مینڈک سے کہا کہ وہ تالاب چھوڑ کر چلا جائےکیونکہ تالاب کا مالک وہ نہیں ہے بلکہ چوہا ہے اور اس سے پہلے یہ جگہ چوہے کے باپ دادا کی تھی ۔ مینڈک نے کہا کہ یہ بات درست نہیں اس جگہ کے مالک اس کے باپ دادا تھے اور چوہے کو چاہیے کہ وہ کسی اور جگہ جا کر رہے۔اس بات پر تو لڑائی اور بڑھ گئی۔ پہلے تو دونوں دور دور سے ایک دوسرے کو آنکھیں دکھاتے تھے اب یہ ہوا کہ گھتم گتھا ہو گئے ۔یہ سب ایک چیل بھی دیکھ رہی تھی۔ وہ بہت دنوں سے ان دونوں کی تاک میں تھی مگر یہ دونوں چُھپ جایا کرتے تھے اور چیل کے ہاتھ نہ آتے تھے۔ اب جھگڑے میں چیل کو بھول گئے تھے ۔ایک دوسرے کی دشمنی میں اپنی دشمن چیل کو بھُلا بیٹھے تھے۔

چیل نے موقع مناسب دیکھا اور تیزی سے جھپٹ کر ان دونوں کو جنگل میں لے کر اُڑ گئی ۔ سچ ہے کہ آپس کے جھگڑے میں دشمن کا میاب ہو جا تا ہے ۔

#Chuha aur Maindak #AreeBTLM #Urdustory 

Komal Joya

کومل جوئیہ کی شاعری کا فنی Funny 😉جائزہ _________________________ نعیم سلیم، مالیگاؤں مہاراشٹر انڈیا  🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺 *منسوب چراغوں سے طر...