=" Urdu Kahaniyan (AreeB)

Chacha Gidh

 چاچا گدھ

انتخاب : نوشاد علی

 میں کبھی گِدھوں کے بارے میں سوچتا بھی نہ تھا گِدھوں کے بارے میں سوچتا بھی کون ہے! وہ نہ تو خوبصورت ہیں اور نہ ہی ان کی آواز ایسی سُریلی ہے جسے سنا جائے بلکہ وہ تو شور مچانے والے بد صورت اور بدبودار پرندے ہیں ۔ان میں کوئی ایسی خاص بات نہیں جو لوگ ان سے محبت کریں۔میرے والد ایک کسان ہیں وہ اپنی زمینوں پر باجرہ، تل اور پھلیاں اُگاتے ہیں۔ ہمارے پاس ہر طرح کے جانور بھی ہیں۔ اسکول سے آنے کے بعد گھر میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ کام کرنے کو ہوتا لہذا ہمیں کھیلنے کو مشکل ہی سے وقت ملتا ۔میں اس بارے میں کوئی شکوہ نہیں کر رہا کیونکہ میں نے اپنا بچپن بہت اچھا گزارا اور ہمارے والدین نے اس بات کا بہت خیال رکھا کہ ہمیں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ ہمارے علاقے میں موسم زیادہ تر گرم اور خشک رہتا تھا ۔جب یہ گرمی ناقابل برداشت ہو جاتی تو ہمیں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا اور ہمارے بہت سے جانور پیاس سے مر جاتے ۔جب بھی کوئی جانور مرتا تو اس کے مردہ جسم کو کھیت کے باہر لے جا کر چھوڑ دیا جاتا  تاکہ پرندے اور دوسرے جانور ا ٓکر انہیں کھا لیں۔

 ایک سال ہمارے گاؤں میں خشک سالی ہوئی اس سال ہمارا بہت نقصان ہوا ۔فصلیں خراب ہو گئیں اور جانور مرنے لگے ہماری دو بکریاں اور ایک گائے مر گئیں۔ میں نے اور میرے بھائی نے مردہ جانوروں کوکھیت سے باہر لے جا کر چھوڑ دیا تاکہ گد ھ اور دوسرے جانور آ کر انہیں کھا لیں۔ اگلی صبح اسکول جاتے ہوئے میں نے دیکھا کہ مردہ جسم اب تک وہیں پڑے ہوئے ہیں۔ جو کوئی ایسی خلاف معمول بات نہیں تھی کیونکہ اکثر گدھوں اور دوسرے جانوروں کو مردہ جانور خانے میں دو تین دن لگتے تھے مگر آج کسی چیز کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ ہاں آج گدھ نہیں تھے۔

مجھے یہ بات بہت عجیب لگی ہمیشہ تو گدھ مردہ جانوروں کے ارد گرد جمع ہوتے اور بوٹی بوٹی کے لیے لڑ رہے ہوتے تھے۔ مگر آج کوئی بھی نہ تھا میں اسکول پہنچنے تک اس بارے میں سوچتا رہا مگر جب پڑھائی شروع ہوئی تو سب کچھ بھول کر پڑھائی میں لگ گیا ۔اس دوپہر گھر آ کر جب میں اور بھائی صفائی کر رہے تھے تب مجھے یاد ایٓا بھائی کیا آپ نے آج کوئی گدھ  دیکھا ،میں نے پوچھا ،بھائی تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولے،‘‘ نہیں ! میں نے آج کوئی گد ھ نہیں دیکھا۔’’

‘‘  کافی عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ باہر دو موٹے تازے جانور مرے پڑے ہیں اور گدھ  ہی نظر نہیں آرہا ہے !’’

‘‘بالکل صحیح !میں بھی یہی سوچ رہا تھا ’’ مگر وہ تو صرف گدھ ہیں ان کی کسی کو کیا فکر ہو؟  عجیب بات تو یہ تھی کہ میں ان کے بارے میں سوچ رہا تھا اور میں نہیں جانتا کیوں ؟

کچھ دنوں بعد اپنے گھر والوں کے ساتھ ناشتہ کرتے ہوئے میں نے اپنے والد کے ساتھ والدہ کو باتیں کرتے ہوئے سنا : ‘‘ کیا تم نے سنا ہے کہ خشک سالی کے بعد سے بہت کم گدھ  نظر آرہے ہیں ؟ ’’ میرے والد نے کہا ۔ ‘‘ خاص طور پر جانوروں کے مردہ جسم ادھر اُدھر پڑے ہونے کی وجہ سے سارا علاقہ غلیظ لگ رہا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ سائنس دانوں کی ٹیم یہاں یہ پتہ کرنے کے لیے آ رہی ہے کہ گدھ اچانک کہاں غائب ہو گئے ۔’’

اس دن میں اسکول جاتے ہوئے اس بارے میں سوچتا رہا آخر سائنسدان ہماری زمینوں پر کیوں آرہے تھے ۔کیا اس کا مطلب ہے کہ کچھ گڑبڑ ہے ؟ میں اپنے خیالوں میں اتنا مگن تھا کہ شاید یہ محسوس ہی نہیں کیا ہوتا اگر اونچی ‘‘دھاڑ ’’ کی آواز نہ سنتا۔ دیکھا تو درخت کے نیچے ایک بڑا کتھئی رنگ کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ میں اس کی طرف بھاگا تاکہ معلوم کر سکوں کہ کیا ہے وہ ایک گدھ تھا۔ دو ہفتوں میں یہ پہلا گدھ نظر آیا تھا دوسرے درخت پر دو اور گدھ بیٹھے ہوئے تھے جو بظاہر تو بالکل ٹھیک معلوم ہوتے تھے سوائے اس کے ان کے سر اُلٹے ڈھلک رہے تھے بالکل ایسے جیسے وہ گردن موڑ کر دیکھ رہے ہوں۔ جمعہ کا دن تھا اور اگلے دو دن چھٹی تھی لہذا میں جلدی گھر جانا چاہتا تھا کیونکہ ہمیں کرکٹ کھیلنا تھا اور ہفتے کو دوستوں کو رات کے کھانے پر مدعو کرنا تھا ۔گھر جلدی جانے کے لیے میں نے فیصلہ کیا کہ چھوٹا راستہ اختیار کروں جو کہ کچراکنڈی کے قریب سے گزرتا تھا وہاں مردہ جانور پڑے ہوئے تھے اور مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں ہر طرف بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ جب میں اپنی زمینوں میں داخل ہوا تو سکون کا سانس لیا ۔

AreeBTLM


          اس رات کھانے پر بھائی اور میرے ابو کافی تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ بھائی اسکول نہیں جاتے تھے لہذا سارا دن ابو کے ساتھ کھیت پر کام کرتے۔ میرا خیال ہے کہ آج مجھے جلدی سونا چاہیے۔ بھائی نے کہا،‘‘ یہ بہترین خیال ہے۔’’  ابو بولے، ‘‘  میرے جوڑوں میں بھی درد ہے۔ بھائی نے شکایت کی ،‘‘  حیرت ہے تمہارے جوڑوں میں کبھی درد نہیں ہوتا۔’’

 امی پریشان ہو کر بولی۔ اگلی صبح امی کو ڈاکٹر کو گھر بلانا پڑا کیونکہ ابو اور بھائی دونوں بیمار ہو گئے تھے۔ وہ دونوں کراہ رہے تھے اور چکر اور جوڑوں میں درد کی شکایت کر رہے تھے ۔ ڈاکٹر صاحب نے امی سے پوچھا ،‘‘ کیا انہوں نے کوئی خراب چیز کھائی تھی یا گندا پانی پیا تھا؟’’  امی نے لاعلمی کا اظہار کیا تو ڈاکٹر نے ان کے خون کے ٹیسٹ کرانے کو کہا اور امی کو باقی گھر والوں کو ابو اور بھائی سے دور رہنے کے لیے کہا تاکہ بیماری نہ پھیلے۔

 اس رات میں نے اپنے دوستوں کو کرکٹ کھیلنے کے لیے بلایا میرے قریبی دوست شارق اور علی اور میرے اسکول کے باقی دوست آئے ۔کھیل کے دوران شارق نے بتایا کہ اس کے چھوٹے بھائی کو دو دن سے بخار تھا اور وہ کچھ کھا پی نہیں رہا تھا۔ دوسرے دوست نے بتایا کہ اس کی والدہ بیمار تھیں اور ان کو پیٹ اور جسم میں درد کی شکایت تھی شاید یہ اس لیے ہے کہ گرمی زیادہ ہے اور کھانا جلدی خراب ہو جاتا ہے۔ علی نے اندازہ لگایا اگلے دن ہمارے اسکول میں ڈاکٹروں کی ٹیم آئی۔ سب کھڑے ہو گئے ڈاکٹروں کو سلام کیا اور پھر واپس بیٹھ گئی ۔

صبح بخیر بچوں! ‘‘  ہم سب یہاں آپ سے بات کرنے آئے ہیں۔ یہ بتانے کے لیے کہ گد ھ ہمارے ماحول کے لیے کتنی اہمیت کے حامل ہیں؟  کیا آپ میں سے کسی نے یہ بات محسوس کی کہ گِدھوں کے ساتھ کچھ گڑبڑ ہے ۔ڈاکٹر عریب بولے۔

‘‘ بیٹا تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ، ‘‘ عامر’’  میں نے جواب دیا ۔

‘‘عامر مجھے بتاؤ، تم نے کیا دیکھا ہے؟    آج  کل بہت زیادہ گدھ نظر نہیں آرہے ہیں اور یہ ایک عجیب بات ہے کیونکہ یہاں ان کے کھانے کے لیے بہت کچھ موجود ہے مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  کیا عامر؟   ڈاکٹر نے پوچھا ۔وہ کافی عجیب حرکتیں کر رہے تھے ایسا لگتا ہے کہ وہ بیمار ہیں کیونکہ ان کے سر ان کے سینے کے ساتھ لگے ہوئے تھے بہت اچھا شکریہ عامر!  اب تم بیٹھ سکتے ہو ہاں تو ٓ اپ نے دیکھا ہوگا بچوں کے ہندوستان اور پاکستان میں گدھوں نے ایسی عجیب حرکتیں کرنا شروع کر دی ہیں کوئی نہیں جانتا کیوں مگر ہم سمجھتے ہیں کہ ان کو کوئی بیماری ہے گِدھ دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں پائے جانے والے پرندوں میں سے ہیں۔ یہ خاص ہوتے ہیں کیونکہ یہ مردہ جانور کھاتے ہیں۔ اس طرح یہ خاکروب کا کام انجام دیتے ہیں اور سڑتے ہوئے مردہ جانوروں کا جلد از جلد صفایا کرتے ہیں مگر اب یہ جوان کو یہ بیماری لگ رہی ہے اور جو کہ بہت تیزی سے پھیل  رہی ہے تو ہم نے اپنے ایک نیشنل پارک میں ان کا خاص مشاہدہ کیا اور سندھ میں پائے جانے والے گِدھوں پر بھی تحقیق کی۔ ڈاکٹر روف نے بتایا۔

‘‘ گِد ھ میں  عجیب طرح کی حرکتیں ظاہر ہونے کے بعد ایک مہینے میں مر جاتے ہیں ایک دن وہ جس درخت پر بیٹھے ہوں اس سے زمین پر دھاڑ کر کے گر جاتے ہیں۔ ڈاکٹر نوشاد علی نے بتایا ،‘‘ میں نے بھی یہی دیکھا تھا میں نے سوچا اس سے ہم کو اندازہ ہوتا ہے کہ گِدھ  گو کہ بدصورت اور بدبودار پرندے ہیں مگر ہمارے ماحولیاتی نظام کے لیے کتنے اہم ہیں۔ ان پرندوں کے بغیر مردہ جانور پڑے رہتے ہیں اور سڑنا شروع ہو جاتے ہیں جس سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔’’  جب وہ چلے گئے تو ہم نے اپنے معمول کے حساب سے پڑھائی شروع کی مگر میں پڑھائی پر دھیان نہیں دے رہا تھا ۔میرے ذہن میں وہ دھاڑ گونج رہی تھی جب گدھ درخت سے نیچے گرا تھا ۔گاؤں کے ڈاکٹر اس مہینے کافی مصروف تھے کیونکہ لوگوں کو مختلف بیماریاں اور پیٹ کے انفیکشنز ،بخار ،فلو وغیرہ ہوئے ۔شارق کی بہن کو قریبی شہر کے ہسپتال لے جانا پڑا ۔جہاں اس نے کچھ دن گزارے۔ میری چھوٹی بہن سونیا کو بھی پیٹ میں درد کی شکایت تھی مگر کوئی ایسی پریشانی کی بات نہیں تھی۔ امی اور میں تو ٹھیک رہے۔ ابو ایک ہفتہ آرام کرنے کے بعد ٹھیک ہو گئے ابو نے بتایا کہ ابو اور بھائی کو ہیپاٹیٹس ہو گیا تھا۔ بھائی کبھی پوری طرح تندرست نہ ہو سکا ۔ڈاکٹر نے بتایا کہ بیماری کے دوران اس کا کلیجہ متاثر ہوا تھا ۔ جب پروفیسر اور ڈاکٹر ہمارے گھر کے دورے پر آئے تو انہوں نے ابو اور بھائی کی بیماری کی وجوہات کا اندازہ لگاتے ہوئے بتایا کہ چونکہ گِدھوں نے مردہ جانور نہیں کھائے تو قدرت نے دوسرا انتظام کر دیا ۔مردہ جسم کو سڑانے میں بیکٹیریا نے اہم کردار ادا کیا۔ بیکٹیریا بے ضرر اور نقصان دار دونوں طرح کے ہوتے ہیں ان میں سے کچھ بیماریاں بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہ جب زیر زمین پانی میں چلے گئے تو سب لوگ بیمار ہونے لگے ابو اور بھائی شاید کنویں کا پانی پینے سے بیمار ہوئے ہوں۔ کیونکہ کنواں کچرا کنڈی کے قریب تھا جہاں مردہ جانوروں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے ۔جانوروں کے مردہ جسموں کو دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا تاکہ وہ انسان کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ کچرا کنڈی پر جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ دواؤں کا چھڑکاؤ کیا گیا تاکہ اس کو مضر اثرات سے پاک کیا جا سکے۔ آہستہ آہستہ لوگ بہت بہتر ہونے لگے مگر پھر بھی بیماریاں ختم نہیں ہوئی جب بھی کوئی مردہ جانور پڑا رہنے دیا جاتا تو پھر بیماریاں پھوٹ پڑتیں ۔

جب بھی میں گِدھ کو دیکھتا ہوں تو اداس ہو جاتا ہوں اس لیے کہ کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ ان کی مدد کیسے کی جائے؟  سائنس دان  اب بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کیا چیز ہے جو ان طاقتور پرندوں کو ہلکے ہلکے مار رہی ہے ۔میں سوچتا ہوں کہ کب وہ اسے دریافت کر پائیں گے؟ اور یہ بھی سوچتا ہوں کہ آپ اور مجھ جیسے لوگ ان کی مدد کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟؟؟؟

۔۔۔ختم شد۔۔۔

 

 

 

Meri Madad Karo

 میری مدد کرو

          چوں ،چوں ،چوں ، بی چڑیا مستقل کھڑکی کے اوپر چونچیں مار رہی تھی، کبھی پر مارتی ،جیسے بہت پریشان ہوں بے چین ہو۔ سمیہ نے کہانی کی  کتاب غصے سے تکیے پر رکھی اور کھڑکی کے پاس جا کر دیکھا کہ آخر اس کی پریشانی کیا ہے ؟ ‘‘اف! کہانی اتنی مزیدار ہے کہ چھوڑنے کو جی نہیں چاہ رہا ہے مگر ابھی بیچاری چڑیابی بھی تو پریشان ہیں۔’’ سمیہ نے اپنے کمرے کی کھڑکی کھول کر دیکھا تو کچھ خانہ  بدوش عورتیں اور بچے کلہاڑی مار مار کر درخت کاٹ رہے تھے۔ درخت کی شاخیں کٹ کٹ کر زمین پر گر رہی تھی۔ سمیہ  نے ذرا اور جھک کر دیکھا تو بیچاری چڑیا کا گھونسلہ بھی نیچے پڑا تھا اور انڈے بھی ٹوٹے پڑے تھے۔

ٍ          اف میرے اللہ !تو یہ تھی پریشانی واقعی ایسی پریشانی کی بیان سے باہر ، چچ چچ ! افسوس کوئی ان کا گھر ایسے توڑ کر پھینک دے تو کتنا غصہ آئے۔ ٹھہرو،بی چڑیا مجھے تمہارے لیے کچھ کرنا پڑے گا ۔ سمیہ  نیچے آگئی اور گیٹ پر آ کر چوکیدار کو سب قصہ سنایا ۔

شبیر بابا ایک نیک آدمی  تھے۔ ان کو بھی بڑا دکھ ہو، ا زیادہ یوں بھی کہ سمیہ بی بی کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو بھی تھے ۔انہوں نے اپنا ڈنڈا پکڑا خانہ  بدوشوں کے پاس پہنچے اور انہیں سمجھایا بھی کہ یہ ہرے بھرے درخت کاٹنا تو بہت غلط بات ہے ۔یہ زندہ ہیں اور ہماری طرح سانس لیتے ہیں پھر زمین پر پڑا ہوا چڑیا بھی کا ننھاسا گھر دکھا کر کہا،‘‘بولو یہ معصوم کہاں بسیراکرے گا؟ یہ کہہ کر بابا نے ڈنڈا زور سے زمین پر مارا وہ سب کے سب خانہ بدوش اپنی گٹھریاں سنبھال کر بھاگے۔سمیہ  خوب ہنسی اور خوش ہو گئی مگر یہ فکر تھی کہ چڑیا بی کا گھر اب کیسےبنے؟ ان لوگوں نے تین چار درخت کاٹ ڈالے تھے سب اجڑا اجڑا لگ رہا تھا ۔

          سمیہ کو پھر ایک خیال آیا اس نے شبیر بابا کے ساتھ مل کر چڑیا بی کو گھر کے پیچھے جو پیپل کا درخت تھا اس کی ایک گھنی شاخ پر بٹھا دیا۔ چوں چوں چوں چڑیا بھی خوب چہکی ۔ اس کی ننھی ننھی آنکھیں چمک رہی تھی۔سمیہ خوش ہو کر گھر آگئی اور اپنی کہانی بھی مصروف ہو گئی۔ مگر ذہن ابھی بھی وہیں لگا ہوا تھا کہ کاش سب کو یہ بات معلوم ہو جائے کہ درخت ہم جانداروں کے لیے کتنے اہم ہیں ۔ سمیہ نے ابو کی لائبریری میں سے درختوں کے بارے میں کتاب ڈھونڈی وہ چاہتی تھی کہ شبیر بابا کو درختوں کے فائدے بتائے۔

‘‘ شبیر بابا  ؟’’ جی بی بی کچھ  منگانا ہے آپ کو؟

 نہیں بابا جی آپ کو درختوں کی باتیں بتانی ہیں ۔شبیر بابا بڑے حیران ہوئے درختوں کی باتیں؟؟ ‘‘ بی بی  وہ تو درخت ہے سایہ دیتا ہے، پھل دیتا ہے اور بس!

 ہاں ہاں آپ کو تو کافی معلومات ہے بالکل صحیح مزیدار پھل جو ہماری صحت اچھی رکھتے ہیں ہمیں درخت ہی دیتے ہیں ۔ہم جو کپڑے پہنتے ہیں اس کے لیے بھی ریشم درختوں سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ ریشم کا کیڑا شہتوت کے درخت کے پتے کھاتا ہے اور اسی طرح ریشمی کپڑے ہم کو ملتے ہیں ۔

‘‘ اچھا اور بتاؤ درخت کس کا کمال ۔’’ شبیر بابا کو مزہ آیا  وہ  آلتی پالتی مار کر ہری بھری ٹھنڈی گھاس پر بیٹھ گئے۔

سمیہ کہنے لگی ، ‘‘  شہد کہاں سے آیا  ؟وہ بھی درختوں کی مدد سے حاصل ہوتا ہے۔ درختوں سے ہم کو آکسیجن ملتی ہے جو ہماری زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔ گرمی کے موسم میں پہاڑوں پر جمی برف پانی بن کر بہتی ہےجب جب یہ پانی پہاڑی جنگلات سے گزرتا ہے تو اس میں موجود گندگی گھنے درختوں کی شاخوں اور پتوں میں اٹک کر رک جاتی ہے اور درختوں سے نکلنے والی آکسیجن اس پانی میں شامل ہو جاتی ہے یہ پانی کی صفائی کا قدرتی طریقہ ہے۔

           اور بتاؤ بابا یہ جو ہمارے جنگلات ہیں وہ موسموں کے بدلنے میں بھی مددگار ہوتے ہیں۔

‘‘ ارے بی بی  تم کو اتنا کچھ معلوم ہے۔ واہ بھئی! اب میں روز آپ سے معلومات حاصل کروں گا۔

 بالکل ٹھیک میں آپ کو اور بھی باتیں بتاؤں گی ٹھیک ہے۔ اللہ حافظ!

#ماخوذ



Hikayat e Rumi

 حکایات رومی سے ماخوذ

ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا۔ اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا۔۔۔

چڑیا نے اس سے کہا۔۔ ’’ اے انسان ! تم نے کئی ہرن ، بکرے اور مرغ وغیرہ کھائے  ہیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ہے۔ ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تمہارا کیا بنے گا۔۔۔؟  تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا۔۔۔ لیکن اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں بڑی ہی  کام میں آنے والی نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ہوگا۔

ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کرونگی۔۔۔۔ جبکہ دوسری اس وقت کرونگی جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی۔۔۔ اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کرونگی جب دیوار سے اڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی۔۔۔۔‘‘

اس شخص کے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ ناجانے چڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے گی۔۔۔۔ اس نے چڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے پوچھا۔۔۔ ’’  تم مجھے پہلی نصیحت کرو ،پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا۔۔۔‘‘

چنانچہ چڑیا نے کہا۔۔۔۔ ’’  میری پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ جو بات کبھی نہیں ہو سکتی اسکا یقین مت کرنا۔۔۔‘‘

AreeB TLM


یہ سن کر اس آدمی نے چڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی پھر بولی،’’  میری دوسری نصیحت یہ ہے کہ جو بات ہوجائے  اسکا غم نہ کرنا۔‘‘

اور پھر کہنے لگی۔۔’’ اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ہے۔ اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدر دولت حاصل ہوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ہوتی اور تم بہت بڑے رئیس ہو جاتے۔۔‘‘

اس شخص نے جو یہ بات سنی تو لگا افسوس کرنے اور پچھتایا کہ اس چڑیا کو چھوڑ کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی۔ اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں،

چڑیا نے جو اسے اسطرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اڑ کر درخت کی شاخ پر جا بیٹھی اوربولی۔۔۔.. ’’  اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ جو بات نہ ہو سکنے والی ہو اسکا ہر گز یقین نہ کرنا۔‘‘  لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کرلیا کہ میں چھٹانک بھر وزن رکھنے والی چڑیا اپنے پیٹ میں پاؤ وزن کا موتی رکھتی ہوں۔۔۔۔۔کیا یہ ممکن ہے؟

میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ  جو بات ھو جائے اسکا غم نہ کرنا۔ مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ہو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا۔۔۔۔تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ہے۔ تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرو گے؟  تم نصیحت کے قابل نہیں،

یہ کہتے ہوئے   چڑیا پُھر سے اڑی اور ہوا میں پرواز کر گئی۔۔۔۔

 وہ شخص وہیں کھڑا چڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ہوئے سوچوں میں کھو گیا..!!وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ہو۔۔ہم اکثر خود کو عقلمند سمجھتے ہوئے اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے.. اور اس میں نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔

یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتیں کہ کسی نے کہہ لیا ' ہم نے سن لیا۔۔۔۔۔بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سے حاصل ہونے والے انمول اثاثے ہیں جو یقیناً ہمارے لئے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتے ہیں اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل بھی کریں..!!

" حکایتِ رومی "

Shararti Buddhu Miyan

 شرارتی بدھومیاں

 

کسی گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ جس کا ایک ہی بیٹا تھا۔گاؤں والے اُسے بدھو کہہ کر پکارتے تھے۔ بد ھو بہت شریر لڑکا تھا۔ دن بھر کھیلنا کودنا اور شرارتیں کرنا ہی اس کا کام تھا۔ ہر وقت غلیل ہاتھ میں ہوتی جس سے وہ بھی چڑیوں، کوؤں اورطوطوں وغیرہ کو نشانہ بناتا رہتا تھا۔

        ایک روز کیا ہوا کہ بدھو یونہی گھومتا پھرتا ایک بڑھیا، نانی صفو کی جھونپڑی کے سامنے سے گزرا تو نانی نے اسے آواز دے کر بلایا اور اس سےکہنے لگی۔ بدھو بیٹا۔ تو دن بھر شرارتیں کرتا پھرتا ہے۔ آج میرا ایک کام کر دے بیٹا۔

بدھو نے پوچھا۔ ’’کیا کام ہے نانی صفو!‘‘

صفونانی بولی۔

’’آج کل برسات کا  موسم ہے اور جھونپڑی کے اندر مچھر ہو گئے ہیں۔ کمبخت رات کو سونے نہیں دیتے ۔ کسی صورت میں مجھے ان مچھروں سے نجات دلا دے۔‘‘

بدھو ایک دم بولا ۔

’’بس اتنا سا کام ہے۔ ابھی لو میں ابھی مچھروں کا قتل عام کئے دیتاہوں۔‘‘

نانی بی اس کی بات سن کر بہت خوش ہوئی اور دعا ئیں دینے لگی۔ پھر اُس نے نانی سے کہا۔

’’نانی تم سامنے والے درخت کے نیچے جا کر بیٹھ جاؤ۔ میں مچھروں کو جھونپڑی سے نکالنے کا کام شروع کرتا ہوں۔ جب میں کام ختم کر چکوں تو تمہیں آواز دے کر بلالوں گا۔ تم رات کو آرام سے پاؤں پھیلا کر سونا ۔“

 صفونانی درخت کے نیچے بیٹھ گئی۔



بدھو نے اپنا کام شروع کر دیا۔ کہیں سے مٹی کا تیل لا کر جھونپڑی کے اندر ہر طرف چھڑک دیا۔ اس کے بعد ماچس کی تیلی جلا کر آگ لگادی اور خود وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ جھونپڑی میں آگ بھڑک اٹھی تو بڑی بی چلائی۔ ارے میں لٹ گئی۔ میں برباد ہو گئی۔ ارے کمبخت! بدھو تم نے میری جھونپڑی میں آگ لگادی۔ ہائے۔ اب میں کیا کروں۔ لوگو! آؤ۔ میری مدد کرو ۔

 بڑی بی کی چیخ و پکار سن کر گاؤں کے لوگ جمع ہو گئے ۔ جب لوگوں نے پو چھا۔ نانی صفو۔ جھونپڑی کو آگ کیسے لگ گئی؟

اس بیچاری نے سارا قصہ سنایا۔کسی شخص نے کہا:نانی ۔ تم اچھی طرح جانتی تھیں کہ بدھو بے حد شریر لڑکا ہے پھر تم نے اسے ایسا کام کرنے کے لیے کیوں کہا تم نے سخت غلطی کی ۔

’’ دوسرے نے کہا :ابھی بدھو کے باپ کے پاس جاؤ اور اس نقصان کا معاوضہ طلب کرو ۔‘‘چنانچہ نانی صفو نے اس شخص کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے بدھوکے گھر کا رخ کیا۔ اس کے باپ کے پاس جا کر بدھو کی حرکت بیان کی۔

لوگوں نے بھی بڑی بی کی حمایت میں باتیں کیں۔بدھو کے باپ کو بیٹے کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا۔ اس نے نانی صفو سے معافی مانگنے کے بعد کہا۔’’میں اس لڑکے سے تنگ آچکا ہوں ۔ آج میں اس کی اچھی طرح خبرلوں گا اور تمہاری جھونپڑی بنوادوں گا ۔“

آخر بدھو کے باپ نے ایسا ہی کیا۔ بدھو کی خوب پٹائی کی ۔ بدھو نے تو بہ کی اور آئندہ ہر طرح کی شرارت نہ کرنے کا وعدہ کر کے دل لگا کر پڑھنا شروع کر دیا۔ اس کے باپ نے نانی صفو کے لیے نئی جھونپڑی تعمیر کروادی۔اس کو گھر کے لیے سامان اور نقد روپیہ بھی دیا۔

کلک کریں 👇

Areeb TLM

 #Shararti Buddhu Miyan

Kuttey Ke Gale Mai Ghanti

 (ماخوذ)

کتے کے گلے کی گھنٹی

 

ایک کتّا بہت شرارتی تھا۔ وہ آنے جانے والوں پر بھونکتا ۔ ننھے منے بچوں کو بھونک بھونک کر ڈرا دیتا۔ جس گلی میں وہ رہتا تھا وہاں سے لوگوں کا گزرنا مشکل ہو گیا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی شرارتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ۔ وہ پہلے تو بھونک بھونک کے ہی لوگوں کو ڈراتا تھا مگر اب اس نے نئی بات سیکھ لی اور وہ یہ تھی اپنے لمبے لمبے دانتوں سے کام لینا۔ وہ اب بھونکنے کے بجائے چپکے سے آگے بڑھتا اور ہر آنے جانے والے کو کاٹ لیتا۔

اس بات سے لوگ بہت تنگ آگئے سب نے کتّے کے مالک سے شکایت کی۔ جب بہت سے لوگوں نے یہ شکایت کی کہ کتّا کاٹنے لگا ہے تو اس کے مالک نے ایک چھوٹی سی گھنٹی اس کتّے کے گلے میں ڈال دی۔ جب کتّا چلتا تو گھنٹی کی ٹن ٹن آواز آتی۔ کتّا اپنے گلے میں گھنٹی دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے سمجھا کہ اسکے مالک نے اس کی عزت میں اضافے کے لیے اس کے گلے میں گھنٹی باندھی ہے۔ وہ بہت مغرور ہو گیا۔ اس نے دوسرے کتّوں سے بات چیت بند کر دی۔ اگر کوئی کہتا اس کے قریب آتا تو وہ اسے اپنی دم مار کر دھتکار دیتا اور کہتا تم میری برابری نہیں کر سکتے۔ میں تم سے کہیں زیادہ عزت والا ہوں کیونکہ میرے مالک نے میرے گلے میں گھنٹی باندھی ہے۔ دوسرے کتے بھی اس کی عزت کرنے لگے۔

 ایک دن کتّے نے سوچا کہ اسے جنگل میں جا کر اپنے مرتبے کا رعب ڈالنا چاہیے۔ کتّا اپنا سر ہلاتا ہوا جنگل میں نکل گیا۔ وہ جس طرف بھی جاتا ٹن ٹن کی آواز آتی جو جانور بھی ملتا کتّا اسے گھنٹی کی آواز سنا تا اور بتاتا کہ اس کے مالک نے اس کی عزت اور وقار میں اضافے کی لیے اس کے گلے میں گھنٹی باندھ دی ہے۔ سب جانور اسے مبارکباد دیتے اور کتّے سے ایک بارٹن ٹن کی آواز کی فرمائش کرتے۔ وہ دوسرے جانوروں سے مل ہی رہا تھا کہ لومڑی بھی آگئی۔ کتّے نے لومڑی پر بھی رعب جمایا۔ دو تین مرتبہ اپنا سر ہلا کر گھنٹی کو زور زور سے ہلایا۔ لومڑی نے گھنٹی کی آواز سنی۔ پھر اسے سونگھا اور حیرت سے بولی۔ یہ گھنٹی تم نے خود پہنی ہے یا تمہارے مالک نے تمہیں پہنائی ہے۔



 کتے نے بہت فخر سے کہا:

میرا مالک میرا بہت خیال رکھتا ہے۔ اس نے میرا رتبہ بڑھانےکے لیے مجھے یہ خوبصورت گھنٹی پہنا دی ہے۔

 لومڑی نے کچھ دیر سوچا اور کہنے لگی ۔

نہیں یہ بات نہیں ہو سکتی تمہیں یہ گھنٹی اس لیے پہنائی گئی ہے کہ گلی سے گزرنے والوں کو تمہاری موجودگی کا پتہ چل جائے اور جب تم کاٹنے کے لیے جاؤ تو انہیں پہلے سے خبر ہو جائے  اور وہ اپنا بچاؤ کرسکیں۔

 ☆☆

#Kuttey Ke Gale Mai Ghanti

Goounga Qatil

انتخاب:۔ نوشاد علی ریاض احمد۔

گونگا قاتل      

شام کا وقت تھا ۔ چودھری نذیر علی اپنے کھیتوں میں کام ختم کر کے گاؤں کی طرف آرہا تھا ۔ وہ جب قبرستان کے قریب پہنچا تو دس بارہ آدمی اچانک قبرستان سے نکلے اور سے دھڑا دھڑ مارنے لگے ۔ چودھری نذیر کو چونکہ پہلے سے پتہ نہیں تھا کہ راستے میں مار پڑے گی اس لیے اس کے پاس کوئی ہتھیار نہ تھا۔ جس کی مدد سے وہ اپنی جان بچاتا بس بے چارہ نیچے گر کر مار کھانے لگا۔ مارنے والوں نے اپنے چہرے کالے رنگ کےکپڑوں میں چھپا رکھے تھے جس کی وجہ سے وہ انہیں پہچان نہ سکا۔ بدمعاشوں نے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے اُسے خوب مارا ۔ مار کھا کھا کر وہ بے ہوش ہو گیا تو بہت تیز استرے سے انہوں نے اس کی ز بان کاٹ دی اور پھر وہاں سے بھاگ گئے۔

اتنی دیر میں شورسُن کر گاؤں کے بے شمار لوگ اس جگہ آگئے۔ جنھوں نے آتے ہی نذیر کو اٹھا لیا اور جلدی جلدی اسے تانگے میں ڈال کر بڑے ہسپتال میں لے گئے۔ ہسپتال میں جلدی پہنچے جانے کے سبب چو دھری نذیر کی جان تو بچ گئی مگر زبان کٹ جانے کے باعث وہ ہمیشہ کے لیے گونگا ہو گیا ۔ وہ ۴۰ سال کا جوان تھا۔ اس کے دو پیارے پیارے بچے تھے ۔ لیکن گو نگا ہو جانے کی وجہ سے وہ کسی سے بات نہیں کر سکتا تھا ۔ ظالموں نے اُس کی زندگی تباہ کر دی تھی ۔ تندرست ہو کر وہ اُداس رہنے لگا۔ نہ کہیں آتا جاتا نہ کسی سے اشارے میں بھی بات ہی کرتا ۔ وہ بس یہ سوچتا رہتا کہ اسے کن لوگوں نے مارا ہے ۔ کیونکہ پورے گاؤں میں اُس کا کوئی دشمن نہ تھا۔ لوگ اس کی عزت کرتے تھے اور اُسے دیکھ کر خوش ہوتے تھے ۔ وہ بھی ہر بڑے چھوٹے سے پیار کرتا تھا اور ہنس کر ملتا تھا۔ پھر پتہ نہیں اسے کس جرم کی سزا ملی تھی ۔ وہ سوچ سوچ کر تھک جاتا تو اپنے بچوں کو گود میں بٹھا کر ان سے پیار کرنے لگتا۔ بچے اپنے باپ کو آؤں آؤں آؤں واؤں واؤں کرتے دیکھتے تو بڑے حیران ہوتے کہ ہمارے ابا کو کیا ہو گیا ہے ۔ اب یہ ہمارے ساتھ پہلے جیسی باتیں کیوں نہیں کرتا۔

چودھری نذیر علی اپنے بچوں کی پریشانی دیکھ کر اور زیادہ غمگین ہو جاتا۔ ایک رات وہ اپنے مکان کی چھت پرلیٹا ہوا تھا کہ اس کی بیوی گھر کا کام ختم کر کے اس کی چار پائی کے پاس آئی اوربیٹھ کر اس سے باتیں کرنے لگی ۔ کیا سوچ رہے ہیں قدیر کےابّا۔  اس نے چودھری نذیر علی سے پوچھا۔ کچھ نہیں ۔ بس آسمان پرستارے گن رہا تھا ۔ چودھری نذیر علی نےاشاروں میں جواب دیا۔

جھوٹ نہ بولیں قدیر کے ابّا۔ سچ سچ بتائیں کہ اس وقت آپ کیا سوچ رہے ہیں ۔ اس کی بیوی نے ضد کر کے اس سے پوچھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میری نہ بان کس نے کاٹی ہے اور کیوں کاٹی ہے ۔ ان لوگوں کا مجھے پتہ کیوں نہیں چل رہا ،چودھری نذیر نے ہاتھ ہلا ہلا کر اپنی بیوی کو بتایا۔

اب جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا ہے ۔ آپ اپنے لیے نہیں تو ننھے منے بچوں کے لیے ہنسا مسکرایا کریں ۔ بے چارے بیمار رہنے لگے ہیں ۔ پہلے آپ انہیں سیر کرانے باہر لے جاتے تھے اب وہ بھی بند کر دیا ہے ۔ وہ نا سمجھ ہیں ۔ انہیں کیا پتہ کہ ہمارے ابو کے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے کسی نے ان کی زبان کاٹ کر انہیں بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا ۔ میری مانیں تو ان پرانی باتوں کو بھول جائیں ۔ چودھری نذیر کی بیوی اسے سمجھانے لگی ۔

جنھوں نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے جب تک ان سے بدلہ نہیں لے لوں گا مجھے چین نہیں آئے گا ۔ اور نہ ہی میں ہنس سکوں گا ۔ تم ضد نہ کرو: چودھری نذیر نے غصے والا چہرہ بنا کر ہا تھوں کے اشارے سے بیوی کو ٹوکا۔

میرا خیال ہے یہ ظلم ساتھ والے گاؤں کے بڑے زمیندار ملک حسن محمد نے کیا ہے کیونکہ وہ آپ سے زمین خریدنا چاہتا تھا لیکن آپ بیچتے نہیں تھے ۔ ضرور اسی نے یہ حرکت کی ہے تاکہ آپ ناکارہ ہو جائیں اور وہ آپ کی زمین تھوڑے سے پیسے دے کر خرید لے، میں نے آگے بھی کئی بار آپ کو اس کے متعلق بتایا ہے مگر آپ مانتے ہی نہیں ۔"

چودھری  نذیر نے بیوی کے جواب میں کوئی بات نہ کی ۔ وہ خاموش رہ کر سوچتے لگا کہ ہو سکتا ہے میری بیوی سچ  کہہ رہی ہو۔ ملک حسن محمد نے ہی اپنے نوکروں کو بھیج کر میری زبان کٹوائی ہو ۔ اِس شک کو دور کرنے میں کیا حرج ہے۔ میں صبح سویرے ہی ملک حسن کی حویلی میں جا کے پتہ کرتا ہوں ۔ یہ ارادہ کر کے وہ سو گیا۔



اگلے روزہ وہ سویرے سویرے ملک حسن سے ملنے کے لیے گھر سے چل دیا۔ ملک حسن جس گاؤں میں رہتا تھاوہ نزدیک ہی تھا اس لیے چودھری نذیر پیدل ہی سفر کر نےلگا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ملک حسن کے گاؤں کی حد شروع ہو گئی ۔ چودھری نذیر نے قدم تیز کر دیے تاکہ دھوپ نکلنے سے پہلے پہلے ملک حسن کے پاس پہنچ جائے۔ ابھی وہ اس گاؤں سے ذرا پیچھے ہی تھا کہ اس نے ملک حسن کو اپنے منشی کے ساتھ اپنی طرف آتا دیکھا۔ وہ دونوں شاید ٹیوب ویل کی طرف جا رہے تھے ۔ کیونکہ ملک حسن کا ٹیوب ویل بھی اسی طرف تھا۔

چودھری نذیراُ نہیں آتا دیکھ کر کمار کے کھیت میں چھپ گیا تا کہ وہ ٹیوب ویل پر پہنچ جائیں تو پھر وہاں جا کے ملک حسن سے ملے ۔ راستے میں وہ ملک حسن سے اس لیے نہیں ملنا چاہتا تھا کیونکہ ایک تو اس کے ساتھ منشی محمد دین تھا جس کے سامنے بات نہیں کی جا سکتی تھی ۔ دوسرے ملک حسن جلدی میں نظر آرہا تھا جیسے وہ جلد از جلد ٹیوب ویل پر جانا چاہتا ہو۔ چودھری نذیر کمار کے کھیت میں جس جگہ چھپا  ہوا تھا وہ اس پگڈنڈی کے قریب ہی تھی جس پر سے ملک حسن اور منشی محمد دین کو گزرنا تھا ۔ جو نہی وہ اس کے قریب آئے اُس نے منشی محمد دین کی آواز سنی وہ ملک حسن سے کہہ رہا تھا ملک صاحب چو دھری نذیرکو ہم نے کسی کام کاج کے قابل نہیں رہنے دیا ۔ اب وہ اپنی ساری زمین آپ کے آگے ضرور بیچ دے گا ۔ بس آپ چُپ ریں وہ خود آپ کے پاس چل کر آئے گا ۔ اگر ہم اس کے پاس گئے تو اسے فورا شک ہو جائے گا کہ آپ نے اسے مروایا ہے؟ تم ٹھیک کہتے ہو منشی ۔ میں چُپ ہی رہنا چاہیئے ۔ منشی محمد دین کی بات کےجواب میں ملک حسن بولا-

چودھری نذیر نے دونوں کی باتیں سن لیں۔ اس کی بیوی کی بات سچی نکلی تھی کہ ساری شرارت ملک حسن کی ہے ۔ اُس پر چودھری نذیر غصے سے پاگل ہو گیا ۔ اس نے جلدی سے چھلانگ ماری اور کمار کے کھیت سے باہر آکر منشی محمد دین کے ہاتھ میں پکڑی لاٹھی چھین لی اور زور زور سے اُس کے سر پر مارنے لگا۔ محمد دین کے سر پر ٹھکا ٹھک کر کے لاٹھیاں پڑیں تو اس کے منہ سے درد ناک چیخیں نکل گیئیں اور وہ ذرا سی دیر میں دھڑام کر کے نیچے گرا اور مر گیا ۔ کیونکہ لاٹھیاں لگنے سے اُس کا سر جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا ۔ یہاں سے سُرخ سُرخ خون نکل آیا تھا۔ چودھری نذیر اسے قتل کر کے ملک حسن کو مارنے نکلا تو اس نے دیکھا ملک حسن

سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا جار ہا تھا۔ منشی محمد دین کو قتل کرنے کے بعد چودھری نذیر اپنے گھر واپس نہ آیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ پولیس والے اسے آکر پکڑ لیں گے جب کہ وہ ابھی اُن سب کو قتل کرنا چاہتا تھا جنھوں نے اس پر ظلم کیا تھا ۔ لہذا وہ بھاگ کر کمار کے کھیت میں چھپ گیا اور وہاں سے اندر ہی اندر چلتاتیسر سے گاؤں کے کھیتوں میں چلا گیا اور وہیں بیٹھ کر رات ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

رات ہوئی تو وہ خاموشی سے دوبارہ انہی کھیتوں میں چلتا اسی جگہ آنکلا جہاں اُس نے منشی محمد دین کو قتل کیا تھا ۔ وہاں سے وہ چھپتا چھپا تا کسی نہ کسی طرح ملک حسن کی حویلی میں داخل ہو گیا ۔ رات بہت گزر چکی تھی اس لیے ساری آبادی گہری نیند میں ڈوبی تھی ۔ بس گاؤں کے کتے زور زور سے بھونک رہے تھے۔ چودھری نذیر سب سے پہلے حویلی کے اس حصے میں گیا جس میں ملک حسن کے نوکر سوتے تھے ۔ سارے نوکر ایک ہی قطار میں چارپائیوں پر سورہے تھے۔چودھری نذیر نے جانوروں کا چارہ رکھنے والی کو کوٹھری  میں سے چارہ کاٹنے والا ٹکوا اٹھا لایا ۔ٹکوا بے حد تیز تھا ۔ چودھری نذیر نے اس سے باری باری سارے نوکروں کی گردنیں کاٹ دیں۔

اس کام میں اس نے اتنی تیزی اور پھرتی سے کام لیا کہ کسی بھی نوکر کو پتہ نہ چلا کہ اس کے ساتھی قتل ہو گئے ہیں اور اب اس کی باری ہے ۔ نوکروں کو مار کر  چودھری نذیر جو نہی ملک حسن کی طرف جانے لگا تو حویلی کے کتوں کو پتہ چل گیا اور انہوں نے زور سے بھونکنا شروع کردیا جس سے ملک حسن ہوشیار ہو گیا یہ دیکھ کر چو دھری نذیر وہاں سے بھاگ آیا اور واپس کھیتوں میں آکر چھپ گیا ۔ صبح ہوتے ہی اس سارے علاقے  کو پولیس والوں نے گھیر لیا اور گھر گھرکی تلاشی لینے لگے ۔ گھروں کی تلاشی لینے کے بعد پولیس والے چودھری نذیر کو ڈھونڈ نے کھیتوں میں بھی آئے لیکن تھوڑے سے کھیتوں کی تلاشی لے کر لوٹ گئے اور جا کہ ملک حسن کو تسلی دی کہ فکر نہ کرو ہم نے سارے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے ۔ گو نگا قاتل ہمارے ہاتھ سے ہر گزنہ نہیں بچے گا ۔ ہم آج ہی اُسے گرفتار کر لیں گے ۔ ملک حسن کی ڈر کے مارے ٹانگیں کانپ رہی تھیں ۔ پولس والوں  کا دعوی سن کر اس کے منہ سے کوئی بات نہ نکلی۔

رات ہوئی تو چو دھری نذیر دوبارہ ملک حسن کی حویلی میں داخل ہو گیا حالاں کہ پولیس والے جگہ جگہ پہرہ دے رہے تھے ۔ مگر چو دھری نذیر چونکہ اس گاؤں کا پُرانا واقف تھا۔ اس لیے وہ بڑی آسانی سے حویلی میں چلا گیا۔ ٹکوا اب بھی اُس کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے جا کر ملک حسن کو جگایا اورٹکوے سے اُس کی زبان کاٹ دی ملک حسن نے بہتری معافی مانگی ۔ منت سماجت کی پرچودھری نذیر نے بھی اُسے اپنی طرح کا گونگا بنا کر چھوڑا ۔ اس کے بعد اس نے ملک حسن کو قتل نہ کیا ۔ بلکہ زندہ رہنے دیا اور حویلی سے نکل آیا۔ با ہر آکر وہ بھاگا نہیں بلکہ شور مچا کر اس نے ادھر ادھر پہرہ دیتے ہو ئے  پولیس والوں کو اکٹھا کر لیا اور اپنے آپ کو اُن کے حوالے کر دیا چونکہ اس نے اپنے دشمنوں سے بدلہ لے لیا تھا ۔ پولیس والے اسے ہتھکڑی پہنا کر تھانے میں لے گئے ۔

۔۔۔۔ختم شُد۔۔۔۔

#Goounga Qatil 

 

Maqbery ka RAAZ

 حیرت اور تجسس سے بھر پور

Maqbery ka RAAZ#

مقبرے کا راز

 

سُلطان پور کا چھوٹا سا قبرستان گاؤں کے باہر تھا۔ دو ہفتہ پہلے تک لوگ قبرستان میں سے گزر کر قریبی گاؤں شکار پور جایا کرتے تھے وہاں کسی کو خوف محسوس نہیں ہوتا تھا مگر پچھلے چند دنوں میں لگاتا ردو تین ایسے خوفناک واقعات پیش آئے تھے کہ پورے گاؤں پر دہشت طاری ہو گئی اگر کسی کو شکار پر جانا ہوتا تو ایک لمبا چکر کاٹ کر قبرستان سے ایک میل دور سے گزرتا۔

جمیل، شکار پور کا رہنے والا تھا بڑا بہادر اور باہمت لڑکا تھا۔ ایک دن سلطان پور سے اُن کا ایک مہمان آیا۔ اس کا نام خدا بخش تھا۔ اس نےجب سلطان پور کے قبرستان کا ذکر چھیڑا تو جمیل نے پوچھا آپ کہتے ہیں کہ وہ قبرستان خوفناک ہے ۔ اُس کی کیا وجہ ہے ؟ خدا بخش کہنے لگا ۔ وہ قبرستان دو ہفتے پہلے تو خوفناک نہیں تھا مگر چند ایسے واقعات پیش آئے کہ سب خوفزدہ ہو کر ادھر جانے سے پر ہیز کرنے گئے۔ پہلا واقعہ قاسم نامی کسان کو پیش آیا ۔ ایک دن وہ شکار پور آیا۔ واپسی میں اُسے رات ہوگئی۔ راستہ چونکہ قبرستان کے درمیان میں سے گذرتا ہے اِس لیے وہ بیچارہ بھی ادھر سے گذرا ۔ قبرستان میں ایک اونچا مقبرہ بھی ہے ۔سُناہے کہ وہ جنگ عظیم میں مرنے والے ایک انگریز افسر کا ہے ۔ جب قاسم اس مقبرے کے قریب سے گزرا تو اسے کسی کے ہنسنے کی آوازسُنائی دی ۔ اُس نے رُک کر دونوں طرف دیکھا مگر کوئی بھی نظر نہ آیا۔ اچانک اس کی نظر مقبرے پر پڑی اس نے قبر کو آپ ہی آپ اُٹھتے دیکھا توخوفزدہ ہو کر تیزی سے گاؤں کی طرف دوڑ پڑا ،گھر تک پہنچتے پہنچتے اس کی عجیب حالت ہو گئی ۔ وہ سالوں کا بیمار نظر آنے لگا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو مقبرے کے متعلق بتایا ۔ اُس رات اُسےشدید بخار آگیا ۔ اور صبح سویرے وہ مر گیا۔ دوسرا واقعہ کس کے ساتھ رونما ہوا ہے؟؟ جمیل نے پوچھا ۔

 خدا بخش کہنے لگا ۔ گاؤں کے چند لڑ کے چاندنی رات میں وہاں کھیلنے گئے ۔ ابھی انہیں کھیلتے ہوئے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ انہیں ایک گر جدار آوازسنائی دی ۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک انسانی ڈھانچہ انگریز کے مقبرے کے پاس کھڑا ہے ۔ اور حرکت کر رہا ہے اُس کو دیکھ کر لڑ کے دہشت زدہ ہو گئے ۔ پھر انہوں نے ڈھانچے کی آواز سنی ۔ ڈھانچہ کہہ رہا تھا ۔ میں آج تم سب کو کھا جاؤں گا ۔ اب تم میں سے کوئی بچ کہ نہیں جا سکتا ۔ یہ کہا کہ ڈھانچہ قہقہے لگانے لگا۔ لڑکے اسے دیکھتے ہی تھر تھر کانپ رہے تھے ۔ جب اُنہوں نے ڈھانچے کی بات سنی تو وہ گھروں کو بھا گئے اُن میں سے تین لڑ کے خوف و دہشت کے مارے دوسرے دن ہی انتقال کر گئے۔ اس دن سے لوگوں نے قبرستان کی طرف سے آنا بند کر دیا ۔ مگر ایک رات پھر ایسا ہی واقعہ پیش آیا ۔ کر مو نامی شخص رات کے وقت پیشاب کرنے اپنے مکان سے باہر نکلا۔ قبرستان اُس کے مکان کے سامنے ہی تھا اُس نے قبرستان میں چند مشعلوں کی روشنی دیکھی ۔ چند سفید کفن میں لپٹی ہوئی روحیں مشعلیں لیے قبروں میں گھوم رہی تھیں ۔ کر مو نے اپنے ہمسائے کو جگا کر یہ منظر دکھایا ۔ ایک گھنٹے تک مشعل بردار روحیں نظر آتی رہیں۔

 

اُس کے بعد وہ غائب ہو گئیں ۔ جمیل نے بڑی دلچسپی کے ساتھ خدا بخش کی باتیں سنیں ۔ اُسے یہ معاملہ بڑا پراسرار معلوم ہوتا تھا۔ اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ قبرستان کے ان واقعات کی حقیقت معلوم کرے۔ جن کی وجہ سے گاؤںوالوں کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی تھی ۔

 دوسرے دن خدا بخش اپنے گاؤں واپس جانے لگا تو جمیل بھی ساتھ چل دیا۔ سلطان پور پہنچ کر خدا بخش نے جمیل کی بڑی خاطر مدارات کی ۔ خدا بخش کا لڑکا رمضان جمیل کا ہم عمر تھا ۔ رمضان کئی بار جمیل کے گھر رہ کر آیا تھا ۔ اس لیے دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہ تھے۔جمیل نے رمضان سے کہا، میں چاہتا ہوں کہ آج رات قبرستان کی سیر کر لیں ۔ نا بھئی نا ۔۔۔۔۔ رمضان نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا : کیا تمہیں ابا جان نے اس قبرستان کے متعلق کچھ نہیں بتایا ؟ بتایا تھا،جمیل بولا ۔ اور میں صرف اس مقصد کے لیے آیا ہوں کہ روحوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں ۔ مجھے شک ہے کہ وہ روحیں نقلی ہیں ۔ رمضان جو خوفزدہ تھا ۔ کہنے لگا ۔ اگر وہاں کوئی حادثہ پیش آ گیا تو تم ذمہ دار ہو گئے ۔ میں تو بھاگ آؤں گا ۔ ٹھیک ہے ۔ جمیل نے مسکرا کر کہا۔ کیا تمہارے پاس کوئی ہتھیاروغیرہ بھی ہے ؟ ایک چھوٹی سی کلہاڑی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ رمضان نے جواب دیا ۔ ایک بات کا خیال رکھنا۔ ہمارے قبرستان کی طرف جانے کا کسی کو علم نہ ہونے پائے جتنی کہ تمہارے والدین کو بھی نہیں ۔ ورنہ وہ ہمیں ادھر جانے سے روکیں گے : دونوں احتیاط اور خاموشی سے قبرستان میں داخل ہو گئے۔

AreeBTLM
جمیل نے رمضان کو پہلے ہی طریقہ کار سمجھا دیا تھا۔ جمیل قبروں کی اوٹ لیتے ہوئے انگریز افسر کے مقبرے کی طرف بڑھنے لگا وہ دونوں ایک گھنے برگد کے درخت کے تنے کے پاس پہنچ کر رک گئے۔ دونوں دم سا دھے مقبرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ ایک گھنٹہ گذر گیا۔ پھر اچانک انہوں نے مقبر کا تعویذ خود بخود اٹھتے دیکھا اور اس میں سے کفن پوش روح نکلی ۔ اُس کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ با ہر آکر روح نے ادھر ادھر دیکھا پھر قبر کی طرف منہ کر کے کہا ، آجاؤ جلدی کرو اس کے خاموش ہوتے ہی قبر سے مزید روحیں نکلنے لگیں ساتویں روحیں نے باہر نکل کر قبر کا تعویز برابر کر دیا ۔ پھر وہ ساتوں روحیں گاؤں کی طرف چل پڑیں ۔ انہیں گاؤں کی طرف جاتے دیکھ کر جمیل اور رمضان دونوں کوحیرت ہوئی ۔ جمیل نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا۔ اور ہم ذرا انگریزکی قبر دیکھ لیں کہ سات روحیں اُس میں سے کیسے نکلیں جب کہ اس میں صرف ایک آدمی کی لاش ہے ۔ رمضان روحیں دیکھ کر خوفزدہ ہو چکا تھا ۔ مگر جمیل کی بات نے اُسے حوصلہ دیا ۔ مقبرے میں پہنچ کر جمیل نے بڑی احتیاط سے قبرکر تعویذ کو اٹھایا تو یہ دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا کہ اس میں زینے بنے ہوئے تھے اور نیچے کسی طرف سے ہلکی ہلکی روشنی آرہی تھی۔ جمیل نے اس کے کان میں آہستہ سے کہا۔ تم نہیں" ٹہرو! میں نیچے اتر تا ہوں اگر روحیں واپس آتی دکھائی دیں تو مجھے آواز دے دینا " یہ کہہ کر میں نے خدا کا نام لیا اور قبرمیں داخل ہو کر زمینوں پر چلنے لگا اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا ۔ ہاتھ میں کلہاڑی لرز  رہی تھی ۔ نیچے پہنچتے ہی اُس کی نظر دائیں طرف کھڑے ایک ڈھانچے پر پڑی ۔ مگر وہ توبے جان تھا۔ جمیل نے بغور وہاں کا جائزہ لیا ۔ یہ ایک تہہ خانہ ساتھا ۔ دائیں  طرف ایک مشعل جل رہی تھی اور زمین پر ایک دری بچھی تھی جس پر ایک ریڈیو بھی رکھا تھا ۔ دیوار کے ساتھ کھانے پینے کے برتن اور تیل سے جلنے والا چولہا رکھا تھا ۔ جبکہ بائیں طرف دس بارہ لکڑی کے صندوق رکھے تھے ۔جمیل کچھ سوچ کر صندوقوں کی طرف بڑھا ۔ اس نے ایک صندوق کا ڈھکنا اٹھایا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔ اُس میں سونے چاندی کے زیورات اور نوٹوں کی گڈیاں پڑی تھیں ۔ دوسرے صندوقوں میں بھی ایسا ہی مال تھا۔ اُس نے سوچا۔ روحوں کے پاس ان چیزوں کا کیا کام ۔ مگر یہاں تو کھانے پکانے کا بھی پورا انتظام تھا ۔ اور سگریٹوں کے ٹکڑے بھی زمین پرپڑے تھے ۔ قریب ہی ایک بندوق پربھی اس کی نظر پڑی۔ جن کے ساتھ  گولیوں کی پیٹی بھی پڑی تھی ۔ اب سب کچھ جمیل کی سمجھ میں آچکا تھا۔ روحوں کی حقیقت معلوم کرکےاُسے بڑی خوشی محسوس ہو رہی تھی ۔ اسی لمحہ اسے رمضان بلا رہا تھا۔ جمیل تیزی سے اوپر پہنچا اور باہر آ گیا ۔ اُسی لمحے اس کی نظر دُور سے آتی ہوئی سفید پوش روحوں پر پڑی۔ چار روحوں نے کچھ اٹھا رکھا تھا ۔ پھر وہ سب مقبرے میں داخل ہو گئیں جمیل نے رمضان کا ہاتھ پکڑا اور قبرستان سے نکل کر گاؤں کی طرف چل پڑا۔

گاؤں میں ایک جگہ دس بارہ آدمی اکٹھے تھے ۔ وہ دونوں بھی اُن کے پاس جاکھڑے ہوئے ۔ ان لوگوں کی باتوں سے پتہ چلا کہ چار مکانوں میں چوری ہو گئی ہے ۔ یہ سن کہ جمیل اور رمضان سمجھ گئے کہ یہ کام صرف اُن روحوں کا ہی ہے ۔ جمیل نے اُن لوگوں سے کہا کہ ہم چوروں کو جانتے ہیں لیکن آپ لوگ ہماری بات پر اعتبار نہیں کریں گے ۔کیوں نہیں؟ ایک بوڑھے آدمی نے کہا کہ تم بتاؤ تو سہی

پھر جمیل نے انہیں تفصیلی حالات بتا دیے ۔ یہ سن کر گاؤں کے پندرہ بیس آدمیوں نے کلہاڑیاں پکڑیں ۔ اور انگریز کے مقبرے کی طرف چل دیے ۔ اور خاموشی سے مقبرے کے تہہ خانے میں اتر کر  انہیں پکڑلیا۔ اور پولس کے حوالے کر دیا۔

جمیل کو اس ہمت اور بہادری کے کارنامے پر بھاری انعام ملا۔

 ختم شُد


Komal Joya

کومل جوئیہ کی شاعری کا فنی Funny 😉جائزہ _________________________ نعیم سلیم، مالیگاؤں مہاراشٹر انڈیا  🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺 *منسوب چراغوں سے طر...