=" Urdu Kahaniyan (AreeB)

Kuttey Ke Gale Mai Ghanti

 (ماخوذ)

کتے کے گلے کی گھنٹی

 

ایک کتّا بہت شرارتی تھا۔ وہ آنے جانے والوں پر بھونکتا ۔ ننھے منے بچوں کو بھونک بھونک کر ڈرا دیتا۔ جس گلی میں وہ رہتا تھا وہاں سے لوگوں کا گزرنا مشکل ہو گیا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی شرارتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ۔ وہ پہلے تو بھونک بھونک کے ہی لوگوں کو ڈراتا تھا مگر اب اس نے نئی بات سیکھ لی اور وہ یہ تھی اپنے لمبے لمبے دانتوں سے کام لینا۔ وہ اب بھونکنے کے بجائے چپکے سے آگے بڑھتا اور ہر آنے جانے والے کو کاٹ لیتا۔

اس بات سے لوگ بہت تنگ آگئے سب نے کتّے کے مالک سے شکایت کی۔ جب بہت سے لوگوں نے یہ شکایت کی کہ کتّا کاٹنے لگا ہے تو اس کے مالک نے ایک چھوٹی سی گھنٹی اس کتّے کے گلے میں ڈال دی۔ جب کتّا چلتا تو گھنٹی کی ٹن ٹن آواز آتی۔ کتّا اپنے گلے میں گھنٹی دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے سمجھا کہ اسکے مالک نے اس کی عزت میں اضافے کے لیے اس کے گلے میں گھنٹی باندھی ہے۔ وہ بہت مغرور ہو گیا۔ اس نے دوسرے کتّوں سے بات چیت بند کر دی۔ اگر کوئی کہتا اس کے قریب آتا تو وہ اسے اپنی دم مار کر دھتکار دیتا اور کہتا تم میری برابری نہیں کر سکتے۔ میں تم سے کہیں زیادہ عزت والا ہوں کیونکہ میرے مالک نے میرے گلے میں گھنٹی باندھی ہے۔ دوسرے کتے بھی اس کی عزت کرنے لگے۔

 ایک دن کتّے نے سوچا کہ اسے جنگل میں جا کر اپنے مرتبے کا رعب ڈالنا چاہیے۔ کتّا اپنا سر ہلاتا ہوا جنگل میں نکل گیا۔ وہ جس طرف بھی جاتا ٹن ٹن کی آواز آتی جو جانور بھی ملتا کتّا اسے گھنٹی کی آواز سنا تا اور بتاتا کہ اس کے مالک نے اس کی عزت اور وقار میں اضافے کی لیے اس کے گلے میں گھنٹی باندھ دی ہے۔ سب جانور اسے مبارکباد دیتے اور کتّے سے ایک بارٹن ٹن کی آواز کی فرمائش کرتے۔ وہ دوسرے جانوروں سے مل ہی رہا تھا کہ لومڑی بھی آگئی۔ کتّے نے لومڑی پر بھی رعب جمایا۔ دو تین مرتبہ اپنا سر ہلا کر گھنٹی کو زور زور سے ہلایا۔ لومڑی نے گھنٹی کی آواز سنی۔ پھر اسے سونگھا اور حیرت سے بولی۔ یہ گھنٹی تم نے خود پہنی ہے یا تمہارے مالک نے تمہیں پہنائی ہے۔



 کتے نے بہت فخر سے کہا:

میرا مالک میرا بہت خیال رکھتا ہے۔ اس نے میرا رتبہ بڑھانےکے لیے مجھے یہ خوبصورت گھنٹی پہنا دی ہے۔

 لومڑی نے کچھ دیر سوچا اور کہنے لگی ۔

نہیں یہ بات نہیں ہو سکتی تمہیں یہ گھنٹی اس لیے پہنائی گئی ہے کہ گلی سے گزرنے والوں کو تمہاری موجودگی کا پتہ چل جائے اور جب تم کاٹنے کے لیے جاؤ تو انہیں پہلے سے خبر ہو جائے  اور وہ اپنا بچاؤ کرسکیں۔

 ☆☆

#Kuttey Ke Gale Mai Ghanti

Goounga Qatil

انتخاب:۔ نوشاد علی ریاض احمد۔

گونگا قاتل      

شام کا وقت تھا ۔ چودھری نذیر علی اپنے کھیتوں میں کام ختم کر کے گاؤں کی طرف آرہا تھا ۔ وہ جب قبرستان کے قریب پہنچا تو دس بارہ آدمی اچانک قبرستان سے نکلے اور سے دھڑا دھڑ مارنے لگے ۔ چودھری نذیر کو چونکہ پہلے سے پتہ نہیں تھا کہ راستے میں مار پڑے گی اس لیے اس کے پاس کوئی ہتھیار نہ تھا۔ جس کی مدد سے وہ اپنی جان بچاتا بس بے چارہ نیچے گر کر مار کھانے لگا۔ مارنے والوں نے اپنے چہرے کالے رنگ کےکپڑوں میں چھپا رکھے تھے جس کی وجہ سے وہ انہیں پہچان نہ سکا۔ بدمعاشوں نے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے اُسے خوب مارا ۔ مار کھا کھا کر وہ بے ہوش ہو گیا تو بہت تیز استرے سے انہوں نے اس کی ز بان کاٹ دی اور پھر وہاں سے بھاگ گئے۔

اتنی دیر میں شورسُن کر گاؤں کے بے شمار لوگ اس جگہ آگئے۔ جنھوں نے آتے ہی نذیر کو اٹھا لیا اور جلدی جلدی اسے تانگے میں ڈال کر بڑے ہسپتال میں لے گئے۔ ہسپتال میں جلدی پہنچے جانے کے سبب چو دھری نذیر کی جان تو بچ گئی مگر زبان کٹ جانے کے باعث وہ ہمیشہ کے لیے گونگا ہو گیا ۔ وہ ۴۰ سال کا جوان تھا۔ اس کے دو پیارے پیارے بچے تھے ۔ لیکن گو نگا ہو جانے کی وجہ سے وہ کسی سے بات نہیں کر سکتا تھا ۔ ظالموں نے اُس کی زندگی تباہ کر دی تھی ۔ تندرست ہو کر وہ اُداس رہنے لگا۔ نہ کہیں آتا جاتا نہ کسی سے اشارے میں بھی بات ہی کرتا ۔ وہ بس یہ سوچتا رہتا کہ اسے کن لوگوں نے مارا ہے ۔ کیونکہ پورے گاؤں میں اُس کا کوئی دشمن نہ تھا۔ لوگ اس کی عزت کرتے تھے اور اُسے دیکھ کر خوش ہوتے تھے ۔ وہ بھی ہر بڑے چھوٹے سے پیار کرتا تھا اور ہنس کر ملتا تھا۔ پھر پتہ نہیں اسے کس جرم کی سزا ملی تھی ۔ وہ سوچ سوچ کر تھک جاتا تو اپنے بچوں کو گود میں بٹھا کر ان سے پیار کرنے لگتا۔ بچے اپنے باپ کو آؤں آؤں آؤں واؤں واؤں کرتے دیکھتے تو بڑے حیران ہوتے کہ ہمارے ابا کو کیا ہو گیا ہے ۔ اب یہ ہمارے ساتھ پہلے جیسی باتیں کیوں نہیں کرتا۔

چودھری نذیر علی اپنے بچوں کی پریشانی دیکھ کر اور زیادہ غمگین ہو جاتا۔ ایک رات وہ اپنے مکان کی چھت پرلیٹا ہوا تھا کہ اس کی بیوی گھر کا کام ختم کر کے اس کی چار پائی کے پاس آئی اوربیٹھ کر اس سے باتیں کرنے لگی ۔ کیا سوچ رہے ہیں قدیر کےابّا۔  اس نے چودھری نذیر علی سے پوچھا۔ کچھ نہیں ۔ بس آسمان پرستارے گن رہا تھا ۔ چودھری نذیر علی نےاشاروں میں جواب دیا۔

جھوٹ نہ بولیں قدیر کے ابّا۔ سچ سچ بتائیں کہ اس وقت آپ کیا سوچ رہے ہیں ۔ اس کی بیوی نے ضد کر کے اس سے پوچھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میری نہ بان کس نے کاٹی ہے اور کیوں کاٹی ہے ۔ ان لوگوں کا مجھے پتہ کیوں نہیں چل رہا ،چودھری نذیر نے ہاتھ ہلا ہلا کر اپنی بیوی کو بتایا۔

اب جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا ہے ۔ آپ اپنے لیے نہیں تو ننھے منے بچوں کے لیے ہنسا مسکرایا کریں ۔ بے چارے بیمار رہنے لگے ہیں ۔ پہلے آپ انہیں سیر کرانے باہر لے جاتے تھے اب وہ بھی بند کر دیا ہے ۔ وہ نا سمجھ ہیں ۔ انہیں کیا پتہ کہ ہمارے ابو کے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے کسی نے ان کی زبان کاٹ کر انہیں بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا ۔ میری مانیں تو ان پرانی باتوں کو بھول جائیں ۔ چودھری نذیر کی بیوی اسے سمجھانے لگی ۔

جنھوں نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے جب تک ان سے بدلہ نہیں لے لوں گا مجھے چین نہیں آئے گا ۔ اور نہ ہی میں ہنس سکوں گا ۔ تم ضد نہ کرو: چودھری نذیر نے غصے والا چہرہ بنا کر ہا تھوں کے اشارے سے بیوی کو ٹوکا۔

میرا خیال ہے یہ ظلم ساتھ والے گاؤں کے بڑے زمیندار ملک حسن محمد نے کیا ہے کیونکہ وہ آپ سے زمین خریدنا چاہتا تھا لیکن آپ بیچتے نہیں تھے ۔ ضرور اسی نے یہ حرکت کی ہے تاکہ آپ ناکارہ ہو جائیں اور وہ آپ کی زمین تھوڑے سے پیسے دے کر خرید لے، میں نے آگے بھی کئی بار آپ کو اس کے متعلق بتایا ہے مگر آپ مانتے ہی نہیں ۔"

چودھری  نذیر نے بیوی کے جواب میں کوئی بات نہ کی ۔ وہ خاموش رہ کر سوچتے لگا کہ ہو سکتا ہے میری بیوی سچ  کہہ رہی ہو۔ ملک حسن محمد نے ہی اپنے نوکروں کو بھیج کر میری زبان کٹوائی ہو ۔ اِس شک کو دور کرنے میں کیا حرج ہے۔ میں صبح سویرے ہی ملک حسن کی حویلی میں جا کے پتہ کرتا ہوں ۔ یہ ارادہ کر کے وہ سو گیا۔



اگلے روزہ وہ سویرے سویرے ملک حسن سے ملنے کے لیے گھر سے چل دیا۔ ملک حسن جس گاؤں میں رہتا تھاوہ نزدیک ہی تھا اس لیے چودھری نذیر پیدل ہی سفر کر نےلگا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ملک حسن کے گاؤں کی حد شروع ہو گئی ۔ چودھری نذیر نے قدم تیز کر دیے تاکہ دھوپ نکلنے سے پہلے پہلے ملک حسن کے پاس پہنچ جائے۔ ابھی وہ اس گاؤں سے ذرا پیچھے ہی تھا کہ اس نے ملک حسن کو اپنے منشی کے ساتھ اپنی طرف آتا دیکھا۔ وہ دونوں شاید ٹیوب ویل کی طرف جا رہے تھے ۔ کیونکہ ملک حسن کا ٹیوب ویل بھی اسی طرف تھا۔

چودھری نذیراُ نہیں آتا دیکھ کر کمار کے کھیت میں چھپ گیا تا کہ وہ ٹیوب ویل پر پہنچ جائیں تو پھر وہاں جا کے ملک حسن سے ملے ۔ راستے میں وہ ملک حسن سے اس لیے نہیں ملنا چاہتا تھا کیونکہ ایک تو اس کے ساتھ منشی محمد دین تھا جس کے سامنے بات نہیں کی جا سکتی تھی ۔ دوسرے ملک حسن جلدی میں نظر آرہا تھا جیسے وہ جلد از جلد ٹیوب ویل پر جانا چاہتا ہو۔ چودھری نذیر کمار کے کھیت میں جس جگہ چھپا  ہوا تھا وہ اس پگڈنڈی کے قریب ہی تھی جس پر سے ملک حسن اور منشی محمد دین کو گزرنا تھا ۔ جو نہی وہ اس کے قریب آئے اُس نے منشی محمد دین کی آواز سنی وہ ملک حسن سے کہہ رہا تھا ملک صاحب چو دھری نذیرکو ہم نے کسی کام کاج کے قابل نہیں رہنے دیا ۔ اب وہ اپنی ساری زمین آپ کے آگے ضرور بیچ دے گا ۔ بس آپ چُپ ریں وہ خود آپ کے پاس چل کر آئے گا ۔ اگر ہم اس کے پاس گئے تو اسے فورا شک ہو جائے گا کہ آپ نے اسے مروایا ہے؟ تم ٹھیک کہتے ہو منشی ۔ میں چُپ ہی رہنا چاہیئے ۔ منشی محمد دین کی بات کےجواب میں ملک حسن بولا-

چودھری نذیر نے دونوں کی باتیں سن لیں۔ اس کی بیوی کی بات سچی نکلی تھی کہ ساری شرارت ملک حسن کی ہے ۔ اُس پر چودھری نذیر غصے سے پاگل ہو گیا ۔ اس نے جلدی سے چھلانگ ماری اور کمار کے کھیت سے باہر آکر منشی محمد دین کے ہاتھ میں پکڑی لاٹھی چھین لی اور زور زور سے اُس کے سر پر مارنے لگا۔ محمد دین کے سر پر ٹھکا ٹھک کر کے لاٹھیاں پڑیں تو اس کے منہ سے درد ناک چیخیں نکل گیئیں اور وہ ذرا سی دیر میں دھڑام کر کے نیچے گرا اور مر گیا ۔ کیونکہ لاٹھیاں لگنے سے اُس کا سر جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا ۔ یہاں سے سُرخ سُرخ خون نکل آیا تھا۔ چودھری نذیر اسے قتل کر کے ملک حسن کو مارنے نکلا تو اس نے دیکھا ملک حسن

سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا جار ہا تھا۔ منشی محمد دین کو قتل کرنے کے بعد چودھری نذیر اپنے گھر واپس نہ آیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ پولیس والے اسے آکر پکڑ لیں گے جب کہ وہ ابھی اُن سب کو قتل کرنا چاہتا تھا جنھوں نے اس پر ظلم کیا تھا ۔ لہذا وہ بھاگ کر کمار کے کھیت میں چھپ گیا اور وہاں سے اندر ہی اندر چلتاتیسر سے گاؤں کے کھیتوں میں چلا گیا اور وہیں بیٹھ کر رات ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

رات ہوئی تو وہ خاموشی سے دوبارہ انہی کھیتوں میں چلتا اسی جگہ آنکلا جہاں اُس نے منشی محمد دین کو قتل کیا تھا ۔ وہاں سے وہ چھپتا چھپا تا کسی نہ کسی طرح ملک حسن کی حویلی میں داخل ہو گیا ۔ رات بہت گزر چکی تھی اس لیے ساری آبادی گہری نیند میں ڈوبی تھی ۔ بس گاؤں کے کتے زور زور سے بھونک رہے تھے۔ چودھری نذیر سب سے پہلے حویلی کے اس حصے میں گیا جس میں ملک حسن کے نوکر سوتے تھے ۔ سارے نوکر ایک ہی قطار میں چارپائیوں پر سورہے تھے۔چودھری نذیر نے جانوروں کا چارہ رکھنے والی کو کوٹھری  میں سے چارہ کاٹنے والا ٹکوا اٹھا لایا ۔ٹکوا بے حد تیز تھا ۔ چودھری نذیر نے اس سے باری باری سارے نوکروں کی گردنیں کاٹ دیں۔

اس کام میں اس نے اتنی تیزی اور پھرتی سے کام لیا کہ کسی بھی نوکر کو پتہ نہ چلا کہ اس کے ساتھی قتل ہو گئے ہیں اور اب اس کی باری ہے ۔ نوکروں کو مار کر  چودھری نذیر جو نہی ملک حسن کی طرف جانے لگا تو حویلی کے کتوں کو پتہ چل گیا اور انہوں نے زور سے بھونکنا شروع کردیا جس سے ملک حسن ہوشیار ہو گیا یہ دیکھ کر چو دھری نذیر وہاں سے بھاگ آیا اور واپس کھیتوں میں آکر چھپ گیا ۔ صبح ہوتے ہی اس سارے علاقے  کو پولیس والوں نے گھیر لیا اور گھر گھرکی تلاشی لینے لگے ۔ گھروں کی تلاشی لینے کے بعد پولیس والے چودھری نذیر کو ڈھونڈ نے کھیتوں میں بھی آئے لیکن تھوڑے سے کھیتوں کی تلاشی لے کر لوٹ گئے اور جا کہ ملک حسن کو تسلی دی کہ فکر نہ کرو ہم نے سارے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے ۔ گو نگا قاتل ہمارے ہاتھ سے ہر گزنہ نہیں بچے گا ۔ ہم آج ہی اُسے گرفتار کر لیں گے ۔ ملک حسن کی ڈر کے مارے ٹانگیں کانپ رہی تھیں ۔ پولس والوں  کا دعوی سن کر اس کے منہ سے کوئی بات نہ نکلی۔

رات ہوئی تو چو دھری نذیر دوبارہ ملک حسن کی حویلی میں داخل ہو گیا حالاں کہ پولیس والے جگہ جگہ پہرہ دے رہے تھے ۔ مگر چو دھری نذیر چونکہ اس گاؤں کا پُرانا واقف تھا۔ اس لیے وہ بڑی آسانی سے حویلی میں چلا گیا۔ ٹکوا اب بھی اُس کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے جا کر ملک حسن کو جگایا اورٹکوے سے اُس کی زبان کاٹ دی ملک حسن نے بہتری معافی مانگی ۔ منت سماجت کی پرچودھری نذیر نے بھی اُسے اپنی طرح کا گونگا بنا کر چھوڑا ۔ اس کے بعد اس نے ملک حسن کو قتل نہ کیا ۔ بلکہ زندہ رہنے دیا اور حویلی سے نکل آیا۔ با ہر آکر وہ بھاگا نہیں بلکہ شور مچا کر اس نے ادھر ادھر پہرہ دیتے ہو ئے  پولیس والوں کو اکٹھا کر لیا اور اپنے آپ کو اُن کے حوالے کر دیا چونکہ اس نے اپنے دشمنوں سے بدلہ لے لیا تھا ۔ پولیس والے اسے ہتھکڑی پہنا کر تھانے میں لے گئے ۔

۔۔۔۔ختم شُد۔۔۔۔

#Goounga Qatil 

 

Maqbery ka RAAZ

 حیرت اور تجسس سے بھر پور

Maqbery ka RAAZ#

مقبرے کا راز

 

سُلطان پور کا چھوٹا سا قبرستان گاؤں کے باہر تھا۔ دو ہفتہ پہلے تک لوگ قبرستان میں سے گزر کر قریبی گاؤں شکار پور جایا کرتے تھے وہاں کسی کو خوف محسوس نہیں ہوتا تھا مگر پچھلے چند دنوں میں لگاتا ردو تین ایسے خوفناک واقعات پیش آئے تھے کہ پورے گاؤں پر دہشت طاری ہو گئی اگر کسی کو شکار پر جانا ہوتا تو ایک لمبا چکر کاٹ کر قبرستان سے ایک میل دور سے گزرتا۔

جمیل، شکار پور کا رہنے والا تھا بڑا بہادر اور باہمت لڑکا تھا۔ ایک دن سلطان پور سے اُن کا ایک مہمان آیا۔ اس کا نام خدا بخش تھا۔ اس نےجب سلطان پور کے قبرستان کا ذکر چھیڑا تو جمیل نے پوچھا آپ کہتے ہیں کہ وہ قبرستان خوفناک ہے ۔ اُس کی کیا وجہ ہے ؟ خدا بخش کہنے لگا ۔ وہ قبرستان دو ہفتے پہلے تو خوفناک نہیں تھا مگر چند ایسے واقعات پیش آئے کہ سب خوفزدہ ہو کر ادھر جانے سے پر ہیز کرنے گئے۔ پہلا واقعہ قاسم نامی کسان کو پیش آیا ۔ ایک دن وہ شکار پور آیا۔ واپسی میں اُسے رات ہوگئی۔ راستہ چونکہ قبرستان کے درمیان میں سے گذرتا ہے اِس لیے وہ بیچارہ بھی ادھر سے گذرا ۔ قبرستان میں ایک اونچا مقبرہ بھی ہے ۔سُناہے کہ وہ جنگ عظیم میں مرنے والے ایک انگریز افسر کا ہے ۔ جب قاسم اس مقبرے کے قریب سے گزرا تو اسے کسی کے ہنسنے کی آوازسُنائی دی ۔ اُس نے رُک کر دونوں طرف دیکھا مگر کوئی بھی نظر نہ آیا۔ اچانک اس کی نظر مقبرے پر پڑی اس نے قبر کو آپ ہی آپ اُٹھتے دیکھا توخوفزدہ ہو کر تیزی سے گاؤں کی طرف دوڑ پڑا ،گھر تک پہنچتے پہنچتے اس کی عجیب حالت ہو گئی ۔ وہ سالوں کا بیمار نظر آنے لگا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو مقبرے کے متعلق بتایا ۔ اُس رات اُسےشدید بخار آگیا ۔ اور صبح سویرے وہ مر گیا۔ دوسرا واقعہ کس کے ساتھ رونما ہوا ہے؟؟ جمیل نے پوچھا ۔

 خدا بخش کہنے لگا ۔ گاؤں کے چند لڑ کے چاندنی رات میں وہاں کھیلنے گئے ۔ ابھی انہیں کھیلتے ہوئے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ انہیں ایک گر جدار آوازسنائی دی ۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک انسانی ڈھانچہ انگریز کے مقبرے کے پاس کھڑا ہے ۔ اور حرکت کر رہا ہے اُس کو دیکھ کر لڑ کے دہشت زدہ ہو گئے ۔ پھر انہوں نے ڈھانچے کی آواز سنی ۔ ڈھانچہ کہہ رہا تھا ۔ میں آج تم سب کو کھا جاؤں گا ۔ اب تم میں سے کوئی بچ کہ نہیں جا سکتا ۔ یہ کہا کہ ڈھانچہ قہقہے لگانے لگا۔ لڑکے اسے دیکھتے ہی تھر تھر کانپ رہے تھے ۔ جب اُنہوں نے ڈھانچے کی بات سنی تو وہ گھروں کو بھا گئے اُن میں سے تین لڑ کے خوف و دہشت کے مارے دوسرے دن ہی انتقال کر گئے۔ اس دن سے لوگوں نے قبرستان کی طرف سے آنا بند کر دیا ۔ مگر ایک رات پھر ایسا ہی واقعہ پیش آیا ۔ کر مو نامی شخص رات کے وقت پیشاب کرنے اپنے مکان سے باہر نکلا۔ قبرستان اُس کے مکان کے سامنے ہی تھا اُس نے قبرستان میں چند مشعلوں کی روشنی دیکھی ۔ چند سفید کفن میں لپٹی ہوئی روحیں مشعلیں لیے قبروں میں گھوم رہی تھیں ۔ کر مو نے اپنے ہمسائے کو جگا کر یہ منظر دکھایا ۔ ایک گھنٹے تک مشعل بردار روحیں نظر آتی رہیں۔

 

اُس کے بعد وہ غائب ہو گئیں ۔ جمیل نے بڑی دلچسپی کے ساتھ خدا بخش کی باتیں سنیں ۔ اُسے یہ معاملہ بڑا پراسرار معلوم ہوتا تھا۔ اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ قبرستان کے ان واقعات کی حقیقت معلوم کرے۔ جن کی وجہ سے گاؤںوالوں کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی تھی ۔

 دوسرے دن خدا بخش اپنے گاؤں واپس جانے لگا تو جمیل بھی ساتھ چل دیا۔ سلطان پور پہنچ کر خدا بخش نے جمیل کی بڑی خاطر مدارات کی ۔ خدا بخش کا لڑکا رمضان جمیل کا ہم عمر تھا ۔ رمضان کئی بار جمیل کے گھر رہ کر آیا تھا ۔ اس لیے دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہ تھے۔جمیل نے رمضان سے کہا، میں چاہتا ہوں کہ آج رات قبرستان کی سیر کر لیں ۔ نا بھئی نا ۔۔۔۔۔ رمضان نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا : کیا تمہیں ابا جان نے اس قبرستان کے متعلق کچھ نہیں بتایا ؟ بتایا تھا،جمیل بولا ۔ اور میں صرف اس مقصد کے لیے آیا ہوں کہ روحوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں ۔ مجھے شک ہے کہ وہ روحیں نقلی ہیں ۔ رمضان جو خوفزدہ تھا ۔ کہنے لگا ۔ اگر وہاں کوئی حادثہ پیش آ گیا تو تم ذمہ دار ہو گئے ۔ میں تو بھاگ آؤں گا ۔ ٹھیک ہے ۔ جمیل نے مسکرا کر کہا۔ کیا تمہارے پاس کوئی ہتھیاروغیرہ بھی ہے ؟ ایک چھوٹی سی کلہاڑی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ رمضان نے جواب دیا ۔ ایک بات کا خیال رکھنا۔ ہمارے قبرستان کی طرف جانے کا کسی کو علم نہ ہونے پائے جتنی کہ تمہارے والدین کو بھی نہیں ۔ ورنہ وہ ہمیں ادھر جانے سے روکیں گے : دونوں احتیاط اور خاموشی سے قبرستان میں داخل ہو گئے۔

AreeBTLM
جمیل نے رمضان کو پہلے ہی طریقہ کار سمجھا دیا تھا۔ جمیل قبروں کی اوٹ لیتے ہوئے انگریز افسر کے مقبرے کی طرف بڑھنے لگا وہ دونوں ایک گھنے برگد کے درخت کے تنے کے پاس پہنچ کر رک گئے۔ دونوں دم سا دھے مقبرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ ایک گھنٹہ گذر گیا۔ پھر اچانک انہوں نے مقبر کا تعویذ خود بخود اٹھتے دیکھا اور اس میں سے کفن پوش روح نکلی ۔ اُس کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ با ہر آکر روح نے ادھر ادھر دیکھا پھر قبر کی طرف منہ کر کے کہا ، آجاؤ جلدی کرو اس کے خاموش ہوتے ہی قبر سے مزید روحیں نکلنے لگیں ساتویں روحیں نے باہر نکل کر قبر کا تعویز برابر کر دیا ۔ پھر وہ ساتوں روحیں گاؤں کی طرف چل پڑیں ۔ انہیں گاؤں کی طرف جاتے دیکھ کر جمیل اور رمضان دونوں کوحیرت ہوئی ۔ جمیل نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا۔ اور ہم ذرا انگریزکی قبر دیکھ لیں کہ سات روحیں اُس میں سے کیسے نکلیں جب کہ اس میں صرف ایک آدمی کی لاش ہے ۔ رمضان روحیں دیکھ کر خوفزدہ ہو چکا تھا ۔ مگر جمیل کی بات نے اُسے حوصلہ دیا ۔ مقبرے میں پہنچ کر جمیل نے بڑی احتیاط سے قبرکر تعویذ کو اٹھایا تو یہ دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا کہ اس میں زینے بنے ہوئے تھے اور نیچے کسی طرف سے ہلکی ہلکی روشنی آرہی تھی۔ جمیل نے اس کے کان میں آہستہ سے کہا۔ تم نہیں" ٹہرو! میں نیچے اتر تا ہوں اگر روحیں واپس آتی دکھائی دیں تو مجھے آواز دے دینا " یہ کہہ کر میں نے خدا کا نام لیا اور قبرمیں داخل ہو کر زمینوں پر چلنے لگا اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا ۔ ہاتھ میں کلہاڑی لرز  رہی تھی ۔ نیچے پہنچتے ہی اُس کی نظر دائیں طرف کھڑے ایک ڈھانچے پر پڑی ۔ مگر وہ توبے جان تھا۔ جمیل نے بغور وہاں کا جائزہ لیا ۔ یہ ایک تہہ خانہ ساتھا ۔ دائیں  طرف ایک مشعل جل رہی تھی اور زمین پر ایک دری بچھی تھی جس پر ایک ریڈیو بھی رکھا تھا ۔ دیوار کے ساتھ کھانے پینے کے برتن اور تیل سے جلنے والا چولہا رکھا تھا ۔ جبکہ بائیں طرف دس بارہ لکڑی کے صندوق رکھے تھے ۔جمیل کچھ سوچ کر صندوقوں کی طرف بڑھا ۔ اس نے ایک صندوق کا ڈھکنا اٹھایا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔ اُس میں سونے چاندی کے زیورات اور نوٹوں کی گڈیاں پڑی تھیں ۔ دوسرے صندوقوں میں بھی ایسا ہی مال تھا۔ اُس نے سوچا۔ روحوں کے پاس ان چیزوں کا کیا کام ۔ مگر یہاں تو کھانے پکانے کا بھی پورا انتظام تھا ۔ اور سگریٹوں کے ٹکڑے بھی زمین پرپڑے تھے ۔ قریب ہی ایک بندوق پربھی اس کی نظر پڑی۔ جن کے ساتھ  گولیوں کی پیٹی بھی پڑی تھی ۔ اب سب کچھ جمیل کی سمجھ میں آچکا تھا۔ روحوں کی حقیقت معلوم کرکےاُسے بڑی خوشی محسوس ہو رہی تھی ۔ اسی لمحہ اسے رمضان بلا رہا تھا۔ جمیل تیزی سے اوپر پہنچا اور باہر آ گیا ۔ اُسی لمحے اس کی نظر دُور سے آتی ہوئی سفید پوش روحوں پر پڑی۔ چار روحوں نے کچھ اٹھا رکھا تھا ۔ پھر وہ سب مقبرے میں داخل ہو گئیں جمیل نے رمضان کا ہاتھ پکڑا اور قبرستان سے نکل کر گاؤں کی طرف چل پڑا۔

گاؤں میں ایک جگہ دس بارہ آدمی اکٹھے تھے ۔ وہ دونوں بھی اُن کے پاس جاکھڑے ہوئے ۔ ان لوگوں کی باتوں سے پتہ چلا کہ چار مکانوں میں چوری ہو گئی ہے ۔ یہ سن کہ جمیل اور رمضان سمجھ گئے کہ یہ کام صرف اُن روحوں کا ہی ہے ۔ جمیل نے اُن لوگوں سے کہا کہ ہم چوروں کو جانتے ہیں لیکن آپ لوگ ہماری بات پر اعتبار نہیں کریں گے ۔کیوں نہیں؟ ایک بوڑھے آدمی نے کہا کہ تم بتاؤ تو سہی

پھر جمیل نے انہیں تفصیلی حالات بتا دیے ۔ یہ سن کر گاؤں کے پندرہ بیس آدمیوں نے کلہاڑیاں پکڑیں ۔ اور انگریز کے مقبرے کی طرف چل دیے ۔ اور خاموشی سے مقبرے کے تہہ خانے میں اتر کر  انہیں پکڑلیا۔ اور پولس کے حوالے کر دیا۔

جمیل کو اس ہمت اور بہادری کے کارنامے پر بھاری انعام ملا۔

 ختم شُد


Teen Shararti Thag

 تین شرارتی ٹھگ

Teen Shararti Thag

تین شرارتی ٹھگ

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ تین ٹھگ تھے ٹھگ پورے ملک میں گھومتے پھرتے اور لوگوں سے پیسے بٹورتے رہے۔ یہ ٹھگ کبھی بھی کوئی کام دھندہ نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی خواہش ہوتی کہ یہ لوگوں کو بے وقوف بنا کر دولت کمائیں۔ تینوں ٹھگ لطیفے سنانے میں بھی بڑے ماہر تھے اور کمال کے منصوبہ ساز بھی۔ بعض اوقات تو ان کے حالات بڑے اچھے ہوتے اور بعض اوقات یہ لوگ فاقہ کشی کا شکار ہوتے وجہ یہ تھی کہ مستقل ذریعہ روزگار کوئی نہ تھا۔

 ایک دن تینوں ٹھگ ایک چھوٹے سے قصبے کے باہر جمع تھے اور یقیناً خود سے شرمندہ تھے۔ کیونکہ کئی ہفتوں سے انہوں نے اپنے کرتبوں سے کسی کو بے وقوف بنا کر کچھ بھی حاصل نہیں کیا تھا یا یوں کہہ لیں کہ ان کو موقع ہی نہیں ملا تھا۔ کسی نے بھی ان کے لطیفوں سے خوش ہوکر یا ان کی جگتوں سے خوش ہو کر ان کو کچھ بھی نہیں دیا تھا۔ بلکہ اس دوران تو یہ بھی کمال ہو گیا کہ ان کی جگتوں یا لطیفوں کو سن کر کسی نے بھی ہنستا گوارا نہ کیا۔ چنانچہ یہ لوگ مایوس ہو کر اس چھوٹے سے قصبے کی طرف آنکلے ۔ اب انہوں نے کسی بھی کام کو سنجیدگی سے کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ مگر ان کے پاس تو کوئی بھی ہنر نہیں تھا۔

 تینوں کافی دنوں تک سوچ بچار کرتے رہے کہ کیا کیا جائے کہ یکا یک ایک ٹھگ اچھل پڑا۔ اس کے دونوں ساتھیوں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ کیا ہوا ہے کیا تمہیں کوئی ترکیب سوجھی ہے؟ "دوستو میں کافی مقدار میں دودھ لاسکتا ہوں دودھ لانے کی ترکیب مجھے ابھی ابھی سوجھی ہے۔" اس نے چہکتے ہوئے پر جوش لہجے میں کہا۔

کچھ دیر کے بعد اس نے دو مٹکے اپنے گھر کے باہر لاکر رکھ دیئے اس نے ان میں سے ایک میں پانی بھرا اور اس میں  تھوڑا سا دودھ بھی ملا دیا۔ مگر دوسرا مٹکاخالی رہنے دیا۔اس کے بعد اس نے  دونوں مٹکوں کو اٹھایااور دودھ  والے کی دکان پر نے دکاندارپر چلا گیا۔وہاں سے اس نے دکان دار سے کہا کہ ان مٹکوں میں دودھ بھر دو۔مجھے بڑی ضرورت ہے۔ دکاندار خوش ہو گیا کہ پہلو ڈھیر سارا دودھ فروخت ہو گیا ۔ دکاندارنے خالی مٹکے میں جلدی جلدی دودھ بھر دیا۔

"تم مجھے اس دودھ کےبیس ریال دے دو تمہاری بڑی مہربانی۔" دکاندار نےبڑے پیار سے کہا۔ "مگر تم نے تو میرے ساتھ دھو کہ کیا ہےٹھگ نے دکاندار سے کہا۔ دکاندار نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ کیا بات ہوگئی۔ ٹھگ نے دودھ میں انگلی ڈال کر نکالتے ہوئے کہا کہ مجھے تم سے یہ امید نہ تھی کہ تم مجھے اس قدر پتلا دودھ دو گے۔ دکاندار کو دودھ پر اعتماد تھا اس نے کہا کہ اگر تمہیں دودھ پسند نہیں ہے تو تم اس کو دوبارہ اس کے دودھ کے ڈرم میں ڈال دو میری دکانداری خراب نہیں کرو۔

AreeBTLM


 ٹھگ نے مصنوعی غصے سے بڑبڑاتے ہوئے دودھ ملے پانی کا مٹکا اس کے ڈرم میں انڈیل دیا اور دونوں مٹکوں کو اٹھا کر اپنے دوستوں کے پاس پہنچ گیا دونوں دوستوں نے دودھ سے بھرا مٹکا دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔ کہ چلو اب کافی دنوں تک چائے کی پریشانی ختم ہوئی کچھ دودھ کی انہوں نے کھیر تیار کی اور باقی سنبھال کر رکھ لیا۔

اب دوسرے ٹھگ نے خوشی سے بتلایا کہ اس کے ذہن میں ایک موٹے تازے مرغ کو حاصل کرنے کا شاندار منصوبہ آیا ہے۔" میں دو عدد موٹے موٹے مرغے کھانے کے لئے لے کر آؤں گا۔ تم لوگ بے فکر رہو بس اب تماشا دیکھو۔"

 پیارے بچو! دوسرا ٹھگ اب مارکیٹ میں پہنچا اور سیدھا مرغیوں کی دکان پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ اس دکان سے اس نے دو موٹے موٹے مرغ پسند کئے۔ "میرے دوست! یہ دونوں مرغے نکال دو۔ جج صاحب نے منگوائے ہیں۔ تم کچھ دیر کے بعد آنا اور جج صاحب سے ان کی قیمت لے آنا۔ دوسرے ٹھگ نےاس دکاندار سے کہا۔

مگر! وہ دکاندار بھی بڑا سمجھدار تھا اس کو بے وقوف بنانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس نے دونوں مرغ ٹھگ سے چھین لئے اور اس سے کہا کہ میں جج صاحب کو نہیں جانتا۔ تم پیسے لے کر آؤ اور یہ مرغ لے جاؤ۔ میں یہاں مرغ فروخت کرتا ہوں مفت نہیں بانٹتا۔ جج صاحب کو ان مرغوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ان کے مہمان بڑی دور سے آئے ہیں۔" ٹھگ نے غصے سے کہا " تم انہیں غصہ دلا رہے ہو۔ ان کو بہت غصہ آئے گا جب ان کو معلوم ہوگا کہ تم نے ان کو مرغے نہیں دیئے۔ اچھا تم ایسا کرو کہ میرے ساتھ ہی چلو اور جج صاحب سے پیسے لے آؤ۔"

بھلا دکاندار کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا اس نے اپنے لڑکے سے دکان کا دھیان رکھنے کو کہا اور خود اس ٹھگ کے ساتھ چل پڑا۔ جب دونوں جج کے گھر پہنچے تو جج صاحب اپنے ملاقاتیوں میں گھرے بیٹھے تھے۔ ٹھگ نے دروازے سے باہر اس دکاندار کو کھڑا کیا اور خود لوگوں کو پھلانگتا ہوا جج صاحب کے پاس چلا گیا اس نے جج صاحب سے جا کر کہا،  حج صاحب! یہ جو آدمی باہر کھڑا ہے یہ اپنے کاروبار کے سلسلے میں بے حد پریشان ہے آپ اس کو آواز دے کر کہیں کہ ابھی تھوڑی دیر بعد تمہارا مسئلہ آسان کردوں گا۔ جج صاحب نے مسکراتے ہوئے اس دکاندار سے کہا کہ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تم تھوڑی دیر ٹھہرو میں ابھی تمہارا مسئلہ حل کئے دیتا ہوں ۔ دکاندار نے جب یہ سنا تو اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب ٹھگ کمرے سے باہر آیا اور اس سے دونوں مرغے پکڑ لئے اور یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میں ان کو جج صاحب کے حکم سے پکانے کے لئے لے جارہا ہوں۔ دکاندار کمرے کے باہر مرغوں کی قیمت لینے بیٹھ گیا جو کہ اس کو نہ ملنا تھی اور نہ ہی ملی۔

 اب دوسرا ٹھگ مرغوں کو لے کر اپنے باقی دوستوں کے پاس پہنچا۔ دونوں نے خوشی خوشی مرغوں کو پکڑا۔ مرغوں کو ذبح کرنے کے بعد انہوں کچھ گوشت پکا لیا اور کچھ گوشت محفوظ کر لیا اس کے بعد ان تینوں نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور پھر کھیر اُڑائی۔

 مگرا تیسرا ٹھگ تو کچھ بھی کارنامہ نہیں دکھا سکا تھا۔ دونوں ٹھگ نے تیسرے ٹھگ سے کہا کہ "تم نے کل کھانے پینے میں ہماری کوئی مدد نہیں کی تھی۔ تمہیں چاہئے کہ آج کی خوراک کا بندوبست تم کرو۔

وہ ان دونوں کو لے کر ایک سرائے میں داخل ہوا۔ ان دنوں سرائے کا مالک کہیں گیا ہوا تھا اور اس کی بیوی سرائے کا انتظام سنبھالے ہوئے تھی۔ بڑی تمکنت کے ساتھ تیسرے ٹھگ نے اپنے دونوں ساتھیوں کے لئے کھانے کا آرڈر دیا۔ تینوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا مگر جب بل کی رقم دینے کا وقت آیا تو تیرے ٹھگ نے ایک کاکروچ شوربے میں ڈال دیا اس کے بعد اس نے بڑی زور دار آواز میں سرائے کی مالکن کو آواز دے کر بلوایا ۔

"ہم نے تمہیں عمدہ سالن بھیجنے کو کہا تھا مگرتم نے اس قدر گندہ سالن ہمیں کھانے کو دیا۔ اُف توبہ ۔ میرا تو برا حال ہو گیا ہے ارے دیکھو تو سہی اس شور بے میں کاکروچ پڑے ہیں ۔ تم نے ہمیں اس قدر خراب سالن کھلا دیا ہے۔ تیسرے ٹھگ نے چنگھاڑتے ہوئے کہا۔ مالکن نے جب پیالے کی طرف دیکھا تو واقع اس میں کاکروچ پڑا ہوا تھا۔ اس بے چاری نے ان تینوں کی منت سماجت کی اور ان کو تھوڑے بہت پیسے دے کر رخصت کیا۔ کچھ عرصہ ان تینوں نے اپنی سرگرمیاں اس چھوٹے سے قصبے میں جاری رکھیں مگر جب انہوں نے اس قصبے سے چلے جانے کا سوچا تو ان کو کافی دیر ہو چکی تھی۔ قصبے کے لوگ ان کی ٹھگی سے آگاہ ہوچکے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ان کو پکڑ کر کوتوال کے حوالے کر دیا اور کوتوال نے ان تینوں کو تفتیش کے بعد قید خانے میں ڈال دیا۔ کچھ عرصہ انہوں نے جیل میں گزارا۔ جیل میں ان تینوں نے بہت ہی برا وقت گزارا پھر جب ان کو آزادی نصیب ہوئی تو انہوں نے مستقل مزاجی سے کوئی کام دھندہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ لوگ محنت کرنے کےعادی ہو گئے۔

پیارے بچو! آپ نے دیکھا کہ جھوٹ اور دوسروں کو دھوکہ دینے والوں کو ہمیشہ کامیابی نہیں ملتی مگرپکڑے جانے سے ہمیشہ ذلت ضرور مل جاتی ہے۔

#areebtlm #naushadali19881 #urdukahani #teen Shararti Thag

****ختم شد****


Shahzadi aur Dragon

 شہزادی اور ڈریگون

 Shahzadi aur Dragon

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سٹون والز کے قریب ہی ایک شہزادی ایک بہت خوبصورت مگر چھوٹے سے قلعے میں رہتی تھی۔ شہزادی کا نام مارتھا تھا۔ شہزادی کے والدین وفات پا چکے تھے۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا جو اس چھوٹی سی ریاست کا حکمران تھا۔ ایک عرصہ سے اس کا بھائی مذہبی جنگوں میں شرکت کرنے کے لئے محاذ پر گیا ہوا تھا۔ مگر شہزادی کے آرام و سکون کا مکمل انتظام کر کے گیا تھا۔ جب اس کا بھائی جنگوں میں شرکت کے لئے گیا تو اس وقت شہزادی بہت کم عمر تھی۔ قلعہ کا انتظام ایک بہت ہی جہاندیدہ کے ذمے تھا یہ شخص شہزادی کا ہر طرح سے خیال رکھتا تھا۔ جبکہ قلعہ میں دیگر ملازمین بھی بہت چاق و چوبند تھے۔ اور قلعہ کا پورا انتظام ہی بہت منظم طریقہ سے چلا رہے تھے۔ جبکہ غذائی اجناس کی پیداوار بھی بڑی اچھی ہورہی تھی۔ غرضیکہ شہزادی اور تمام رعایا اپنے شب و روز شخص بڑے آرام و سکون سے گزار رہے تھے۔ انہی دنوں ایک رات یوں ہوا کہ شہزادی نے کچھ شور کی آواز سنی اور اس کوایسے محسوس ہوا کہ کوئی بہت بڑا پرندہ باغ میں  ُاترا ہے۔ کیونکہ شہزادی کو اس پرندے کے پروں کی آواز بہت تیز سنائی دے رہی تھی۔ اس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا مگر اسے اندھیرے میں کچھ بھی دکھائی نہیں دیا۔ مگر! اگلی صبح اس نے دیکھا کہ ایک غیر معمولی حجم کا انڈہ باغ میں پڑا ہوا ہے۔ یہ انڈہ صاف ظاہر کر رہا تھا کہ یہ کسی عام پرندے کا نہیں ہے۔ میں اس انڈے کو یہاں بالکل نہیں چھوڑوں گی شہزادی نے دل ہی دل میں ہے سوچا۔"  کوئی نہ کوئی جانور اس کو ضرور توڑ ڈالے گا مجھے اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔"

چنانچہ شہزادی مارتھا نے انڈے کو بڑی احتیاط سے اٹھایا اور اس کو کمرے کے اندر لے گئی۔ شہزادی نے اس انڈے کو ایک بہت ہی گرم جگہ پر رکھ دیا۔ چند ہفتوں کے اندر انڈا خود بخود پھوٹ گیا اور اس میں سے ایک ننھا منا سا ڈریگون برآمد ہوا ۔ نوجوان شہزادی نے اس عجیب الخلقت مخلوق کو پالتو جانور کی طرح پالنے کا ارادہ کرلیا۔ چند دنوں میں ہی یہ ڈریگون کافی بڑا مضبوط اور کار آمد دکھائی دینے لگا۔ صرف چند ہفتوں کی پرورش کے بعد اس ننھے ڈریگون نے شہزادی سے کہا،  پیاری شہزادی میرے لئے اب آپ کو میری خوراک کے لئے روٹی اور دودھ یا کسی بھی اور چیز کا انتظام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں اب اپنے لئے خود ہی خوراک کا بندوبست کر لیا کروں گا ۔ آپ براہ مہربانی میری خوراک کے لئےفکرمند نہ ہوا کریں ۔" چنانچہ اب قلعہ سے ملحقہ کھیتوں اور باغ میں ڈریگون نے جانا شروع کر دیا۔ اپنی پہلی صبح جو ڈریگون نے خوراک کی تلاش میں قلعہ سے باہر گزاری اس میں ڈریگون نے وہاں پر موجود تمام چوہوں چوہیوں اور سنڈیوں کا صفایا کر کے اپنے ناشتے کا اہتمام کیا۔ اسی طرح اپنے دو پہر اور پھر رات کے کھانے کا بھی اہتمام کرلیا۔

AreeB Kahani


قلعہ کا بڑا محافظ اور تمام مالی ڈریگون کی اس کارروائی سے بے حد خوش تھے کیونکہ خاص طور پر مالی حضرات اور کاشتکار تو چوہوں اور سنڈیوں سے بہت زیادہ عاجز آچکے تھے۔ مگر اب کوئی بھی اس قسم کی آفت موجود نہیں رہی تھی جو ان کے کھیتوں یا خوراک کے گوداموں میں تباہی لاسکتی اور یہ صرف اور صرف ڈریگون ہی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔

پیارے بچو! اس کے بعد کئی سال بڑے سکون سے گزر گئے ۔ ڈریگون کی وجہ سے باغات اور کھیتوں سے ان جانوروں کا خاتمہ ہو گیا مگر اسی دوران ڈریگون بہت ہی بڑا ہو گیا۔ شہزادی نے اس کے ساتھ باتیں کرنے کے لئے خاص طور پر ایک چبوترا بنوایا تھا۔جہاں پر کھڑی ہوکرڈریگون باتیں کیا کرتی تھی۔ وہ ڈریگون کا یہ رویہ سب  کے ساتھ بہت ہی دوستانہ تھا۔ اس کے رویے کے متعلق یہ بات صرف قلعے میں رہنے والے ہی جانتے ہیں۔ ارد گرد کے دیہات کے رہنے ولے اس سے ابھی تک بہت خوفزدہ رہتے اور اس کے قریب جانے سے گھبراتے بلکہ اس کو دیکھتے ہی سرپٹ دوڑنا شروع کر دیتے۔

اس صورتحال کے پیش نظر لوگوں نے قلعے میں آنا جانا کم کر دیا کسی کو بہت ہی ضروری کام ہوتا تو وہ قلعہ کا رخ کرتا وگرنہ کوئی بھی ادھر آنا پسند نہیں کرتا تھا۔ شہزادی نے سوچا اب یہ تو ممکن نہیں کہ ہم سب لوگوں سے کنارہ کش ہو کر رہ جائیں ہمیں چاہئے کہ کسی اور جگہ ڈریگون کو رکھیں تا کہ ہمارے پاس لوگ آنے سے کترا ئیں نہیں۔"

تب اچانک ایک روز نواب قلعہ میں داخل ہوا کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ یہی نواب اصل میں قلعہ اور علاقے کا مالک ہے۔ اس کا حلیہ جنگوں میں شرکت کی وجہ سے کافی بدل چکا تھا۔ قلعہ کا محافظ بھی موجود نہ تھا۔ چنانچہ اس نے مطالبہ کیا کہ اس کی ملاقات شہزادی مارتھا سے کروائی جائے ۔ شہزادی مارتھا اب بچی نہ تھی بلکہ بھر پور جوان ہو چکی تھی۔ جب شہزادی آئی تو نواب نے اٹھتے ہوئے اس سے کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں اور مذہبی جنگوں سے واپس آیا ہوں ارے واہ تم تو کس قدر بدل چکی ہو میں جب یہاں سے گیا تھا تو تم اتنی سی گڑیا کی طرح تھیں۔" دونوں بہن بھائی کئی برسوں کے بعد ملے تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ اور دیر تک باتیں کرتے رہے۔ نواب نے کچھ دیر کے بعد شہزادی سے کہا۔ میں تمہارے ڈریگون کو ہلاک کرنا چاہتا ہوں۔ جس نے تمہارا اور تمام لوگوں کا حقیقت میں جینا حرام کر رکھا ہے۔ مجھے قلعہ سے باہر لوگوں نے بتایا ہے وہ بہت ہی ہے کہ آپ صحیح خوفناک اور خطرناک جانور ہے میں اس سے تم لوگوں کی جان چھڑاؤں گا۔ تم بالکل فکر نہیں کرتا۔ میں اب آ گیا ہوں۔ پھر بھلا تمہیں فکر مند ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ "میرے پیارے بھائی! میں آپ کو دیکھ کر کس قدر خوش ہوں۔ خدا کا شکر سلامت واپس ہمارے درمیان آئے ہیں۔  شہزادی نے مسکراتے ہوئے نواب سے کہا۔"

تھوڑی دیر کے بعد شہزادی نے نواب سے کہا "مگر یقینا آپ کو پالتو جانور کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ وگرنہ آپ ایسی باتیں نہ کرتے۔ وہ تو ایک چھوٹا سا ڈریگون ہے۔ جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے دودھ پلا کر بڑا کیا ہے مگر ابھی تو وہ ایک چھوٹا سا جانور ہے اس کا قد ہی بڑا ہے وگرنہ آپ کو اس کے سر پر کوئی ایک بال بھی تو نظر نہیں آئے گا۔ اس طرح شہزادی نے نواب کے دل سے تمام شکوک و شبہات دور کر دئیے جو لوگوں نے ڈریگون کے بارے میں نواب کو بتلائے تھے۔ جب نواب کو یقین ہو گیا کہ ڈریگون کس قدر کارآمد اور اچھا جانور ہے تو شہزادی اور نواب دونوں نے ڈریگون کو اپنے ساتھ لیا اور آبادی میں چلے گئے۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ ڈریگون کس قدر معصوم اور بے ضرر جانور ہے لوگ یونہی اس سے خوفزدہ رہتے ہیں۔

اس کے بعد آبادی کے لوگوں کا ڈر خوف اس ڈریگون سے دور ہو گیا اوروہ ڈریگون سے پیار کرنے لگے۔  ڈریگون بڑی آسانی سے جہاں چاہتا چلا جاتا اب ڈریگون کسی کو بھی تنگ نہیں کرتا تھا لوگ اس سے مذاق کرتے اور وہ بڑا خوش ہوتا۔ پیارے بچو! اس طرح مزید کئی برس گئے اس عرصہ میں ڈریگون پوری طرح جوان ہو گیا۔ اس کے مکمل طور پر دونوں پر نکل آئے۔ اب اس نے اڑنا بھی شروع کر دیا تھا۔ پھر ایک روز شہزادی نے دیکھا کہ ڈریگون ہوا میں بڑی بلند پرواز کرتا ہوا اپنے ماں باپ کے پاس جارہا تھا۔ قلعے کے لوگ اور آبادی کے لوگ بھی دیکھ رہے تھے مگر اب تو ڈریگون ان کی پہنچ سے بہت دور ہو چکا تھا۔ اس کے بعد ڈریگون کبھی وہاں دکھائی نہ دیا۔ لوگ اس کو کچھ عرصہ کے بعد فراموش کر گئے مگر شہزادی اس کو یاد کو کو کرتی رہی۔

۔۔۔۔۔ختم شُد۔۔۔۔

#naushadali19881 #AreeBTLM #areebstory

JABBIR AUR SHER

 جابر اور شیر:

JABBIR AUR SHER

جابر اور شیر

پیارے بچو! ہزاروں برس پرانی بات ہے کہ روم کی سلطنت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تسلیم کی جاتی تھی۔ ان دنوں رومیوں کی حکومت یورپ کے ایک بہت بڑے حصے کے علاوہ ایک وسیع و عریض افریقی علاقے اور ایشیا پر بھی تھی۔ انہی دنوں ایک جوان آدمی بد قسمتی سے رومی سپاہیوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ اس کا نام جابر تھا یہ اس وقت اپنے گھر بار اور وطن سے سینکڑوں میل دور تھا۔

جابر کو رومی سپاہیوں نے قید کر کے غلام بنا لیا اور اس کو غلاموں کے بازار میں لے جا کر فروخت کر دیا۔ جابر آزادی کا متوالا تھا اور آزادی کو دل و جان سےپسند کرتا تھا۔ اس نے اپنی غلامی کو دل سے قبول نہیں کیا۔ آزادی کی ترکیبیں سوچتا رہتا۔ آخر کار اس کو قید سے فرار ہونے کا موقع کئی برس کے بعد مل ہی گیا۔ جابر قید غلامی سے فرار ہو کر پہاڑوں میں پہنچ گیا جہاں چند لوگ ہی پہنچ سکتے تھے جابر کی پہلی خواہش یہی تھی کہ وہ کسی طرح اپنے وطن میں پہنچ جائے مگر اس کو یہ بھی خطرہ لاحق تھا کہ کہیں وہ راستے میں ہی دوبارہ گرفتار نہ کر لیا جائے ، یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ اس کو سفر کے دوران رومی سپاہی دیکھ لیتے ۔ کیونکہ ہر جگہ اس کے فرار کی اطلاع پہنچ چکی تھی اگر وہ سڑکوں پر سفر کرتا تو اس کو یقین تھا کہ اس کو مفرور غلام قرار دے کر دوبارہ گرفتار کر لیا جاتا۔ اگر وہ اپنا سفر جنگلوں یا پہاڑوں پر جاری رکھتا تو اس کو یہ خدشہ تھا کہ وہ یقینی طور پر شدید سردی اور بھوک سے مر جاتا۔

بے انتہا سوچ و بچار کے بعد جابر نے یہی منصوبہ بنایا کہ روم کے نزدیک ہی پہاڑوں میں روپوش ہونا زیادہ بہتر ہے۔

یہ موسم خزاں کے دن تھے۔ جابر دن کےوقت سٹرابری درختوں سے توڑ کر کھا لیتا اوررات کو ایک غار میں

سو رہتا۔



 پیارے بچو!دن کے وقت اس کوکھانے کیلئے سٹرابری مل جاتی اور پینے کے  لیے پانی ، اسی طرح کئی دن گذر گئے ۔ ایک دن جنگل میں اسے شیر کے رونے کی اور درد سے کراہناکی آواز سنائی دی۔ جابر ڈرتے ڈرتے شیر تک پہنچا۔ پہلے پہل تو جابر کو بڑا خوف آیا،اور ایک لمحہ کے سوچا کہ یہاں سے بھاگ جائے ۔ مگر جابر انسانیت نواز آدمی تھا۔ اس نے شیر کو بغور مشاہدہ کیا تو پتہ چلا کہ شیر کے پیر میں ایک بڑا سا کانٹا چبھ گیا اور وہ چل نہیں پا رہا ہے۔

 

        شیر کی ملتجانہ نظر جابر پہچان گیا اور اب اُس کا ڈر کافور ہوگیا۔ وہ ہمت سے آگے بڑھا شیر کا پیر اپنے ہاتھ میں لیا اور ایک ہی جھٹکے میں کانٹے کو پیر سے الگ کر دیا۔ شیر زور سے دہاڑا، آواز سن کر جابر کے پسینے چھوٹ گئے ۔ جابر نے ایک کپڑے سے زخم پر پٹی باندھ دی ،شیر وہاں سے چلا گیا۔

        کچھ دنوں بعد سپاہیوں کو جابر کا پتہ چل گیا اور وہ اسے گرفتار کر کے بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزا سنائی کہ اسے جمعہ کے دن سب کے سامنے بھوکے شیر کے سامنے ڈال دیا جائے گا اس سے سب کو سبق ملے گا کہ ہماری حکم عدولیٰ کا انجام موت ہے۔وہ بھی بد ترین موت۔۔۔۔۔

جمعہ کے دن بڑے بڑے سلاخوں والے پنجرے میں جابر کو ڈال دیا گیا۔ سارے درباری اور رعایا اس منظر کو دیکھ رہے تھے، پھر ایک چھوٹے پنجرے میں کئی دن بھوکے  شیر کو لایا گیا اور بڑے پنجرے میں داخل کر دیا گیا۔ سب منتظر تھے کہ شیر اتنا بھوکا ہے کہ ایک دو جھپٹے میں ہی جابر کا کام تمام کردیا اور کھا جائے ، مگر جیسا درباری اور رعایا سوچ رہی تھی ویسا نہیں ہوا، بلکہ وہ سب شیر کی حرکت دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔

        شیر نہایت اطمینان سے جابر کے قریب پہنچا اور جابر کے قدموں پر اپنا سر رکھ دیا ، جابر نے جب شیر کی پیر کی طرف دیکھا تو اسے پتہ چلا کہ یہ تو وہی شیر ہے جس کی اس نے مدد کی ۔ بادشاہ اور درباریوں کو یہ منظر دیکھ کر بڑی حیرت اور تعجب ہوا کہ معاملہ کیا ہے ؟؟؟؟ بادشاہ نے جابر کو اپنے پاس بلوایا اور حقیقت دریافت کی ، جابر نے سارا ماجرا سنا دیا۔

بادشاہ کو اس کی رحمدلی پر بہت پیار آیا اور اس نے جابر کو معاف کردیا اور اپنے سپاہیوں میں شامل کر لیا۔

۔۔۔۔۔ختم شُد۔۔۔۔۔

Rahem Dil Boney

 انتخاب:نوشادعلی 

رحم دل بونے : Rahem Dil Boney 

پیارے بچو! صدیوں پرانی بات ہے ایک ملک میں ایک غریب موچی رہتا تھا۔ اس کو اپنی بیوی اور اپنی گزر اوقات کے لئے بڑی سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔ ان دونوں کے بچوں نے کچھ عرصہ پہلے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ اب جوان ہو چکے تھے۔ غریب موچی نے اپنی دونوں بیٹیوں کی تو شادی کر دی تھی اور دونوں بیٹے بھی اس نے بیاہ دیئے تھے۔ مگر اس کے دونوں بیٹے اب اس کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہ تھے۔ چنانچہ اب بڑھاپے میں غریب موچی کو بڑی ہی سخت محنت کرنا پڑی تھی۔ کیونکہ اب تو اس کی نظر بھی کمزور ہو گئی تھی۔ پیارے بچو! اس زمانے میں بھلا عینک کا رواج تو تھا نہیں۔ آپ سمجھ گئے ناں۔

     ایک شام کو یوں ہوا کہ اس موچی کی بیوی نے رات کا کھانا تیار کر کے جب اپنے میاں کو آواز دی تو موچی بدستور کام کرتا رہا۔ اس نے سنی ان سنی کر دی اور اپنے کام میں مشغول رہا۔ موچی کے سامنے والے میز پر چمڑے کے کٹے ہوئے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے۔ جن کو اس موچی نے بس اب سینا ہی تھا۔ یعنی چمڑے کی کٹائی ہو چکی تھی اور اب کام تھوڑا ہی باقی تھا۔ جب موچی کی بیوی کا اصرار زیادہ بڑھا تو موچی نے چلاتے ہوئے کہا کہ ” میں ان جوتوں کو ضرور تیار کروں گا۔ جوتوں کو سینے کے بعد بھی میں رات کا کھانا کھاؤں گا۔ نیک بخت! مجھے تنگ نہ کر اور کام کرنے دے" بڑھیا نے اس کے سامنے آتے ہوئے کہا " نہیں، نہیں۔ اب بس کرو تم نے سارا دن بھی بہت سخت کام کیا ہے۔ اب تمہیں ہر صورت آرام کرنا چاہیے۔ آؤ میرے ساتھ اور کچھ کھاکر سو جاؤ تاکہ کل بھی کام کر سکو۔ اس چمڑے کو میز پر ہی پڑا رہنے دو۔ اور صبح تازہ دم ہو کر جوتے تیار کر لینا۔ کھانا ابھی گرم ہے کھا لو ور نہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور ہاں جب کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا تو پھر تم مجھ سے خوامخواہ ناراض ہو جاؤ گئے۔"

چنانچہ موچی نے کام نہ کرنے میں ہی عافیت جانی۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی بیوی نے اب خاموشی اختیار نہیں کرنی۔ یہ تو اب بولتی ہی چلی جائے گی۔ اس نے سارا کام اسی طرح چھوڑ کر کھانا کھانے کے لئے کمرے کا رخ کیا۔ کھانا کھا کر تھکا ہارا موچی بے سدھ ہو کر سو گیا۔ پیارے بچو! اگلی صبح جب موچی اپنی دکان میں داخل ہوا جو کہ اس کے گھر میں ہی بنی ہوئی تھی تو اس نے دیکھا کہ جوتے تو بالکل تیار تھے۔ جتنے چمڑے کے ٹکڑے اس نے کاٹ کر رکھے تھے ان سب کے جوتے بالکل بہترین حالت میں تیار تھے۔ اس نے بہت زیادہ حیرانی کے ساتھ جب ان جوتوں کا مشاہدہ کیا تو اس نے دیکھا کہ نہایت ہی عمدہ ترین جوتے تیار تھے۔ اس نے اس قدر عمدہ جوتے بہت ہی کم دیکھے تھے۔ یہ تو لگتا تھا کہ جیسے کسی بہت ہی ماہر کاریگر نے تیار کئے تھے۔ بیگم ادھر تو آؤ، دیکھو تو سہی یہ کیا ہے“ موچی نے خوشی سے لرزتی آواز میں     اپنی بیوی کو آواز دی۔ موچی کی بیوی اس وقت گھر کے کام کاج میں مصروف تھی کیونکہ صبح سویرے کا وقت تھا۔ اس کی بیوی نے جو موچی کو بار بار چلاتے سنا تو وہ دکان میں چلی آئی۔ اس نے دیکھا کہ موچی کے ہاتھوں میں بہت ہی خوبصورت اور عمدہ ترین جوتے موجود ہیں۔ موچی نے اس کو بتلایا کہ جب اس نے دکان کا دروازہ کھولا تواس کو یہ جوتے اپنی میز پر بالکل تیار حالت میں ملے تھے۔ " کیا تمہیں یقین ہے کہ تم نے ان کو تیار نہیں کیا موچی کی بیوی نے جوتوں کا جوڑا پکڑتے ہوئے کہا۔ "تم رات کو بہت زیادہ تھکے ہوئے تھے۔ شاید تمہیں یاد نہ ہو کہ تم کیا کام کر چکے تھے۔ تم اچھی طرح یاد کرو۔ میرا تو خیال ہے کہ تم نے ہی یہ جوتے بنائے ہیں۔ بھلا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جوتے خود بخود ہی سل جائیں۔ ارے دیکھو تو سہی کس قدر عمدہ جوتے ہیں“

نہیں، نہیں۔ مجھے بالکل یقین ہے کہ ان جوتوں کو میں نے نہیں بنایا اور یاد کرو کہ جب میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں یہ جوتے تیار کر کے ہی کھانا کھاؤں گا تو تم نے ہی تو کہا تھا کہ ان چمڑے کے ٹکڑوں کو یہیں پڑا رہنے دو اور صبح تازہ دم ہو کر کام کرنا ۔ “

موچی نے پُریقین انداز میں کہا اس کے لب و لہجے میں کسی قسم کا شک وشبہ شامل نہیں تھا۔ اس کی بیوی نے بھی اس کی بات کو تسلیم کیا کیونکہ واقعی اس نے ہی تو کہا تھا۔ اور اس نے چمڑے کے کٹے ہوئے ٹکڑے میز پر رکھے تھے۔

پیارے بچو! آج موچی نے بہت کام کیا۔ بلکہ ان جوتوں کو اس نے بڑے ہی قیمتی جوتوں کی طرح فروخت کیا۔ شام کو موچی نے ایک جوڑا جوتوں کا اور کاٹا۔ اب نے اسی طرح چمڑے کے کٹے ہوئے ٹکڑوں کو پڑا رہنے دیا اور رات کا کھانا کھا کر سو گیا۔ اس نے سوچا کہ دیکھتے ہیں کہ آج رات کیا ہوتا ہے۔ اگلی صبح موچی بڑے جوش و خروش سے دکان کی طرف بڑھا۔ آج اس نے سویرے سویرے جاگنا پسند کیا اور ناشتہ کئے بغیر ہی اپنی دکان میں چلا آیا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ رات کو اس نے جو چمڑے کے ٹکڑے میز پر رکھے تھے ان کا کیا بنا۔ اس نے وہاں دیکھا کہ اس نے جو چمڑے کے ٹکڑے کاٹ کر رکھے تھے۔ ان کی جگہ نہایت ہی اعلیٰ قسم اور فیشن کے جوتے تیار پڑے تھے۔ یہ جوتے بھی بہت عمدگی سے تیار کئے گئے تھے اور یوں لگتا تھا کہ انہیں کسی بہت ہی ماہر کاریگر نے بڑی محنت سے تیار کیا ہے۔

اس نے خوشی سے چلاتے ہوئے اپنی بیوی کو آواز دی۔ اس مرتبہ اس کی بیوی اس کی پہلی آواز پر ہی دوڑی چلی آئی۔ موچی نے اپنی بیوی سے کہا۔ اس مرتبہ تو کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ میں نے اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے اور جانتے بوجھتے ہوئے ان ٹکڑوں کو اپنے کام کرنے والی میز پر رکھا تھا۔ مگر ان ٹکڑوں کی جگہ پر اس قدر خوبصورت جوتے تیار ہیں۔ تم دیکھ رہی ہو ناں۔ کس قدر خوبصورت جوتے ہیں۔ اب تو تمہیں بھی کوئی شک نہیں ہو گا۔“

ہاں، ہاں۔ لگتا ہے کہ ہماری قسمت بدلنے والی ہے۔“ اس کی بیوی نے مسکراتے ہوئے کہا "لگتا ہے کہ کسی مہربان ان دیکھی مخلوق نے ہمارے برے دنوں کو دور کرنے کے لئے ہماری مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔“



چند دنوں کے بعد اس موچی کی دکان میں ایک رئیس خاتون آئی۔ اس نے جوتوں کی اس دکان کو بہت سراہا۔ وہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ جب اس نے بہت ہی عمدہ جوتے تیار دیکھے۔ اس امیر خاتون نے یہ جوڑا مہنگے داموں خرید لیا اور ان کو اپنے رشتے داروں اور ملنے جلنے والوں کو دکھلایا۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے اس موچی کی دکان پر جوتوں کے خریداروں کا رش لگ گیا۔ ہر بندے کی خواہش تھی کہ اس کا جوتا پہلے تیار ہو۔

ارے بھائی! میں دیکھوں گا کہ میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں۔ مجھے کچھ وقت تو دو بوڑھا موچی سب سے یہی کہتا۔ سارا دن موچی گاہکوں سے آرڈر لیتا رہا۔ اور سب سے یہی کہتا رہا اس روز موچی نے ایک بھی جوتے کی سلائی نہیں کی۔ بھلا وہ گاہکوں سے باتیں کرتا یا کوئی کام کرتا۔ مگر اس نے جوتوں کی کٹائی کا کام جاری رکھا۔

اس شام موچی نے تمام جوتوں کی کٹائی کر کے اپنے کام کرنے والی میز پر رکھے اور کھانا کھا کر بڑے مزے سے سو رہا۔ آج کی رات اس کو یقین تھا کہ پہلے کی طرح آج بھی تمام جوتے تیار ہو جائیں گے۔ صبح اس کے لئے خوشیوں کا پیغام لائی تھی۔ وہ بڑا ہی خوش ہوا جب اس نے دیکھا کہ پہلے کی مانند آج بھی جوتے تیار تھے۔ تمام جوڑے بہت شاندار حالت میں تھے اور دور سے ہی بڑے خوبصورت دکھائی دے رہے تھے۔ موچی نے تمام جوتوں کو باری باری باریک بینی سے دیکھا۔ مگر ان جوتوں میں اس کو کسی قسم کا کوئی بھی نقص دکھائی نہ دیا۔

پیارے بچو! اگلے چند مہینوں میں موچی شہر کا مشہور و معروف موچی بن گیا۔ موچی اور اس کی بیوی بڑی آرام دہ زندگی گزارنے لگے۔ اب ان کے پاس چند مشہور کاریگر بھی تھے اور ان کو کام تلاش کرنے کی بھی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ لوگ دور دور سے ان کے پاس جوتوں کے لئے آتے۔ اب موچی غریب موچی نہ تھا۔ بلکہ موچی کے حالات کافی بدل چکے تھے۔ آخر ایک روز موچی کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا۔ میرے سرتاج! ہمیں آج کی رات جاگنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ آخر کون مہربان ہمارے اوپر احسان کر رہا ہے۔ ہمیں آخر پتہ بھی تو چلے"

چنانچہ اس رات موچی نے تمام کٹے  ہوئے چمڑے کے ٹکڑوں کو حسب معمول میز پر رکھا مگر سونے کےلئے اپنے کمرے میں نہیں گیا۔موچی اور بیوی دونوں جاگتے رہے۔دونوں نے گھر میں کھلنے والےدروازے کی اوٹ سےدیکھنے کا فیصلہ کیا۔

دکان میں انہوں نے دیکھا کہ آدھی رات کے وقت نہایت دبے قدموں کی آواز سے دو بونے دکان میں آرہےتھے۔ انہوں نے آکر پہلے تو میز کےپاس موم بتی کو روشن کیا اور پھردونوں بو نے میز کے اطراف میں بیٹھ گئے۔ انہوں نے سنا کہ دونوں بو نے آپس میں خوب مذاق رہے تھے اور ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے مگر وہ بہت تیزی کے ساتھ کام بھی کر رہے تھے اور اس قدر تیزی کے ساتھ کہ کوئی انسان نہیں کر سکتا تھا۔

موچی اور اس کی بیوی نے دیکھا کہ دونوں بونے بڑی تیزی کے ساتھ جوتے تیار کر رہے تھے سلائی اور جڑائی اس قدر تیزی سے کر رہے تھے کہ ان کو دیکھنا بھی محال ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں انہوں نے دیکھا کہ دونوں بو نے اپنا کام ختم کر چکے تھے۔ اچھا تو یہ وہ انجان مہربان تھے جنہوں نے ہماری غربت کو ہم سے دور کیا اور ہماری اس وقت مدد کی جب کوئی بھی مدد کرنے کے واسطے تیار نہ تھا۔ یہاں تک کہ ہمارے بچے بھی ہمیں چھوڑ کر جا چکے تھے۔ دونوں میاں بیوی چپکے سے یہ بہت کچھ دیکھ کر اپنے گھر میں لوٹ آئے۔ انہوں نے سوچا کہ ان لوگوں سے بات کرنے کا فائدہ نہیں ہے اور معلوم نہیں کہ یہ بات کرنے سے ناراض ہی ہو جائیں۔ " تم نے دیکھا کہ کس قدربو سیدہ لباس ان بونوں نے پہن رکھا تھا۔ “ موچی کی بیوی نے موچی سے بطور یاد دہانی کہا انہوں نے چونکہ ہماری بہت زیادہ مدد کی ہے۔ چنانچہ ہمیں بھی چاہئے کہ ان کا شکریہ ادا کریں۔ میں نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ ان دونوں کو ایک ایک کپڑوں کا جوڑا خود تیار کر کے دوں گی۔ آخر وہ ہمارے محسن ہیں۔ ان کا احسان تو ہم ساری زندگی بھی نہیں اتار سکتے۔ موچی نے اپنی بیوی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اس کی بیوی نے چند دن مسلسل سلائی کر کے ان دونوں کے لئے بہت ہی عمدہ گرم کپڑوں کے جوڑے تیار کئے۔ اس کے خیال میں یہ کپڑے دونوں بو نے بہت پسند کریں گے۔ موچی کی بیوی نے ان کے قد کاٹھ کا خوب اندازہ کر لیا تھا۔ جب کپڑے تیار ہو گئے تو موچی کی بیوی نے ان کو اچھی طرح چیک کرنا مناسب سمجھا اور اپنے شوہر کو بھی دکھلایا۔ اس کے شوہر نے بھی ان کپڑوں کو بہت پسند کیا۔ چنانچہ موچی نے چمڑنے کے کٹے ہوئے ٹکڑوں کے ساتھ ہی یہ کپڑے بھی رکھ دئیے ۔ اس رات موچی اور اس کی بیوی نے یہ دیکھنے کا ارادہ کیا کہ ان کپڑوں کو دیکھ کر ان بونوں کا رد عمل کیا ہو گا۔ چنانچہ دروازے کی اوٹ میں دونوں کھڑے ہو گئے کہ دیکھیں تو بھلا ان کے محسنوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔ اس مرتبہ بھی آدھی رات کو دونوں بو نے آئے اور موم بتی کو روشن کیا۔ دونوں نے کپڑوں کے جوڑوں کو بڑی دلچسپی کے ساتھ دیکھا۔ موچی اور اس کی بیوی نے دیکھا کہ دونوں بو نے کپڑوں کو بڑے شوق سے پکڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ دونوں نے کپڑوں کو پہن کر دیکھا اور خوش ہوئے کہ یہ تو بہت ہیں آرام دہ اور گرم ہیں۔ ان میں ایک نے دکان کے دروازے کی طرف جاتے ہوئے اپنے ساتھی سے مسکراتے ہوئے کہا۔

ارے بھائی! مجھے تو میری اجرت مل گئی ہے۔ میں تو چلا۔ “ اس کے دوسرے ساتھی نے بھی خوش دلی سے کہا کہ ”ہاں! میرے خیال میں تم ٹھیک ہی کہتے ہو۔ اب ہمیں یہاں مزید کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب یہ لوگ خاصے خوشحال ہو چکے ہیں۔ ہمیں اب دوسرے ضرورت مند لوگوں کی فکر کرنی چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کو اب ہماری ضرورت نہیں ہے۔" اس رات کے بعد دونوں بو نے موچی کے گھر دوبارہ کبھی نہیں آئے۔ مگر موچی اور اس کی بیوی کو ان کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ ان دونوں بونوں کی بدولت اب موچی اور اس کی بیوی خاصے خوشحال ہو چکے تھے۔ اکثر وہ باتوں باتوں میں اپنے مہربان بونوں کو ضرور یاد کرتے اور دعائیں دیتے۔ جنہوں نے ان کی تکلیف دہ زندگی کو آرام دہ زندگی میں بدل ڈالا تھا۔

#Rahem Dil Boney #naushadali19881 #AreeBTLM #https://teachingadds.blogspot.com 

Komal Joya

کومل جوئیہ کی شاعری کا فنی Funny 😉جائزہ _________________________ نعیم سلیم، مالیگاؤں مہاراشٹر انڈیا  🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺 *منسوب چراغوں سے طر...